+92 332 3273729
اللہ
عَزَّوَجَلَّ نے قرآن مجید میں فرمایا :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا
بِالْعُقُوْدِ
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اپنے قول(عہد) پورے کرو۔ (پ۶،
المائدۃ : ۱)
تفسیر ’’قُرطُبی‘‘ میں منقول ہے : اس سے وہ
عقد مراد ہے جو انسان خود پر لازم کرلیتا ہے ، جیسے خرید و فرخت
، اِجارہ ، کرائے پر کچھ دینا ، نکاح و طلاق کا معاملہ ، کھیتی باڑی
کے لئے زمین دینا ، باہم صلح کا معاملہ ، کسی کو مالک بنانا ، اِختیارات
دینا ، غلام آزاد کرنا اور مُدَبَّر(جس غلام کو اس کے آقا نے کہہ دیا
ہو کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو۔(بہار شریعت، ۲/ ۲۹۰) بنانا وغیرہ وہ اُمور۔
سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصلَّی
اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : خِیَارُکُمُ الْمُوْفُوْنَ الْمُطَیَّبُوْنَ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ
الْخَفِیَّ التَّقِیَّ تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں جووعدہ پورا
کرنے والے اور نیک طبیعت کے مالک ہیں ، بیشک ! اللہ
عَزَّوَجَلَّ گمنام اور پرہیزگار بندے کو پسند فرماتا ہے ۔(مسند ابی یعلی،
مسند ابی سعید الخدری، ۱/ ۴۵۱، حدیث
: ۱۰۴۷)
حضرتِ علامہ عبد الرء ُوف مناوی رحمۃُ اللہ تعالٰی
علیہ فرماتے ہیں : ’’اَلْمُوْفُوْن‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جواللہ
عَزَّوَجَلَّ کے لئے اپنے وعدوں کی پاسداری کریں ، اور ’’مُطَیَّبُوْن‘‘
سے مراد وہ قوم ہے جس نے اپنے ہاتھوں کو عِطْر میں ڈبو کر
قسم کھائی تھی ، واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک مرتبہ بنو ہاشم ، بنو زہرہ اور بنو
تمیم زمانہ جاہلیت میں ’’دار اِبْنِ جَدْعَان‘‘ میں جمع ہوئے اور اپنے
ہاتھوں کو عِطْر (کے ایک پیالے ) میں ڈبو کر یہ وعدہ کیا کہ مجبورو بے
سہارا لوگوں کی مدد اور مظلوموں کی فریاد رسی کریں گے ، جبکہ رسولُ اللہ
صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم جو اس وقت کم سِن تھے یہ بھی ان
کے ساتھ موجود تھے ، چونکہ ان قبیلوں نے اپنا وعدہ وفا کیا
لہٰذا رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ خبر
دے کر کہ مخلوق میں بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنا وعدہ پورا کرتے ہیں ان
لوگوں کی تعریف بیان کی ۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان لوگوں نے
زمانہ نبوی پالیا ہوگا اور مسلمان ہوگئے ہوں گے ، یہاں یہ بھی ممکن
ہے کہ ’’مُطَیَّبُوْن‘‘
سے مراد وہ لوگ ہوں جو ان قبیلوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے
وعدہ وفا کرنے کے معاملے میں امانت دار ہوں ۔(فیض القدیر
، ۲/ ۵۶۹ ، تحت الحدیث : ۲۲۶۹)
وعدے کی
پابندی:ایفائے عہد اور وعدہ کی
پابندی بھی درست اخلاق کی ایک بہت ہی اہم اور نہایت ہی ہری بھری شاخ ہے۔ اس خصوصیت
میں بھی رسول عربی صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کا خلق عظیم بے مثال ہی ہے۔ حضرت
ابو الحمساء رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ اعلان نبوت سے پہلے میں نے حضور صلی
اللہ تعالٰی علیہ و سلم سے کچھ سامان خریدا اسی سلسلے میں آپ کی کچھ رقم میرے ذمے
باقی رہ گئی میں نے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم سے کہا کہ آپ یہیں ٹھہریئے میں
ابھی گھر سے رقم لا کر اسی جگہ پر آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کو دیتا ہوں ۔
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے اسی جگہ ٹھہرے رہنے کا وعدہ فرما لیا مگر میں
گھر آ کر اپنا وعدہ بھول گیا پھر تین دن کے بعد مجھے جب خیال آیا تو رقم لے کراس
جگہ پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم اُسی جگہ
ٹھہرے ہوئے میرا انتظار فرما رہے ہیں ۔ مجھے دیکھ کر ذرا بھی آپ صلی اللہ تعالٰی
علیہ و سلم کی پیشانی پر بل نہیں آیا اوراس کے سوا آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم
نے اور کچھ نہیں فرمایا کہ اے نوجوان !تم نے تو مجھے مشقت میں ڈال دیا کیونکہ میں
اپنے وعدے کے مطابق تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہاہوں ۔ (شفاء شریف ص۷۴)
وعدہ
پورا کرنا:ایفائے عہد (وعدہ پورا
کرنا) ایک اعلیٰ اخلاقی وصف اور ایمانی تقاضا ہے جس کی اسلام میں بہت فضیلت ہے، یہ
نبیوں اور متقین کی نشانی ہے اور اس سے معاشرے میں اعتماد بڑھتا ہے، جبکہ وعدہ
خلافی نفاق کی نشانی ہے جس پر سخت وعیدیں ہیں، اس سے سکون ملتا ہے اور اللہ کی رضا
حاصل ہوتی ہے۔
ایفائے
عہد کی فضیلت اور اہمیت:اللہ
کا حکم: قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو عہد پورا کرنے کا حکم دیا ہے، اور
فرمایا ہے کہ عہد سے سوال کیا جائے گا۔
نبیوں کی
صفت: یہ انبیاء علیہم السلام اور صالحین کی صفات میں سے ہے، رسول اللہ (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیشہ عہد نبھایا، یہاں تک کہ جنگ میں بھی۔
معاشرتی
استحکام: اس سے معاشرے میں اعتماد بڑھتا ہے، تعلقات مضبوط ہوتے ہیں،
اور لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں۔
ذاتی
سکون: وعدہ پورا کرنے سے سکون ملتا ہے اور وقت ضائع ہونے سے
بچت ہوتی ہے۔
وعدہ
خلافی کے نقصانات:
گناہ کبیرہ: وعدہ خلافی حرام اور کبیرہ
گناہ ہے۔
ذلت و رسوائی: یہ لوگوں کی نظر میں ذلت
اور بے وقاری کا سبب بنتی ہے، اور لوگ ایسے شخص پر اعتماد نہیں کرتے۔
نفاق کی
علامت: یہ منافقوں کی تین بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے (جھوٹ
بولنا، وعدہ خلافی، خیانت)۔
اللہ کا
عذاب: اس پر اللہ کے عذاب کی وعیدیں ہیں اور آخرت میں جوابدہی ہوگی۔
Dawateislami