فون نمبر: 03046224342

وعدہ وفا کرنا اسلامی تعلیمات کا نہایت اہم اور بنیادی اخلاقی وصف ہے جسے قرآن مجید نے ایمان والوں کی نمایاں صفت قرار دیا ہے ۔وعدہ دراصل ایک ذمہ داری اور امانت ہے جس کے بارے میں قیامت کے دن باز پرس ہوگی قرآن کریم ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ اور بندے دونوں کے ساتھ کیا گیا عہد پورا کرنا تقوی اور سچائی کی علامت ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت میں وعدہ وفائی کی روشن مثالیں ملتی ہیں چنانچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قرآن نےصادق الوعدفرمایا وعدہ پورا کرنا معاشرے میں اعتماد محبت اور امن کو فروغ دیتا ہے جبکہ عہد شکنی نفاق اور فساد کا سبب بنتی ہے اسی لیے قرآن کی روشنی میں وعدہ وفائی نہ صرف اخلاقی خوبی بلکہ دینی فریضہ اور کامیابی کا راستہ ہے۔

(1)وعدہ پورا کرنے کا حکم:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) ترجمہ کنزالایمان:اور عہد پورا کرو بیشک عہد سے سوال ہونا ہے۔( پارہ 15،سورۃ بنی اسرائیل: آیت 34)

تفسیرصراط الجنان :اس آیت میں ہر طرح کے عہد شامل ہیں چاہے اللہ تعالی سے کیا گیا ہو یا بندوں سے قیامت کے دن وعدوں کے بارے میں پوچھا جائے گا اس لیے وعدہ توڑنا سخت گناہ اور وعدہ پورا کرنا مومن کی بنیادی صفت ہے۔

(2)ایمان والوں کی صفت:وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا ترجمہ کنزالایمان:اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت رکھتے ہیں۔( پارہ 18، سورۃ المؤمنون: آیت 8)

تفسیر صراط الجنان:یہ کامیاب مومنوں کی صفات بیان ہو رہی ہیں امانت اور وعدہ دونوں کی حفاظت ایمان کی علامت ہے جو شخص عہد کی رعایت نہیں کرتا وہ کامل ایمان والوں کی صف میں نہیں رہتا۔

(3)اللہ کے عہد کو پورا کرو: وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا ترجمہ کنزالایمان: اور اللہ کا عہد پورا کرو جب قول باندھو اور قسمیں مضبوط کرکے نہ توڑو ۔ (پارہ 14، سورۃ النحل: آیت 91)

تفسیرصراط الجنان:اللہ کے نام پر کیا گیا وعدہ توڑنا بہت سخت جرم ہےمسلمان کی زبان معتبر ہونی چاہیے عہد شکنی معاشرے میں فساد اور بے اعتمادی پیدا کرتی ہے۔

(4)عہد پورا کرنے والے محبوبِ خدا:بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ(۷۶) ترجمہ کنز الایمان: ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا عہد پورا کیا اور پرہیزگاری کی اور بے شک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں۔ (پارہ 3،سورۃ آل عمران: آیت 76)

تفسیرصراط الجنان:وعدہ وفائی تقوی کا حصہ ہے جو شخص اپنے قول کا سچاہو وہ اللہ تعالی کی محبت کا مستحق بنتا ہے یہ آیت وعدہ پوراکرنے والوں کے لیے بڑی بشارت ہے۔

(5)نیک لوگوں کی صفت:وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا ترجمہ کنز الایمان: اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں۔( پارہ 2،سورۃ البقرۃ: آیت 177)

تفسیرصراط الجنان:حقیقی نیکی صرف ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ اخلاقی صفات بھی اس میں شامل ہیں وعدہ پورا کرنا کامل نیکی اور صالحین کی نمایاں صفت ہے۔

الغرض وعدہ وفائی قرآن کریم کی روشن تعلیم اور اہل ایمان کی پہچان ہے جو شخص اپنے عہد کا سچا ہو وہ اللہ کی محبت اور لوگوں کے اعتماد کا حق دار بنتا ہےلہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اپنے وعدوں کی حفاظت کریں تاکہ دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی نصیب ہو۔