ابو
صَفی محمد علی(درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی،پاکستان)
واٹس ایپ نمبر: 03172084683
وعدہ وفائی انسانی کردار کا وہ روشن پہلو ہے جس پر
اعتماد، امن اور باہمی تعلقات کی پوری عمارت قائم ہوتی ہے۔ اسلام نے وعدے کو محض
اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ دینی فریضہ قرار دیا ہے، کیونکہ وعدہ انسان کو انسان سے
اور بندے کو اس کے رب سے جوڑتا ہے۔ وعدہ پورا کرنا صدق، دیانت اور تقویٰ کی علامت
ہے، جبکہ وعدہ خلافی نفاق، بداعتمادی اور معاشرتی انتشار کو جنم دیتی ہے۔ قرآنِ کریم
نے وعدہ وفائی کو ایمان کی علامت اور عہد شکنی کو سخت قابلِ گرفت جرم قرار دے کر
اس کی غیر معمولی اہمیت واضح فرمائی ہے۔
وعدے کی پاسداری کا قطعی حکم:اللہ
تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اپنے قول(عہد) پورے کرو۔ (سورۃ المائدۃ: 1)
اس آیت میں وعدہ
وفائی کو براہِ راست ایمان سے جوڑ دیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ پورا
کرنا محض سماجی تقاضا نہیں بلکہ ایمانی ذمہ داری ہے، اور اس میں کوتاہی ایمان کی
کمزوری کی علامت ہے۔
وعدے کے بارے میں باز پرس:اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے: وَ اَوْفُوْا
بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال
ہونا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل: 34)
یہ آیت وعدہ
وفائی کو آخرت کی جواب دہی سے جوڑ دیتی ہے اور انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ ہر
قول اور ہر عہد اللہ کی بارگاہ میں محفوظ ہے۔
اہلِ ایمان کی نمایاں صفت:اللہ
تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)
ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد
کی رعایت کرتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون: 8)
اس آیت میں وعدہ
وفائی کو اہلِ ایمان کی پہچان قرار دیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ جو شخص وعدے
کی پاسداری کرتا ہے وہ دراصل اپنے ایمان کی عملی تصویر پیش کرتا ہے۔
وعدہ خلافی اور نفاق:اللہ تعالیٰ منافقوں کی علامت بیان
کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَ
مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَىٕنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ
لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۷۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور
ان میں وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے دے گا تو ہم
ضرور صدقہ کریں گے اور ضرور نیکوں میں ہو جائیں گے۔ (سورۃ التوبہ: 75)
آگے ان کی وعدہ خلافی کا ذکر کر کے واضح کر دیا گیا کہ
عہد توڑنا نفاق کی جڑ ہے اور دل کی خرابی کی علامت ہے۔
وعدہ وفائی قرآنِ کریم کی وہ تعلیم ہے جو فرد کے کردار
کو وقار، زبان کو اعتبار اور معاشرے کو استحکام عطا کرتی ہے۔ جو شخص وعدہ پورا
کرتا ہے وہ نہ صرف لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتا ہے بلکہ اللہ کی رضا کا مستحق بھی
ٹھہرتا ہے۔ اس کے برعکس وعدہ خلافی وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے مگر انجام کار ذلت،
بداعتمادی اور خسارے کے سوا کچھ نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ بصیرت وعدہ وفائی
کو اپنی زندگی کا اصول بنا لیتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ سچا وعدہ ہی انسان کو
دنیا میں معتبر اور آخرت میں سرخرو بناتا ہے، اور یہی وہ شان ہے جسے پڑھ کر دل رشک
سے بھر جاتا ہے۔
Dawateislami