رسولِ اکرم،حضرت محمدﷺ  کی حیاتِ طیبہ کا سب سے نمایاں پہلو آپ کی اللہ پاک سے بے پناہ محبت اور تعلق ہے۔قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ،ہر سانس اور ہر عمل صرف اور صرف اللہ پاک کی رضا اور محبت کے حصول کے لیے وقف تھا۔

قرآنِ مجید میں اظہارِ محبت:

اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺکے بارے میں فرمایا:وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)(پ29،القلم:4) ترجمہ: اور بیشک تم یقیناً عظیم اخلاق پر ہو ۔

یہ عظیم اخلاق در اصل اللہ پاک کی محبت اور قرب کی وجہ سے ہی تھے۔مزید فرمایا: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اس بات کی گواہی ہے کہ حضور خود اللہ کے محبوب ہیں اور آپ کی اتباع ہی اصل محبتِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔

سیرتِ مبارکہ سے شواہد:

1 :عبادت میں محبت کا اظہار:

حضور راتوں کو قیام فرماتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں مبارک سوج جاتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہ اللہ کی محبت ہی تھی کہ آرام چھوڑ کر راتوں کو رب کے حضور کھڑے رہتے۔

2 :دعاؤں میں محبت کا انداز:

رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا کرتے: اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501) یہ دعا حضور کے دل کی گہرائی میں اللہ سے محبت کی جھلک پیش کرتی ہے۔

3:دعا طائف کے موقع پر:

اے اللہ! اگر تُو مجھ سے راضی ہے تو مجھے کسی کی پروا نہیں۔ (سیرت نبویہ لابن ہشام، 1/ 419)

4:اللہ کی محبت کا انعام:

اللہ پاک نے بھی اپنے حبیب ﷺکی اس محبت کے بدلے میں بے مثال قرب عطا فرمایا۔قرآن میں ارشاد ہے:مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى(۱۷)(پ27،النجم:17)ترجمہ: آنکھ نہ کسی طرف پھری نہ حد سے بڑھی۔

یعنی معراج کی رات جب آپ نے اپنے رب کا قرب پایا تو نہ نگاہ بہکی اور نہ حد سے بڑھی۔یہ قربِ خاص اس محبت کا ثبوت ہے جو اللہ پاک نے اپنے نبی ﷺکو عطا فرمایا۔

حضورﷺ کی اللہ پاک سے محبت ایک کامل اور مثالی محبت ہے۔یہ محبت صرف زبانی دعوؤں تک محدود نہ تھی بلکہ ہر عمل،ہر عبادت اور ہر فیصلے میں جھلکتی تھی۔آپ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی کامیابی اللہ سے محبت اور اس کی رضا میں ہےاور اس محبت تک رسائی صرف اور صرف اتباعِ رسول کے ذریعے ممکن ہے۔اللہ پاک ہمیں زیادہ سے زیادہ سیرتِ مصطفےٰ کا مطالعہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔