حضور کی اللہ پاک سے محبت از بنتِ سعید،فیضان
ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اللہ پاک کی
ذات وہ اعلیٰ و ارفع حقیقت ہے جس سے بڑھ کر کسی کی محبت ممکن نہیں۔ قرآنِ مجید میں
اہلِ ایمان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا:وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ
حُبًّا لِّلّٰهِؕ- (پ2،البقرۃ:165)یعنی
اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔
اس آیت کا
کامل اور اعلیٰ ترین مظہر خود نبیِ کریم ﷺ کی ذات ہے۔آپ کی پوری زندگی اللہ پاک کی
محبت اور رضا کے گرد گھومتی تھی۔حضور اکرم ﷺ نے اپنی محبت، اطاعت،عبادت اور قربانیوں
سے یہ ثابت کیا کہ آپ اللہ پاک کے سب سے بڑے محب اور سب سے محبوب بندے ہیں۔
1 راتوں کی طویل عبادت:
حضور کی راتیں اللہ پاک کے حضور گریہ و زاری میں
گزرتیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:رسول اللہ رات کو قیام فرماتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں
مبارک متورم ہوجاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟جبکہ آپ کے
اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں؟فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا
میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ
کروں!(بخاری،3/329،حدیث: 4837)
یہ کیفیت اللہ
پاک سے شدید محبت اور اس کی نعمتوں کے اعتراف کا عملی اظہار ہے۔
2 اللہ پاک کے ذکر میں لذت:
حضور کا دل ذکرِ الٰہی میں ہمیشہ منہمک رہتا۔ایک
مرتبہ فرمایا:میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔(نسائی،ص 644،حدیث:3946)
نماز در اصل
بندے اور رب کے درمیان محبت بھرا راز و نیاز ہےاور رسول اکرم ﷺکی اس میں لذت آپ کی رب سے محبت کی دلیل ہے۔
3 اللہ پاک کی رضا کو سب پر مقدم رکھنا:
نبیِ کریم ﷺ نے دنیا کی تمام نعمتوں،اقتدار،عزت اور
خواہشات کو چھوڑ کر ہمیشہ اللہ پاک کی رضا کو مقدم رکھا۔مکہ مکرمہ میں جب کفار نے
آپ کو مال و دولت،سرداری اور دنیاوی عیش و عشرت کی پیشکش کی تو فرمایا:اگر یہ لوگ
میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند بھی رکھ دیں کہ میں اس مشن کو
چھوڑ دوں تو بھی میں اسے نہ چھوڑوں گا جب تک اللہ پاک اسے غالب نہ کرے یا میں اس پر اپنی جان
قربان نہ کردوں۔(سیرت ابن ہشام،1/265)
یہ اعلان
آپ کی رب کے ساتھ عشق و وفاداری کا روشن
ثبوت ہے۔
4 دعاؤں میں محبت کا اظہار:
رسول اللہﷺ کی دعاؤں میں بھی اللہ پاک کی محبت جھلکتی ہے۔ایک دعا میں فرمایا: اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ
وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ
إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت
مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت
کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔
(ترمذی،5/296،حدیث:3501)
5 اللہ پاک کے لیے جینا اور مرنا:
حضور کا ہر قول و فعل اسی لیے تھا کہ اللہ پاک راضی
ہو جائے۔قرآنِ پاک نے فرمایا:
اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ
مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)(پ8،الانعام: 162)ترجمہ:بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور
میرا مَرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رَبّ
سارے جہان کا۔
یہ آیت اگرچہ
تمام مسلمانوں کے لیے ہے لیکن سب سے پہلے حضور کی ذات اس کا کامل مصداق ہیں۔
6 اللہ پاک کے قرب کی خواہش:
نبیِ کریم ﷺکی سب سے بڑی آرزو اللہ پاک کا قرب تھا۔آپ نے فرمایا:لِیْ مَعَ اللہِ وَقْتٌ لَا یَسَعُنِیْ فِیْہِ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَ لَا
نَبِیٌّ مُرْسَلٌ یعنی میر ے لئے خدا کے
ساتھ ایک ایسا وقت ہے جس میں کسی مُقَرَّب فِرِشتے یا مُرْسَل نبی کی گنجائش نہیں۔(کشف الخفاء،2/ 156،حدیث:2157،مدارج النبوۃ،2/623،جواہر
البحار،4/265،فتاویٰ رضویہ، 30/ 244)
یہ شوق
حضور کی اللہ پاک سے بے پناہ محبت کی
انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔
حضور اکرم ﷺ کی
اللہ پاک سے محبت بے مثال اور کامل ترین ہے۔آپ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ رب کی یاد
اور رضا کے لیے وقف کر دیا۔چاہے رات کی تنہائیاں ہوں،دن کی مصروفیات،جنگ کے میدان
ہوں یا امن کا وقت ہر حال میں آپ کا قلب اللہ پاک کی محبت سے لبریز رہتا۔اسی محبت
کی برکت سے آپ حبیب اللہ کہلائے،یعنی اللہ پاک کے محبوب۔ہمیں چاہیے کہ حضور کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اللہ پاک کی محبت کو
اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بنائیں،تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہو۔
Dawateislami