نبیِ کریم ﷺ  کی زندگی کا ہر پہلو اللہ پاک کی محبت سے لبریز تھا۔آپ کا دل اللہ پاک کی یاد سے ہمیشہ آباد رہتا،آپ کی زبان پر ہر وقت اُس کا ذکر جاری رہتا اور آپ کی عبادتیں، دعائیں اور آنسو سب اُس ذاتِ باری پاک کے لیے تھے۔حضور نے اپنی امت کو بھی یہی درس دیا کہ وہ اپنے رب سے سچی محبت کریں،جیسا کہ آپ خود اُس محبت کی کامل مثال تھے۔

قرآنِ کریم میں محبتِ الٰہی کا بیان:

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اس بات کا اعلان ہے کہ نبیِ اکرم ﷺ خود محبتِ الٰہی کا کامل مظہر ہیں اور آپ کی اتباع ہی اللہ پاک کی محبت کا ذریعہ ہےـ

حضور کی عبادت میں محبتِ الٰہی کی جھلک

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہ شکر در اصل محبتِ الٰہی کا عروج تھا کہ نبی ﷺ اپنی عبادت کو صرف فرض کی ادائیگی نہیں سمجھتے تھے بلکہ عشقِ الٰہی کا اظہار فرماتے تھے ۔

دعاؤں میں محبتِ الٰہی:

رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

یہ دعا حضور کے دل میں موجود محبتِ الٰہی کا واضح ثبوت ہے۔

ذکرِ الٰہی میں سرور:

آپ فرمایا کرتے تھے:جُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِمیری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔(نسائی،ص 644،حدیث:3946)

نماز در اصل رب سے ملاقات ہے اور محبوب سے ملاقات ہی عاشق کے لیے سب سے بڑی راحت ہوتی ہے۔