واٹس ایپ نمبر۔03347474340

وعدہ کر کے اس کو پورا کرنا ہمارا اخلاقی فرض ہے کیونکہ اس کو پورا کرنے کی بہت تاکید آ ئی ہےاللہ تبارک و تعالیٰ نےجہاں نیکی کے طریقے کوبیان فرمایا وہی پر وعدہ وفائی کا تذکرہ بھی فرمایا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نےوعدہ کو پورا کرنے کے متعلق قرآن کریم میں بارہا حکم دیا ہے اور اسی طرح احادیث کریمہ میں بھی اس کو بیا ن کیا گیا۔

اللہ تبارک تعالٰی ارشاد فرماتا ہےکہ:وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا

ترجمہ کنز العرفان: اوروہ لوگ جو عہد کرکے اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں۔(البقرۃ،آیت نمبر:177)

تفسیر صراط الجنان: اور اپنے عہد پورا کرنے والے۔یہاں نیکی کے پانچویں طریقے کابیان ہے اور اس آیت میں عہد سے سارے جائز وعدے مراد ہیں خواہ اللہ تعالیٰ سے کئے ہوں یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یا اپنے شیخ سے یا نکاح کے وقت بیوی سے یا کسی اور سے جیسے حکمرانوں کے وعدے عوام سے، بشرطیکہ جائز وعدے ہوں ، ناجائز وعدوں کو پورا کرنے کی اجازت نہیں۔

اسی آیت کے تحت مفتی فیض احمد اویسی صاحب فرماتےہیں: والموفون اس کا عطف مَنْ آمَن پر ہے در اصل عبارت یوں تھی و من اوفو بعهدهم یعنی الله تعالى کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں یعنی اس کے اوامر و نواہی یامنتیں پوری ادا کرنے والے ہیں إِذَا عَاهَدُوا یعنی ان کے اور اللہ تعالیٰ کے یا ان کے اور لوگوں کے مابین وعدے ہیں جو وعدہ کرتے ہیں تو پورا کرتے ہیں یا جب منت مانتے ہیں تو اسے ادا کرتے ہیں اور جو بات کرتے ہیں تو سچ بولتے ہیں اور جب کسی کی امانت رکھتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں۔

حدیث شریف : ومن اعطى عهد الله ثم نقضه فالله ينظر اليہ یعنی جو اللہ تعالی کا عہد دے کر توڑ دیتا ہے قیامت میں اللہ تعالی اس پر نظر عنایت نہیں فرمائے گا۔

حدیث شریف : ومن اعطى ذمته رسول الله عليه وسلم ثم فالنبي خصمه يوم القيمة جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ذمہ دے کر دھو کے کرتا ہے تو قیامت میں اللہ تعالیٰ کا نبی اس سے جھگڑے گا یہود نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ یعنی تم میرے عہد کو پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا۔ (فیوض الرحمٰن اردو ترجمہ تفسیر روح البیان صفحہ نمبر111)

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّم ترجمہ کنز العرفان:اور اللہ کا عہد پورا کرو جب تم کوئی عہد کرو۔ (سورۃ النحل آیت نمبر 91)

بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے وہ عہدمراد ہے جسے انسان اپنے اختیار سے اپنے اوپر لازم کر لے اور اس میں وعدہ بھی داخل ہے کیونکہ وعدہ عہد کی قسم ہے۔(تفسیر خازن جلد نمبر 3 صفحہ نمبر140)

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸) ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدے کی رعایت کرنے والے ہیں ۔(المؤمنون:8)

اس آیت میں فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے دو وصف بیان کئے گئے کہ اگر ان کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرتے اور جس سے وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں ۔

یاد رہے کہ امانتیں خواہ اللہ عزوجل کی ہوں یا مخلوق کی اور اسی طرح عہد خدا عزوجل کے ساتھ ہوں یا مخلوق کے ساتھ، سب کی وفا لازم ہے۔(روح البیان آیت نمبر8 جلد نمبر6صفحہ نمبر69)