واٹس ایپ نمبر 03121288016
وَ
اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَترجمہ کنز الایمان:اور کتاب میں
اسماعیل کو یاد کرو۔ حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ابراہیم
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فرزند ہیں اور سیّد المرسَلین ﷺ آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد سے ہیں ۔ اس آیت میں حضرت اسماعیل عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دو وصف بیان کئے گئے۔ اس میں سے ایک یہ ہے:
(1) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدے کے سچے
تھے ۔ یاد رہے کہ تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدے کے
سچے ہی ہوتے ہیں مگرآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا خصوصی طور پر ذکر کرنے
کی وجہ یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس وصف میں بہت زیادہ ممتاز
تھے، چنانچہ ایک مرتبہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوکوئی شخص کہہ گیا جب
تک میں نہیں آتا آپ یہیں ٹھہریں توآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس کے
انتظار میں 3دن تک وہیں ٹھہرے رہے۔ اسی طرح (جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ذبح کرنے لگے تو) ذبح کے وقت آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے صبر کرنے کا وعدہ فرمایا تھا، اس وعدے کو جس شان سے
پورا فرمایا اُس کی مثال نہیں ملتی۔( خازن، مریم، تحت الآیۃ: 54، 3 / 238)
اَوْفُوْا
بِالْعُقُوْدِترجمہ کنز العرفان: تمام عہد پورے کیاکرو۔ عُقود کا معنیٰ
عہد ہیں ، انہیں پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے مراد کون سے عہد ہیں اس بارے
میں مفسرین کے چند اقوال ہیں :(1) امام ابن جریج رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
نے فرمایا کہ یہاں اہلِ کتاب کو خطاب فرمایا گیا ہے اور معنیٰ یہ ہیں کہ اے اہلِ
کتاب کے مومنو! میں نے گزشتہ کتابوں میں سیدُ المرسلین ﷺ پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی
اطاعت کرنے کے متعلق جو تم سے عہد لئے ہیں وہ پورے کرو۔(2) بعض مفسرین کا قول ہے
کہ اس آیت میں خطاب مؤمنین کو ہے، انہیں اپنے عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیا
ہے۔(3) حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ ان
عقود یعنی عہدوں سے مراد ایمان اور وہ عہد ہیں جو حرام و حلال کے متعلق قرآنِ پاک
میں لئے گئے۔(4) بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس میں مؤمنین کے باہمی معاہدے مراد ہیں۔
(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: 1، 1 / 458)
وَاَوْفُوْا
بِالْعَهْدِترجمہ کنز الایمان:اور عہد پورا کرو۔ آیت میں عہد پورا
کرنے کا حکم دیا گیاہے خواہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔ اللہ
عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت کرنے کا ہے۔(روح البیان، الاسراء، تحت
الآیۃ: 34، 5 / 155، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: 34، 3 / 174، ملتقطاً)
اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ
پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا
قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد
کرکے توڑ دیتے ہیں ۔
وَ
الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ
ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی
حفاظت کرتے ہیں۔(سورۃ المعارج:32)
اس آیت میں چھٹا وصف بیا ن کیا گیا کہ (ان لوگوں میں
حرص اور بے صبری نہیں پائی جاتی) جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے
ہیں کہ امانت میں خیانت نہیں کرتے اور نہ ہی عہد توڑتے ہیں ۔ یہاں امانت میں شرعی
امانتیں اور بندوں کی امانتیں دونوں داخل ہیں اور عہد میں مخلوق کے ساتھ کئے ہوئے
عہد اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے عہد نذریں اور قسمیں بھی داخل ہیں ۔( تفسیر
کبیر، المعارج، تحت الآیۃ: 32، 10 / 646، مدارک، المعارج، تحت الآیۃ: 32، 1280)
لِاَمٰنٰتِهِمْ
وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ
ترجمہ کنز العرفان:اپنی امانتوں اور اپنے وعدے کی رعایت
کرنے والے ہیں۔(سورۃالمؤمنون:8)
اس آیت میں فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے مزید دو
وصف بیان کئے گئے کہ اگر ان کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی جائے تو وہ اس میں خیانت
نہیں کرتے اور جس سے وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں ۔
یاد رہے کہ
امانتیں خواہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہوں یا مخلوق کی اور اسی طرح عہد خدا
عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ ہوں یا مخلوق کے ساتھ، سب کی وفا لازم ہے۔( روح البیان،
المؤمنون، تحت الآیۃ: 8، 6 / 69، خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: 8، 3 / 321،
ملتقطاً)
Dawateislami