حضور پاک ﷺ کا اللہ پاک سے تعلق بے مثال محبت پر مبنی ہے،جو قرآن و سنت میں بیان کردہ ہے۔یہ محبت صرف عقیدت تک محدود نہیں بلکہ آپ کی زندگی کے ہر پہلو میں نظر آتی ہے،جہاں آپ نے اللہ پاک کے احکام کو اپنی زندگی کا محور بنایا اور اپنی امت کو بھی اسی راستے پر چلنے کی تلقین کی۔

اللہ پاک کی طرف سے حضور ﷺکی محبت:

اللہ پاک نے آپ کو اپنا حبیب یعنی محبوب قرار دیا اور اپنی محبت کا اظہار یوں کی کہ آپ کی اطاعت اور پیروی کو لازم قرار دے کر کیا۔قرآنِ مجید میں اللہ پاک نے فرمایا: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

حضور ﷺکی اللہ پاک سے محبت کی مثالیں،اطاعت و اتباع:

حضور پاک ﷺ کی زندگی مکمل طور پر اللہ پاک کی اطاعت اور احکام کی پیروی میں گزری۔

قرآنِ پاک کی روشنی میں زندگی:

آپ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ قرآنِ پاک کے مطابق گزارا اور اسے اپنی امت کے لیے بہترین مثال بنایا ۔

دعوتِ دین:

آپ نے اللہ پاک کے دین کی تبلیغ کی اور اپنی پوری زندگی لوگوں کو اللہ پاک کی طرف بلانے میں وقف کر دی۔

دکھ اور مصائب میں صبر:

اللہ پاک سے محبت کی وجہ سے آپ نے دین کی راہ میں آنے والے تمام مصائب اور تکالیف کو صبر و استقامت سے برداشت کیا۔

امت سے شفقت:

آپ کی اللہ پاک سے محبت اس قدر گہری تھی کہ آپ کی شفقت اور ہمدردی اپنی امت کے لیے دنیا اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بن گئی۔

محبت کا تقاضا:

حضور پاک ﷺ سے سچی محبت کا تقاضا ہے کہ ہم ان کی سنتوں اور سیرت کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں۔ان کی تعلیمات کو اپنانا،ان کی سیرت کے مطابق زندگی گزارنا اور ان کے لائے ہوئے دین کو لوگوں تک پہنچانا ہی اصل حُب رسول ہے۔

الله پاک نے ارشاد فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

حضور نبیِ اکرم ﷺکی محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ایک مومن کے دل میں آپ کی محبت کا معیار اور پیمانہ کیا ہونا چاہیے؟اس امر کو حضور نبیِ اکرم ﷺ نے خود اپنے ارشاداتِ عالیہ کی روشنی میں واضح فرمادیا ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اكرم ﷺ نے فرمایا: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتّٰى أَكُوْنَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِهٖ وَ وَلَدِهٖ وَ النَّاسِ أَجْمَعِينَتم میں سے کوئی شخص کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی جان،اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔(بخاری،1/17، حدیث: 15)

یعنی والدین،اولاد،میاں بیوی،بھائیوں،بہنوں،عزیز و اقارب،دوست احباب،خونی رشتوں،خاندانوں،مناصب اور دنیا کی ہر چیز کی محبت جو انسان کے دل کو مرغوب اور محبوب ہوتی ہے،جس کی طلب،رغبت اور محبت کی طرف انسان کا میلان اور جھکاؤ ہوتا ہے،ان سارے میلانات اور رجحانات سے بڑھ کر حضور سے محبت کرنا ایمان ہے۔گویا جب تک کسی مسلمان کے دل میں کائنات اور عالمِ خلق کی ساری محبتوں سے بڑھ کر حضور نبیِ اکرم ﷺ کی محبت نہ ہو تو وہ مومن نہیں ہوسکتا۔حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے زبانِ مصطفےٰ سے جب یہ فرمان سنا تو آقا ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی:يَا رَسُولَ اللهِ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِييا رسول الله ﷺ ! آپ مجھے اپنی جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔(بخاری،4/283،حدیث:6632)