سب کے
سامنے سمجھانے کے نقصانات از بنت طفیل الرحمان،فیض مدینہ نارتھ کراچی
حضرت ابو
درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: جس نے اپنے بھائی کو سب کے سامنے نصیحت کی اس نے
اسے ذلیل کیا اور جس نے تنہائی میں نصیحت کی اس نے اسے آراستہ کیا۔ (تنبیہ الغافلین،
ص 48)
حضرت بی بی ام
درداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس نے اپنے بھائی کو چپکے سے سمجھایا تو اس نے
اسے زینت بخشی اور جس نے اسے اعلانیہ اور لوگوں کے سامنے سمجھایا تو اس نے اپنے
بھائی کو عیب لگایا۔ (شعب الایمان، 6/112، حدیث:7641)
حضرت امام
شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس نے اپنے بھائی کو تنہائی میں سمجھایا اس نے
اسے نصیحت کی اور زینت بخشی اور جس نے سب کے سامنے سمجھایا اس نے اسے رسوا و بد
نام کیا۔ (احیاء العلوم، 2/225)
سمجھانا بھی
ایک فن ہے، اگر واقعی درست طریقے اور اچھے انداز سے تنہائی میں سمجھایا جائے تو
ایک عظیم نیکی بھی ہے۔ جی ہاں! مسلمان کی اصلاح کی نیت سے اس کے عیوب پر تنبیہ
کرنا اسے نصیحت و خیر خواہی کرنا ہے جو دین اسلام کا ایک مضبوط اور مستحکم ستون ہے
مگر جب یہ کلام لوگوں کے مجمع میں کیا جائے تو اسے ڈانٹ ڈپٹ اور بے عزتی شمار کیا
جاتا ہے جو مسلمان کی رسوائی کرنا ہے جیسا کہ فرامین سے واضح ہو رہا ہے۔
سمجھانے کے
لیے لازمی ہے کہ نصیحت و فضیحت کے فرق کو جانا جائے، ناپسندیدہ بات پر تنہائی میں
سمجھانا نصیحت اور سب کے سامنے سمجھانا فضیحت (یعنی رسوائی) کہلاتا ہے اور یہ
انتہائی برا طریقہ ہے۔
لوگوں کے
سامنے سمجھانے میں رضائے الہی کی نیت بھی درست ہو ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے، ڈانٹ
ڈپٹ کر یا سب کے سامنے سمجھانے سے نصیحت بھی پرتاثیر نہیں رہتی، ہو سکتا ہے کہ
سامنے والا چپ ہو کر آپ کی سن بھی لے لیکن دلی طور پر اپنی اصلاح کے لیے کبھی تیار
نہ ہو، حضرت مسعر بن کدام رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کی گئی: آپ اس آدمی کو پسند کرتے
ہیں جو آپ کو آپ کے عیوب سے آگاہ کرے؟ تو اپ نے فرمایا: اگر وہ تنہائی میں مجھے
نصیحت کرے تو ٹھیک ہے اور اگر لوگوں کے سامنے سمجھائے تو نہیں۔ (قوت القلوب، 2/370)
سب کے سامنے
سمجھانے میں انسان اپنی ذلت محسوس کرتا ہے۔
سمجھانے والے
کے خلاف دل میں بغض وکینہ پیدا ہو جاتا ہے۔
بعض اوقات نفس
ضدی ہو جاتا ہے اور مزید غلط پر ابھارنے کا سبب بنتا ہے۔
فرد اپنی غلطی
ماننے کے بجائے دفاعی رویہ اختیار کر لیتا ہے، جس سے اصلاح کا مقصد فوت ہو جاتا
ہے۔
اکثر اوقات سب
کے سامنے سمجھانا منفی نتائج کا ہی حامل ہوتا ہے اگرچہ سمجھانے والے والدین یا
استاد ہی کیوں نہ ہو، یہ عمل نہ صرف تعلقات میں دوری اور ادب کے درجات میں کمی کا
سبب بنتا بلکہ فرد کو نافرمانی کی جانب تیزی سے پروان چڑھاتا ہے نیز انسان میں
شدید نفسیاتی دباؤ کو پیدا کرتا ہے، شرمندگی اور حوصلہ شکنی کی وجہ سے سیکھنے کے
بجائے انسان میں خوف پیدا ہوجاتا ہے جس سے ان کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
علاوہ والدین
اور استاد بھی بالخصوص بڑے بہن بھائی! مہمانوں کی محفل ہو یا دوستوں کی بیٹھک
بعضوں کو سمجھانے کے نام پہ جا بے جا سب کے سامنے ٹوکتے رہنے کی عادت ہوتی ہے۔ یاد
رکھیے اس طرح سمجھانے سے سلیقہ اور نکھار کے بجائے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
الغرض کوئی
بھی رشتہ یا منصب ہو سبھی کو اپنے مقصد اور نیت کا محاسبہ کر لینا چاہیے نیز مومن
کی رسوائی کرنا ممنوع اور اصلاح کرنا ثواب۔
لہذا! سمجھانے
یا غلطی کی اصلاح کے لیے تنہائی میں بات کرنا بہترین طریقہ ہے اور یہی زیادہ مؤثر
ہے۔ہمارے بزرگان دین کا سمجھانے کا مبارک انداز یہی ہواکرتا تھا اور خود پیارے آقا
کریم ﷺ کا دلکش انداز یہ ہوتا کہ جب کسی کی کوئی ناگوار بات معلوم ہوتی تو اس کا
لوگوں میں پردہ بھی رکھتے اور اصلاح کے لیے یوں ارشاد فرماتے: لوگوں کو کیا ہو گیا
جو ایسی ایسی بات کہتے ہیں۔ (ابوداود، 4/328، حدیث: 4788)
سبحان اللہ
کیسا پیارا انداز،کاش! ہمیں بھی اصلاح کا ڈھنگ آجائے، ہمارا تو اکثر حال یہ ہوتا
ہے کہ اگر کسی کو سمجھانا بھی ہو تو بلا ضرورت شرعی سب کے سامنے نام لے کر یا اسی
کی طرف دیکھ کر اس طرح سمجھائیں گے کہ تمام کی تمام پولیں ہی کھول کر رکھ دیں،
اپنے ضمیر سے پوچھ لیجیے کہ یہ سمجھانا ہوا یا اسے ذلیل (degrade)
کرنا ہوا؟ اس طرح سدھار پیدا ہوگا یا مزید بگاڑ بڑھے گا؟
اللہ پاک ہمیں
سنتوں پر عمل کرتے ہوئے اخلاص کے ساتھ درست طریقے سے اصلاح کرنے کا جذبہ عطا
فرمائے۔
Dawateislami