حضور کی اللہ پاک سے محبت از بنتِ سید ابرار حسین،جیل روڈ پاکپورہ سیالکوٹ
کائنات میں
اللہ پاک کی سب سے زیادہ معرفت رکھنے والی
شخصیت ہمارے آقا و مولیٰ، محمد مصطفی ﷺ ہیں۔لہٰذا سب سے زیادہ محبتِ الٰہی بھی آقا ﷺکو
حاصل ہے۔جب محبت زیادہ ہوتی ہے تو محبوب کی ناراضی کا خوف بھی زیادہ ہوتا ہے۔آقا ﷺ تمام
لوگوں سے بڑھ کر اللہ پاک کا خوف رکھنے
والے ہیں۔
آقا ﷺ کی تمام
زندگی اللہ پاک کی معرفت،محبت،اطاعت،بندگی اور عشقِ الٰہی سے بھرپور تھی۔حضورِ
اقدسﷺ ہر حالت میں اللہ پاک کو یاد کرتے،چلتے پھرتے،بیٹھتے اٹھتے،سوتے جاگتے یادِ
الٰہی میں مصروف رہتے۔بدن کے ساتھ ساتھ آقا ﷺ کا پاکیزہ دل ہمیشہ اللہ پاک کی یاد میں محو ہوتا تھا۔
آقا کریم ﷺ پر
خوفِ خدا کے سبب بہت گریہ طاری ہوتی تھی۔نمازمیں کھڑے ہوتے تو سینے سے ہنڈیا میں
ابالے آنے کی طرح کی آواز سنائی دیتی۔
آقا ﷺ کی اللہ
پاک سے محبت آقا ﷺ کے قول و فعل سے ظاہر ہوتی تھی اور یہ ہمارے لیے بہترین نمونہ
ہے ۔
حضور ﷺ نے
ارشاد فرمایا:میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔(نسائی،ص 644،حدیث:3946)
جب نماز کا
وقت آتا تو نبیِ کریم ﷺ حضرت بلال سے فرماتے:اے بلال!نماز سے ہمیں راحت پہنچاؤ۔(یعنی اے بلال!اذان دو تاکہ ہم نماز میں مشغول ہوں اور
ہمیں راحت ملے)۔(ابو
داود،4/385،حديث:4985 )اور
جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو خوب خشوع و خضوع سے نماز ادا فرماتے۔
حضرت عائشہ صدیقہ
رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اور آقا ﷺ
گفتگو فرمارہے ہوتے تھے،جب نماز کا وقت ہوتا تو ہم یوں ہو جاتے جیسے ہم ایک دوسرے کو جانتے ہی نہیں۔(مستطرف ،1/14)
یعنی آقا ﷺ ہر
چیز سے بڑھ کر اللہ پاک سے محبت فرماتے تھے۔جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کامل توجہ سے ادا فرماتے۔لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ ہم سب سے زیادہ محبت اپنے
خالق و مالک سے کریں اور خوب خشوع و خضوع سے نماز ادا کریں۔
آئیے!آقا ﷺ کی
اللہ پاک سے محبت پر دلالت کرنے والی احادیثِ طیبہ ملاحظہ ہوں:
محبتِ الٰہی میں قیامِ لیل (راتوں کا قیام):
آقا ﷺ سیّد
المعصومین ہونے کے باوجود اللہ پاک کی محبت میں راتوں کو قیام فرمایا کرتے تھے۔آئیے!حدیثِ مبارک ملاحظہ فرمائیے:
حضرت عائشہ رضی
اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺرات
کو اتنی دیر عبادت کرتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول
اللہ!اللہ پاک نے تو آپ کے وسیلے سے آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف فرما دیئے ہیں،پھر
آپ اتنی مشقت کیوں کرتے ہیں؟آپ نے فرمایا:
کیا میں اللہ پاک کا شکر گزار بندہ بننا
پسند نہ کروں؟(بخاری،3/329 ،حدیث:4837)
یہ حدیثِ
مبارک آقاﷺ کی اللہ پاک سے گہری محبت پر دلالت کرتی ہے۔
دعا
میں اللہ پاک کی محبت کا اظہار:
آقا ﷺ ہماری
تعلیم کے لیے اللہ پاک کی محبت طلب کرنے کے لیے یوں دعا بھی کیا کرتے تھے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ
وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ
إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت
مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت
کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔
(ترمذی،5/296،حدیث:3501)
اللہ پاک پر کامل بھروسا (تَوَکُّل):
حضور کا اللہ پاک پر ایمان اور بھروسا بے مثال تھا۔جب آپ غارِ ثور میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے
ساتھ تھے اور دشمن بالکل قریب آ گیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی:یا
رسول اللہ!اگر وہ نیچے دیکھ لیں تو ہمیں دیکھ لیں گے۔آپ نے فرمایا:لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ
مَعَنَاۚ-(پ10، التوبۃ:40)ترجمہ: غم نہ کھا
بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
یعنی آقا ﷺ کو
اپنے ربِّ کریم سے محبت تھی اور اسی پر کامل یقین بھی تھا۔
کہتے ہیں کہ محبت اطاعت کرواتی ہے۔آقا ﷺ کو اپنے اللہ پاک سے اتنی محبت تھی کہ ربِّ کریم کے حکم پر عمل فرمانے میں جلدی فرماتے تھے۔
آقا ﷺ اپنی
ذات کے لیے غصہ نہ فرماتے لیکن جہاں حقوق
اللہ کا معاملہ ہوتا،دینی حکم کی خلاف ورزی ہوتی تو تب تک آپ کا غضب ختم نہ ہوتا
جب تک اس سے بدلہ نہ لے لیتے۔
اللہ پاک ہمارے آقا ﷺ کے صدقے ہمیں اپنی اور اپنے محبوب ﷺ کی سچی پکی
حقیقی محبت و عشق عافیت کے ساتھ عطا
فرمائے،ہمیں اپنی مقبول بندیوں میں شامل فرمائے،اس تحریر کو اپنی بارگاہ میں قبول
فرمائے اور غلطیوں، کوتاہیوں سے در گزر فرما کر ہمیں دونوں جہانوں میں سرخرو
فرمائے ۔آمین بجاہِ خاتم النبیین ﷺ
رسول اللہ ﷺ کی اللہ پاک سے محبت کا بیان ایک وسیع اور گہرا
موضوع ہے۔حضور اکرم ﷺکی زندگی اللہ پاک کی
محبت اور تعلق کا روشن نمونہ ہے۔
چند پہلوؤں سے
آپ کی اللہ پاک سے محبت کا اندازہ لگایا
جا سکتا ہے:
1:عبادات میں انہماک:رسول اللہ ﷺ کی نماز،روزہ اور دیگر
عبادات میں گہری لگن اور خشوع و خضوع آپ کی اللہ پاک سے محبت کی عکاسی کرتا ہے۔
2 :قرآن سے تعلق:آپ پر نازل ہونے والا قرآن آپ کی اللہ پاک سے محبت اور اللہ پاک کے پیغام کو انسانیت
تک پہنچانے کی کوشش کا ثبوت ہے۔
3:دعائیں اور مناجات:رسول اللہ ﷺکی دعائیں،جیسا کہ یاحی یاقیوم اور
دیگر مناجات،آپ کی اللہ پاک سے گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہیں۔
4:قربانیاں:آپ نے دینِ
اسلام کی سربلندی کے لیے بے شمار مصیبتیں برداشت کیں،جو اللہ پاک کی رضا کے لیے آپ کی محبت و اخلاص کا ثبوت
ہے۔
5:اخلاق اور کردار:آپ کا حسنِ اخلاق،رحمت اور عفو و در گزر
آپ کی اللہ پاک کی صفات کے مطابق زندگی
گزارنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔
حضور کی سیرتِ مبارکہ ہمیں اللہ پاک سے محبت اور
تعلق کی اہمیت سکھاتی ہے اور ہمیں حضور اکرم ﷺکے نقش ِقدم پر چلنے کی ترغیب دیتی ہے۔
رسول
اللہ ﷺکی اللہ پاک سے محبت کا بیان ایک ایمان
افروز موضوع ہے۔آپ کی اللہ پاک سے محبت
اور تعلق کا انداز بے مثال تھا۔آپ اللہ پاک
کی عبادت میں مشغول رہتے،ذکر کرتے اور
اللہ پاک کی رضا کے لئے ہر کام کرتے۔
آپ کی محبت اللہ پاک سے اس قدر تھی کہ آپ راتوں کو نماز میں کھڑے ہو کر اللہ پاک سے راز
و نیاز کرتے۔اللہ پاک نے آپ کی محبت کو
اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال دیا تھا۔
رسول
اللہ ﷺکی اللہ پاک سے محبت کا اظہار آپ کی
سیرتِ طیبہ اور احادیثِ مبارکہ میں جگہ جگہ موجود ہے جو آپ کی اللہ پاک سے محبت کو ظاہر کرتے ہیں:
1:شبِ معراج:معراج کی رات کو اللہ پاک سے آپ کا قرب اور دیدار،آپ کی اللہ پاک سے محبت اور
تعلق کی ایک نمایاں مثال ہے۔
2 :عبادت میں خشوع:آپ کی نماز اور دیگر عبادات میں خشوع و خضوع آپ کی اللہ پاک سے محبت کی گہرائی
کو ظاہر کرتا ہے۔
3 :اللہ پاک کی عظمت کا بیان:آپ اللہ پاک کی عظمت اور بزرگی کا ذکر کرتے ہوئے
فرمایا کرتے تھے کہ اللہ پاک کی عظمت کا حق ادا کرنا مشکل ہے۔
4 :اللہ پاک کی رضا کی طلب:آپ کی زندگی کا محور اللہ پاک کی رضا اور خوشنودی کو بنانا تھا۔آپ نے فرمایا:بے شک میں اللہ پاک کی رضا میں راضی ہوں۔
5:دعائیں اور مناجاتیں:آپ کی دعاؤں اور مناجاتوں میں اللہ پاک کے ساتھ ایک گہرا تعلق اور محبت جھلکتی
ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے:اے اللہ!میں تیری ہی
عبادت کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں۔
6:صبر اور شکر:اللہ پاک کی رضا کے لیے آپ کا صبر اور شکر آپ کی اللہ پاک سے محبت کی ایک روشن مثال ہے۔آپ نے فرمایا:مومن کے معاملے میں تعجب ہے کہ اس کا
ہر کام اس کے لیے خیر ہے۔
آپ کی اللہ پاک سے محبت ایک ایسی مثال ہے جو ہمیں
اللہ پاک کی محبت اور اطاعت کی طرف راغب کرتی ہے۔
Dawateislami