pH03323598339
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور
اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ ان ہی اعلیٰ اخلاقی اوصاف میں سے ایک
اہم وصف وعدہ وفائی ہے۔ وعدہ پورا کرنا مومن کی پہچان اور ایمان کی علامت ہے، جبکہ
وعدہ خلافی نفاق کی نشانی قرار دی گئی ہے۔ قرآنِ مجید میں بار بار وعدے کی پابندی
کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت کو مختلف انداز میں بیان فرمایا گیا ہے۔
وعدہ وفائی کا مفہوم:وعدہ
وفائی کا مطلب ہے کہ انسان جو عہد، اقرار یا بات کسی سے کرے اسے پورا کرے، خواہ وہ
اللہ تعالیٰ سے ہو یا بندوں سے۔ شریعتِ اسلامیہ میں ہر قسم کے جائز وعدے کی پابندی
لازم ہے۔
(1) وعدہ پورا کرنے کا صریح حکم:اللہ
تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ
اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)ترجمہ
کنزالایمان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد سے سوال ہونا ہے۔(سورۃ بنی اسرائیل: آیت
نمبر 34)
وَ
اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ: اور عہد پورا کرو۔ آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا
گیاہے خواہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔ اللہ پاک سے عہد اس کی بندگی
اور اطاعت کرنے کا ہے۔(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: 34، 5 / 155)
اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ
پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا
قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد
کرکے توڑ دیتے ہیں ۔
️(2) مومنوں کی صفات میں وعدہ
وفائی:اللہ تعالیٰ مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
وَ
الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)
ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو
اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون: آیت نمبر 8)
انبیائے کرام علیہم السلام کی صفتِ وعدہ وفائی:اللہ
تعالیٰ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے:-اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِترجمہ
کنز الایمان: بے شک وہ وعدے کے سچاتھا۔(سورۃ مریم: آیت نمبر 54)
یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ وعدہ وفائی انبیائے کرام کی نمایاں
صفت تھی، لہٰذا ہر مسلمان کو اس سنت کو اپنانا چاہیے۔
وعدہ وفائی کی
اہمیت:وعدہ پورا کرنا ایمان کی علامت ہے،معاشرے میں اعتماد اور
بھروسہ قائم ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے،قیامت کے دن کامیابی کا ذریعہ
ہے۔
وعدہ خلافی کے
نقصانات:اللہ تعالیٰ کی ناراضی،معاشرتی بداعتمادی،تعلقات کا ٹوٹ
جانا،نفاق کی علامت۔
حضور اکرم ﷺ کا عملی نمونہ:نبی کریم
ﷺ وعدہ وفائی میں بے مثال تھے۔ آپ ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ کیے گئے معاہدے بھی پورے
فرمائے۔ صلح حدیبیہ اس کی روشن مثال ہے جہاں بظاہر مسلمانوں کے لیے سخت شرائط تھیں
لیکن آپ ﷺ نے مکمل وفاداری کے ساتھ معاہدہ نبھایا۔
آج کے دور میں وعدہ وفائی کی ضرورت:آج
معاشرے میں جھوٹے وعدے عام ہو چکے ہیں، چاہے وہ کاروبار میں ہوں، سیاست میں یا ذاتی
تعلقات میں۔ اگر مسلمان قرآن کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے وعدہ وفائی کو اپنالیں تو
معاشرہ امن، اعتماد اور اخوت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
قرآنِ مجید کی تعلیمات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ
وعدہ وفائی ایک عظیم اسلامی اخلاق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا، مومنوں کی
صفت قرار دیا، انبیاء کی خصوصیت بتایا اور وعدہ خلافی کی مذمت فرمائی۔ لہٰذا ہر
مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے ہر جائز وعدے کو پورا کرے اور اس عظیم صفت کو اپنی
زندگی کا حصہ بنائے۔اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami