حضور  کی اللہ پاک سے محبت کے پہلو

ہر حال میں اللہ پاک کا ذکر:

حضور کا معمول یہ تھا کہ کھانا کھاتے،سفر کرتے،بستر پر جاتے،جاگتے،بارش برستے، ہوا چلتے ہر موقع پر اللہ پاک کا ذکر فرماتے۔قرآنِ مجید میں اللہ پاک نے فرمایا:الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ(پ4،ال عمرٰن:191)ترجمہ:جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ اس آیت کا اولین مصداق حضور اقدس ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے یعنی وہ بندۂ خدا جس کا کوئی سانس اللہ پاک کے ذکر سے خالی نہ ہو۔

شکر گزاری میں سب سے آگے:

اگر دنیا میں کسی نے شکر کی حقیقت کو سمجھا ہے تو وہ حضور ﷺہیں۔کھجور اور پانی پر بھی الحمد للہ کہتے اور اگر روٹی اور گوشت مل جائے تو مزید عاجزی اختیار کرتے۔

آپ کی سادہ زندگی اللہ پاک کی محبت اور شکر کے اعلیٰ ترین معیار کی علامت تھی۔

اللہ پاک کی محبت میں رحمۃ للعالمین بن جانا:

اللہ پاک نے فرمایا:وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷)(پ17،الانبياء: 107)ترجمہ:اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔

اللہ پاک سے جتنی محبت حضور ﷺ کو تھی،اتنا ہی اللہ پاک کی مخلوق سے بھی پیار کرتے،کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ مخلوق سے محبت کرنا خالق کو راضی کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ میدانِ طائف کے ظالموں کے لیے بھی بددعا نہیں فرمائی بلکہ دعا کی:اَللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَاے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے،کیونکہ یہ نہیں جانتے۔ (الشفا،1/ 105)

اللہ پاک کے لیے محبت اور دشمنی:

آپ نے پوری امت کو یہ اصول دیا:مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ،وَأَبْغَضَ لِلَّهِ،وَأَعْطَى لِلَّهِ،وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَجو اللہ پاک کے لیے محبت کرے،اللہ پاک کے لیے دشمنی رکھے، اللہ پاک کے لیے دے اور اللہ پاک کے لیے روکے،اُس نے ایمان کو مکمل کر لیا۔

(ابو داود،4/290،حدیث:4681)

یہ اصول حضور ﷺکی اپنی زندگی کا خلاصہ بھی ہے۔

محبت کا انعام:مقامِ محمود

اللہ پاک نے حضور کی اس بے مثال محبت اور اطاعت کا بدلہ یہ دیا کہ انہیں مقامِ محمود عطا فرمایا:عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا(۷۹)(پ15،بنی اسرائیل:79) ترجمہ: قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں۔

یہ وہ مقام ہے جہاں قیامت کے دن ہر نبی،ہر ولی،ہر فرشتہ بھی حضور کے قدموں میں ہوگا اور اللہ پاک خود فرمائے گا:مانگئے آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔(معجم صغیر،1/40،حدیث:103)

محبتِ رسول سے محبتِ الٰہی کا راستہ:

حضور نے فرمایا:لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتّٰى أَكُوْنَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِهٖ وَ وَلَدِهٖ وَ النَّاسِ أَجْمَعِينَتم میں سے کوئی شخص کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی جان، اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔(بخاری،1/17،حدیث: 15)یعنی اللہ پاک تک پہنچنے کا راستہ محبتِ رسول سے ہو کر گزرتا ہے۔


حضور پاک  کی اللہ پاک سے محبت کی انتہا تھی،جیسا کہ آپ نے اپنی زندگی اللہ پاک کی اطاعت اور رضا میں گزاری۔آپ اللہ پاک کے سب سے مقرب بندے تھے اور آپ کی ہر ادا،قول اور فعل اللہ پاک کی مرضی کے مطابق ہوتا تھا۔آپ کی دعاؤں اور مناجات سے اللہ پاک سے آپ کی گہری عقیدت اور محبت ظاہر ہوتی ہے۔

محبت کا اظہار:عبادت و اطاعت:

آپ نے اپنی ساری زندگی اللہ پاک کی عبادت اور اطاعت میں گزاری۔آپ اللہ پاک کو سب سے زیادہ یاد کرتے تھے اور اس کی رضا کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہتے تھے۔

قرآن کی اتباع:

آپ کی ذات قرآنی تعلیمات کا عملی نمونہ تھی۔ آپ نے قرآنِ کریم کو خود پر لاگو کیا اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر اللہ پاک سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔

کثرت سے دعائیں مانگنا:

آپ کی دعاؤں اور مناجات سے اللہ پاک سے آپ کی گہری عقیدت اور محبت واضح ہوتی ہے۔آپ نے اللہ پاک سے بہت مانگا اور ہمیشہ دعا کی کہ اللہ پاک آپ کو اپنی رضا نصیب کرے۔

اللہ پاک کی یاد:

آپ ہر وقت اللہ پاک کو یاد کرتے تھے۔آپ نے فرمایا کہ میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔(نسائی،ص 644،حدیث:3946)یہ بھی آپ کی اللہ پاک سے محبت کا واضح ثبوت ہے۔

عقیدت کا سبب:

اللہ پاک کی طرف سے آپ کو خصوصی مقام و مرتبہ عطا ہوا تھا۔آپ کو اللہ پاک نے دنیا اور آخرت میں بلند مقام دیا ہے۔

آپ کی ذات میں اخلاق و کردار کی ایسی اعلیٰ مثالیں ہیں کہ آپ کو بحیثیت انسان اللہ پاک کی محبت کا سب سے بڑا مظہر قرار دیا جاتا ہے۔

آپ اللہ پاک کے سب سے محبوب اور مقرب بندے تھے۔لہٰذاحضور پاک کی اللہ پاک سے محبت صرف زبانی دعوے تک محدود نہیں تھی،بلکہ یہ آپ کی زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں تھی۔

رسولِ اکرم ﷺ کی اللہ پاک سے محبت کا اظہار،آپ کی اطاعت و اتباع،آپ کی سیرت پر عمل اور اللہ پاک کے احکام کو سب پر ترجیح دینے میں جھلکتا ہے،جسے اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں بھی واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔آپ نے اپنی پوری زندگی اللہ پاک کی رضا کے لیے وقف کر دی اور آپ کی زندگی اللہ پاک سے سچی محبت کا عملی نمونہ ہے،جو مسلمانوں کے لیے ایمان کی بنیاد اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔

اللہ پاک کا حکم اور آپ کی اطاعت:

اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں واضح کیا ہے کہ جو اللہ پاک سے محبت رکھتا ہے،اسے رسولِ خدا ﷺ کی پیروی کرنی ہوگی۔یہ اللہ پاک کی طرف سے ایک حکم ہے کہ اگر آپ اللہ پاک کو راضی کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنی ہوگی۔

سچی محبت کا اظہار:

آپ ﷺ کی اللہ پاک سے محبت صرف زبانی دعوؤں تک محدود نہیں تھی،بلکہ آپ کی زندگی کا ہر پہلو اللہ پاک کی اطاعت اور رضا کے لیے وقف تھا۔

اطاعت کا عمل:

آپ نے اپنی زندگی کے ہر قدم پر اللہ پاک کے احکام کو ترجیح دی اور ہر لمحہ اللہ پاک سے جڑے رہے۔

سیرتِ مبارکہ پر عمل:

آپ کی زندگی اللہ پاک سے سچی محبت کا عملی نمونہ ہے اور اس محبت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم آپ کی پاکیزہ زندگی کو سیکھیں اور اس پر عمل کریں۔

مسلمانوں کے لیے پیغام:

ایمان کی بنیاد:رسول اللہ ﷺ سے محبت ایمان کا جوہر ہے اور آپ کی محبت ہی مومن کے لیے ایمان و یقین کا سر چشمہ ہے۔

دنیا و آخرت میں کامیابی:اللہ پاک اور رسولﷺ سے سچی محبت کا دعویٰ کرنے والوں کو آپ ﷺ کی سیرت پر عمل کر کے دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنی ہو گی۔

محمدی بننا:سچی محبت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنے عمل سے محمدی نظر آئیں اور زندگی کے ہر قدم پر آپ کی پیروی کریں۔

آقا ﷺ کی اللہ پاک سے محبت،اطاعت اور مکمل طور پر اللہ پاک کے احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے میں نظر آتی ہے۔

عشقِ حقیقی:آقاﷺ کی محبتِ الٰہی در اصل عشقِ حقیقی کا ہی ایک پہلو ہے۔عشق ِحقیقی ایک ایسا لا محدود جذباتی اور روحانی رشتہ ہے جو انسان کی روح کو اس کی ذاتِ اوّل(خدا) کی طرف کھینچتا ہے۔

شدتِ جذبہ:یہ کسی حسین چیز کی طرف فطری میلان ہے جو شدت اختیار کر جائے تو عشق کہلاتا ہے۔جب یہ شدت خدا کی طرف ہوتی ہے تو اسےآقا ﷺکی محبتِ الٰہی کہا جاتا ہے ۔

دنیاوی قربانی:اس محبت میں انسان اپنی ذات،مال و دولت اور تمام وابستگیوں کو خدا کی رضا پر قربان کر دیتا ہے۔

خالق کی طرف کشش:خدا جس کی مختلف مذاہب میں مختلف تعبیریں اور تصورات ہیں،کی طرف انسانی روح کی شدید کشش ہی عشقِ حقیقی کہلاتی ہے۔

مختصر یہ کہ آقا ﷺکی محبتِ الٰہی خدا سے سچی،گہری اور مکمل محبت ہے جو انسان کو اس کی طرف مکمل طور پر متوجہ کرتی ہے اور وہ اپنی ذات کو خدا کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ اللہ پاک ہمیں بھی اپنی سچی پکی محبت عطا فرمائے ۔آمین 


اللہ پاک نے اپنے محبوب نبی،حضرت محمد ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔آپ کی ذاتِ اقدس میں ہر خلقِ عظیم اور ہر صفتِ کمال اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے مگر ان تمام اوصاف میں سب سے بلند اور کامل صفت اللہ پاک سے محبت ہے۔حضور کی زندگی کا ہر لمحہ اس عشقِ الٰہی کا آئینہ ہے۔رسول اللہ ﷺکی محبت اللہ پاک کے ساتھ خالص،پاکیزہ اور بے مثال ہے۔آپ کا دل ہر وقت اپنے رب کی یاد میں مشغول رہتا ہے۔آپ  نے فرمایا :میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔(نسائی،ص 644، حدیث:3946)

یہ فرمان ظاہر کرتا ہے کہ آپ کو عبادت میں وہ لذت حاصل ہوتی تھی جو کسی اور چیز سے ممکن نہ تھی۔آپ راتوں کو طویل قیام فرماتے یہاں تک کہ قدم مبارک سوج جاتے۔ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ !آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟آپ نے فرمایا:کیا میں اس بات کو پسند نہ کروں کہ میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں۔(بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

محبت اور شکر کی انتہا :

حضور کے دل میں اللہ پاک کی محبت اس درجہ ہے کہ آپ نے اپنی زندگی اپنی خواہشات اور اپنے تمام فیصلے اللہ پاک کی رضا کے تابع کر دیئے۔قرآنِ مجید میں اللہ پاک نے آپ کے ذریعے فرمایا:اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)(پ8،الانعام:162)ترجمہ:بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مَرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رَبّ سارے جہان کا۔

یہ آیت اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ آپ کی زندگی کا مقصد صرف اللہ پاک کی خوشنودی تھا۔

ذکر و دعا میں بھی حضور کی محبت نمایاں ہے۔آپ ہر حالت میں اللہ پاک کو یاد کرتے۔ آپ کی دعاؤں میں ہمیشہ قرب و محبت کا رنگ جھلکتا۔ایک دعا فرمائی: اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

یہ دعا آپ کے قلبی تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے ۔

آپ کی اللہ پاک سے محبت کا ایک پہلو صبر و توکل بھی ہے۔طائف کے سفر میں جب لوگوں نے آپ کو سنگ بازی سے زخمی کیا تو آپ نے عرض کی:اے اللہ پاک!میں تیری بارگاہ میں اپنی کمزوری،اپنی بے بسی اور لوگوں کی نظروں میں اپنی بے وقعتی کی شکایت کرتا ہوں۔(معجم کبیر،13/52،حدیث:181)یہ الفاظ عشق و رضا کے سب سے اعلیٰ درجےکی نشانی ہیں ۔

اللہ پاک نے بھی اپنے محبوب ﷺ کو اس محبت کا جواب دیا۔چنانچہ معراج کی رات جب آپ کو اپنے حضور بلایا تو فرمایا:سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا(پ15،بنی اسرائیل:1)یہاں عبد کہنا سب سے بڑا اعزاز ہے کیونکہ بندگی ہی محبت کی معراج ہے ۔

حضور کی محبتِ الٰہی ایک ایسی روشنی ہے جو قیامت تک اہلِ ایمان کے دلوں کو منور کرتی رہے گی۔آپ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچی محبت وہی ہے جو بندگی،شکر اور اطاعت میں ڈھل جائے۔


کائنات میں اللہ پاک  کی سب سے زیادہ معرفت رکھنے والی شخصیت ہمارے آقا و مولیٰ، محمد مصطفی ﷺ ہیں۔لہٰذا سب سے زیادہ محبتِ الٰہی بھی آقا ﷺکو حاصل ہے۔جب محبت زیادہ ہوتی ہے تو محبوب کی ناراضی کا خوف بھی زیادہ ہوتا ہے۔آقا ﷺ تمام لوگوں سے بڑھ کر اللہ پاک کا خوف رکھنے والے ہیں۔

آقا ﷺ کی تمام زندگی اللہ پاک کی معرفت،محبت،اطاعت،بندگی اور عشقِ الٰہی سے بھرپور تھی۔حضورِ اقدسﷺ ہر حالت میں اللہ پاک کو یاد کرتے،چلتے پھرتے،بیٹھتے اٹھتے،سوتے جاگتے یادِ الٰہی میں مصروف رہتے۔بدن کے ساتھ ساتھ آقا ﷺ کا پاکیزہ دل ہمیشہ اللہ پاک کی یاد میں محو ہوتا تھا۔

آقا کریم ﷺ پر خوفِ خدا کے سبب بہت گریہ طاری ہوتی تھی۔نمازمیں کھڑے ہوتے تو سینے سے ہنڈیا میں ابالے آنے کی طرح کی آواز سنائی دیتی۔

آقا ﷺ کی اللہ پاک سے محبت آقا ﷺ کے قول و فعل سے ظاہر ہوتی تھی اور یہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے ۔

حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔(نسائی،ص 644،حدیث:3946)

جب نماز کا وقت آتا تو نبیِ کریم ﷺ حضرت بلال سے فرماتے:اے بلال!نماز سے ہمیں راحت پہنچاؤ۔(یعنی اے بلال!اذان دو تاکہ ہم نماز میں مشغول ہوں اور ہمیں راحت ملے)۔(ابو داود،4/385،حديث:4985 )اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو خوب خشوع و خضوع سے نماز ادا فرماتے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اور آقا ﷺ گفتگو فرمارہے ہوتے تھے،جب نماز کا وقت ہوتا تو ہم یوں ہو جاتے جیسے ہم ایک دوسرے کو جانتے ہی نہیں۔(مستطرف ،1/14)

یعنی آقا ﷺ ہر چیز سے بڑھ کر اللہ پاک سے محبت فرماتے تھے۔جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کامل توجہ سے ادا فرماتے۔لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ ہم سب سے زیادہ محبت اپنے خالق و مالک سے کریں اور خوب خشوع و خضوع سے نماز ادا کریں۔

آئیے!آقا ﷺ کی اللہ پاک سے محبت پر دلالت کرنے والی احادیثِ طیبہ ملاحظہ ہوں:

محبتِ الٰہی میں قیامِ لیل (راتوں کا قیام):

آقا ﷺ سیّد المعصومین ہونے کے باوجود اللہ پاک کی محبت میں راتوں کو قیام فرمایا کرتے تھے۔آئیے!حدیثِ مبارک ملاحظہ فرمائیے:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺرات کو اتنی دیر عبادت کرتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ!اللہ پاک نے تو آپ کے وسیلے سے آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف فرما دیئے ہیں،پھر آپ اتنی مشقت کیوں کرتے ہیں؟آپ نے فرمایا: کیا میں اللہ پاک کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟(بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہ حدیثِ مبارک آقاﷺ کی اللہ پاک سے گہری محبت پر دلالت کرتی ہے۔

دعا میں اللہ پاک کی محبت کا اظہار:

آقا ﷺ ہماری تعلیم کے لیے اللہ پاک کی محبت طلب کرنے کے لیے یوں دعا بھی کیا کرتے تھے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔

(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

اللہ پاک پر کامل بھروسا (تَوَکُّل):

حضور کا اللہ پاک پر ایمان اور بھروسا بے مثال تھا۔جب آپ غارِ ثور میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور دشمن بالکل قریب آ گیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی:یا رسول اللہ!اگر وہ نیچے دیکھ لیں تو ہمیں دیکھ لیں گے۔آپ نے فرمایا:لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ-10، التوبۃ:40)ترجمہ: غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

یعنی آقا ﷺ کو اپنے ربِّ کریم سے محبت تھی اور اسی پر کامل یقین بھی تھا۔

کہتے ہیں کہ محبت اطاعت کرواتی ہے۔آقا ﷺ کو اپنے اللہ پاک سے اتنی محبت تھی کہ ربِّ کریم کے حکم پر عمل فرمانے میں جلدی فرماتے تھے۔

آقا ﷺ اپنی ذات کے لیے غصہ نہ فرماتے لیکن جہاں حقوق اللہ کا معاملہ ہوتا،دینی حکم کی خلاف ورزی ہوتی تو تب تک آپ کا غضب ختم نہ ہوتا جب تک اس سے بدلہ نہ لے لیتے۔

اللہ پاک ہمارے آقا ﷺ کے صدقے ہمیں اپنی اور اپنے محبوب ﷺ کی سچی پکی حقیقی محبت و عشق عافیت کے ساتھ عطا فرمائے،ہمیں اپنی مقبول بندیوں میں شامل فرمائے،اس تحریر کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور غلطیوں، کوتاہیوں سے در گزر فرما کر ہمیں دونوں جہانوں میں سرخرو فرمائے ۔آمین بجاہِ خاتم النبیین ﷺ


رسول اللہ ﷺ  کی اللہ پاک سے محبت کا بیان ایک وسیع اور گہرا موضوع ہے۔حضور اکرم ﷺکی زندگی اللہ پاک کی محبت اور تعلق کا روشن نمونہ ہے۔

چند پہلوؤں سے آپ کی اللہ پاک سے محبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے:

1:عبادات میں انہماک:رسول اللہ ﷺ کی نماز،روزہ اور دیگر عبادات میں گہری لگن اور خشوع و خضوع آپ کی اللہ پاک سے محبت کی عکاسی کرتا ہے۔

2 :قرآن سے تعلق:آپ پر نازل ہونے والا قرآن آپ کی اللہ پاک سے محبت اور اللہ پاک کے پیغام کو انسانیت تک پہنچانے کی کوشش کا ثبوت ہے۔

3:دعائیں اور مناجات:رسول اللہ ﷺکی دعائیں،جیسا کہ یاحی یاقیوم اور دیگر مناجات،آپ کی اللہ پاک سے گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہیں۔

4:قربانیاں:آپ نے دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے بے شمار مصیبتیں برداشت کیں،جو اللہ پاک کی رضا کے لیے آپ کی محبت و اخلاص کا ثبوت ہے۔

5:اخلاق اور کردار:آپ کا حسنِ اخلاق،رحمت اور عفو و در گزر آپ کی اللہ پاک کی صفات کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔

حضور کی سیرتِ مبارکہ ہمیں اللہ پاک سے محبت اور تعلق کی اہمیت سکھاتی ہے اور ہمیں حضور اکرم ﷺکے نقش ِقدم پر چلنے کی ترغیب دیتی ہے۔

رسول اللہ ﷺکی اللہ پاک سے محبت کا بیان ایک ایمان افروز موضوع ہے۔آپ کی اللہ پاک سے محبت اور تعلق کا انداز بے مثال تھا۔آپ اللہ پاک کی عبادت میں مشغول رہتے،ذکر کرتے اور اللہ پاک کی رضا کے لئے ہر کام کرتے۔

آپ کی محبت اللہ پاک سے اس قدر تھی کہ آپ راتوں کو نماز میں کھڑے ہو کر اللہ پاک سے راز و نیاز کرتے۔اللہ پاک نے آپ کی محبت کو اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال دیا تھا۔

رسول اللہ ﷺکی اللہ پاک سے محبت کا اظہار آپ کی سیرتِ طیبہ اور احادیثِ مبارکہ میں جگہ جگہ موجود ہے جو آپ کی اللہ پاک سے محبت کو ظاہر کرتے ہیں:

1:شبِ معراج:معراج کی رات کو اللہ پاک سے آپ کا قرب اور دیدار،آپ کی اللہ پاک سے محبت اور تعلق کی ایک نمایاں مثال ہے۔

2 :عبادت میں خشوع:آپ کی نماز اور دیگر عبادات میں خشوع و خضوع آپ کی اللہ پاک سے محبت کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

3 :اللہ پاک کی عظمت کا بیان:آپ اللہ پاک کی عظمت اور بزرگی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ اللہ پاک کی عظمت کا حق ادا کرنا مشکل ہے۔

4 :اللہ پاک کی رضا کی طلب:آپ کی زندگی کا محور اللہ پاک کی رضا اور خوشنودی کو بنانا تھا۔آپ نے فرمایا:بے شک میں اللہ پاک کی رضا میں راضی ہوں۔

5:دعائیں اور مناجاتیں:آپ کی دعاؤں اور مناجاتوں میں اللہ پاک کے ساتھ ایک گہرا تعلق اور محبت جھلکتی ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے:اے اللہ!میں تیری ہی عبادت کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں۔

6:صبر اور شکر:اللہ پاک کی رضا کے لیے آپ کا صبر اور شکر آپ کی اللہ پاک سے محبت کی ایک روشن مثال ہے۔آپ نے فرمایا:مومن کے معاملے میں تعجب ہے کہ اس کا ہر کام اس کے لیے خیر ہے۔

آپ کی اللہ پاک سے محبت ایک ایسی مثال ہے جو ہمیں اللہ پاک کی محبت اور اطاعت کی طرف راغب کرتی ہے۔