واٹس ایپ نمبر: 03172952093

وعدہ پورا کرنا اسلامی تعلیمات کا اہم ترین حصہ ہے۔ قرآن کریم و احادیث رسول میں وعدہ پورا کرنے کا حکم، اس کی اہمیت اور اس کے فضائل اور وعدہ خلافی ‏کی وعیدیں بیان ہوئی ہے ۔

وعدہ کی تعریف: ایفاء کے معنی ہیں پورا کرنا، مکمل کرنا، عہد ایسے قول اور معاملے کو کہا جاتا ہے جو کہ طے ہو یعنی ایفائے عہد: وعدہ پورا کرنا ،اپنے قول کو نبھانا ‏اور اس پر قائم رہنا ہے۔

(‏1) وعدے کی اہمیت : وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

‏ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ ( پارہ 15،سورۃ بنی اسرائیل، نمبر 34 )

حضرت سیدنا اسماعیل حقی رحمۃاللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں : آیت مبارکہ میں وعدہ پورا کرنے کاحکم دیا گیا ہے خواہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا ‏بندوں کا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت کرنے کا ہے۔ ( تفسیر خازن، الاسراء ، تحت الآیۃ :٣٤ ، ٣\١٧٤ ملتقطا)

اور بندوں سے عہد میں ہر جا ‏ئز عہد داخل ہے۔ افسوس وعدہ پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کر ‏کے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد کر کے توڑ دیتے ہیں ۔(صراط الجنان، ٥\٤٥٨)‏‎ ‎

(‏2) وعدہ پورا کرنے والوں کی شان : اللہ عزوجل فرماتا ہے :‏ الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ(۲۰) ترجمہ کنز الایمان: وہ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور قول باندھ کر(وعدہ کر کے) پھرتے نہیں۔ (پارہ 13، سورۃ رعد، آیت نمبر 20)

مفسر قرآن حضرت سَیِّدُنا اسماعیل حقی رَحْمَۃ اللهِ تَعَالَى عَلَيْہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: یعنی آخرت کا اچھا انجام اُنہی کے لئے ہے جو اللہ تعالی سے کیا ہوا ‏عہد پورا کرتے ہیں کہ اس کے رب ہونے کی گواہی دیتے ہیں اور اس کا حکم مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد اور ان معاہدوں کو توڑتے نہیں جو اُنہوں ‏نے لوگوں کے ساتھ کئے ہوئے ہیں۔ (روح البیان، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۰، ۴‏ / ‏۳۶۳) ‏

(‏3) وعدہ وفا کرنے والوں کو جَنَّتُ الفِرْدَوس کی خوشخبری: ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸) ‏ وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ(9)‏ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ ‏(10)‏ الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَؕ-هُمْ ‏فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(11)

‏ترجمہ کنز الایمان :اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔ اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں یہی لوگ وارث ہیں کہ فردوس کی میراث پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ ‏رہیں گے۔( پارہ 18 سورۃ المُؤْمِنُون، 8 تا 11 )

قارئین کرام! دیکھا آپ نے کہ وعدہ پورا کرنے کی کتنی اہمیت ہے ۔ اللہ پاک ہمیں اپنے وعدہ پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین