محمد فیضان عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ
المدینہ فیضان عثمان غنی کراچی ،پاکستان)
واٹس ایپ نمبر: 03442247303
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلو میں
راستی، سچائی اور دیانتداری کا درس دیتا ہے۔ ان تمام صفات میں "وعدہ وفائی"
ایک ایسی بنیادی صفت ہے جو انسانی کردار کو جلا بخشتی اور معاشرے میں باہمی اعتماد
کی فضا قائم کرتی ہے۔ قرآنِ مجید کی تعلیمات پر غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے
کہ وعدہ پورا کرنا ایک شرعی فریضہ ہے جس کی باز پرس روزِ قیامت کی جائے گی۔ اللہ
تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے واضح حکم ارشاد فرمایا ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اپنے قول(عہد) پورے کرو۔ (پارہ 6، سورۃ المائدۃ، آیت 1)
اس آیت میں لفظ "عقود" اپنے وسیع تر معنی میں
ان تمام عہد و پیمان کو شامل ہے جو انسان اپنے رب سے کرتا ہے یا جو انسانوں کے درمیان
باہمی معاملات میں طے پاتے ہیں۔ وعدہ وفائی کا یہ قرآنی تصور اس قدر مضبوط ہے کہ
اسے ایمان کا جزو قرار دیا گیا ہے، کیونکہ زبان کی پاسداری ہی وہ پیمانہ ہے جس سے
انسان کے باطنی خلوص کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔
قرآنِ کریم میں ایک اور مقام پر عہد کی اہمیت کو اس طرح
اجاگر کیا گیا ہے کہ انسان کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلایا گیا ہے۔ ارشادِ الٰہی
ہے: وَ اَوْفُوْا
بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور عہد
پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔( پارہ 15، سورۃ الاسراء، آیت 34)
یہاں "سوال ہونا" اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ
انسان دنیا میں جو زبان دیتا ہے، اسے اللہ کے ہاں ایک باقاعدہ معاہدہ تصور کیا
جاتا ہے۔ اسلامی فکر کے مطابق، وعدہ کرنا دراصل اپنی ساکھ کو گروی رکھنا ہے، اور
جو شخص اپنے وعدے کو پورا نہیں کرتا، وہ اپنی سماجی اور اخلاقی حیثیت کھو دیتا ہے۔
سچے بندوں کی تعریف کرتے ہوئے قرآن میں یہ وصف خاص طور پر بیان کیا گیا ہے کہ وہ
جب عہد کرتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں۔ یہ سوچ انسان میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی
ہے اور اسے دھوکہ دہی و کذب بیانی سے بچاتی ہے۔
نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ وعدہ وفائی کا سب سے بہترین
اور اعلیٰ نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی عہد شکنی نہیں فرمائی، یہاں
تک کہ دشمنوں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو بھی انتہائی سختی کے ساتھ نبھایا۔ احادیثِ
مبارکہ میں وعدہ خلافی کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اسے منافقت کی علامتوں میں شمار
کیا گیا ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: "آیَۃُ
الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ، وَاِذَا وَعَدَ اخْلَفَ، وَاِذَا
اؤتُمِنَ خَانَ" ترجمہ: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو
جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت
کرے۔(صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب علامۃ المنافق، جلد 1، صفحہ 24، حدیث 33،
مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)
اس فرمانِ رسول ﷺ کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے
کہ اسلام میں قول و فعل کا تضاد کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ ایک سچے مسلمان کی یہ
پہچان ہونی چاہیے کہ اس کی زبان سے نکلی ہوئی بات ایک ایسی حقیقت ہو جس پر ہر کوئی
آنکھ بند کر کے بھروسہ کر سکے۔موجودہ دور کے معاشرتی بگاڑ پر نظر ڈالی جائے تو
معلوم ہوتا ہے کہ بے سکونی اور بے اعتباری کی ایک بڑی وجہ وعدہ خلافی ہے۔ کاروبار
ہو یا سماجی تعلقات، جب انسان اپنی زبان کی اہمیت کھو دیتا ہے تو معاشرتی ڈھانچہ
بکھرنا شروع ہو جاتا ہے۔ قرآنی فکر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ "ان شاء
اللہ" کہنا کسی وعدے سے فرار کا راستہ نہیں بلکہ اللہ کی مدد مانگ کر اس عہد
کو پورا کرنے کا عزم ہے۔ ہمیں یہ سوچ عام کرنے کی ضرورت ہے کہ ہر چھوٹا بڑا وعدہ،
چاہے وہ بچوں سے کیا گیا ہو یا بڑوں سے، اس کی پاسداری لازم ہے۔ جب معاشرے کا ہر
فرد اپنی زبان کا سچا ہو جائے گا تو باہمی لڑائی جھگڑے ختم ہو جائیں گے اور عدل و
انصاف کی فضا قائم ہوگی۔
وعدہ وفائی قرآن
و سنت کی وہ روشن تعلیم ہے جو انسانیت کو بلندی عطا کرتی ہے۔ یہ محض ایک اخلاقی
قدر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تقویٰ کا ایک اہم معیار ہے۔ قرآنِ کریم کے
احکامات اور نبی کریم ﷺ کے فرامین ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ اگر ہم دنیا اور آخرت
میں کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اقوال کو افعال میں بدلنا ہوگا اور ہر حال میں
عہد کی رعایت کرنی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زبان کی حفاظت کرنے اور ہر عہد کو
سچائی کے ساتھ پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔
Dawateislami