اللہ پاک سے محبت کی حقیقت:

اللہ پاک سے محبت ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے۔مومن کا دل اللہ پاک کی محبت سے سرشار ہوتا ہے۔محبتِ الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کو سب سے زیادہ محبوب جانے،اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھےاور اس کے احکام کے مطابق اپنی زندگی بسر کرے۔

قرآنِ مجید سے اللہ پاک کی محبت:

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ- (پ2،البقرۃ:165)

ترجمہ: اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔

اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ پاک سے محبت مومن کا امتیازی وصف ہے۔ایک اور مقام پر ارشاد ہے:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یعنی اللہ پاک سے سچی محبت اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب بندہ نبیِ کریم ﷺکی سنتوں پر عمل کرے۔

سیرتِ مبارکہ سے محبتِ الٰہی کی مثالیں:

رسولِ کریم کی زندگی محبتِ الٰہی سے لبریز تھی۔آپ راتوں کو قیام میں کھڑے ہو کر اس قدر عبادت فرماتے کہ پاؤں مبارک سوج جاتے،جب عرض کی گئی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،اتنی عبادت کیوں؟تو فرمایا:أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں!(بخاری،3/329 ،حدیث:4836)

یہی محبتِ الٰہی کا کمال ہے کہ بندہ اپنے رب کے حضور بندگی میں لذت پاتا ہے۔

اللہ پاک کی محبت کا انعام:

جو بندہ اللہ پاک سے محبت کرتا ہے،اللہ پاک بھی اس سے محبت فرماتا ہے۔حدیثِ قدسی میں فرمایا:جس سے میں محبت کرتا ہوں،میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے،اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔(بخاری،4/248،حدیث: 6502)

اللہ پاک کی محبت کا سب سے بڑا انعام قربِ الٰہی ہےاور قیامت کے دن ایسے بندے عرش کے سائے میں ہوں گے جو ایک دوسرے سے صرف اللہ پاک کے لیے محبت کرتے تھے۔

محبتِ الٰہی کے تقاضے:

f اللہ پاک کے حکموں پر عمل کرنا۔

f گناہوں سے بچنا۔

f ذکر و دعا میں مشغول رہنا۔

f مخلوق سے بھلائی کرنا۔

f نبی کی سنتوں کو اپنانا۔

اختتامی دعا:

اے اللہ پاک! ہمیں اپنے حبیب ﷺکے صدقے اپنی سچی محبت نصیب فرما، ہمارے دلوں کو اپنی یاد سے آباد فرما،ہمیں اپنے حکموں پر عمل کرنے اور اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔آمین بجاہ النبی الامینﷺ