حضور کی اللہ پاک سے محبت از بنتِ عثمان علی،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
نبیِ اکرم،حضرت
محمد ﷺ کی پوری زندگی اللہ پاک کی محبت،خشیت،اطاعت اور رضا کے حصول میں گزری۔آپ کا ہر قول،فعل،عبادت اور اخلاق اسی بندگی اور
محبتِ الٰہی کا مظہر تھا۔اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں آپ کو اپنا محبوب قرار دیا اور آپ نے عملاً دکھایا کہ حقیقی محبت صرف اللہ پاک سے
ہوتی ہے۔
قرآنِ مجید کی روشنی میں محبتِ رسول:
اللہ پاک نے
فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ
تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (پ3،الِ عمرٰن:
31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے
ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔
یہ آیت ثابت
کرتی ہے کہ نبیِ کریم ﷺ اللہ پاک کے محبوب بندے ہیں اور آپ کی اتباع در اصل اللہ پاک
کی محبت پانے کا ذریعہ ہے۔اللہ پاک نے مزید فرمایا: وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪(۷) (پ30،الضحیٰ:7)ترجمہ: اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔
اور فرمایا:مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ
وَ مَا غَوٰىۚ(۲) (پ27،
النجم: 2)
یہ آیات بتاتی
ہیں کہ اللہ پاک نے آپ کو ہدایت،قرب اور
محبت سے نوازا۔
ایک اور مقام
پر ارشاد ہوا: وَ رَفَعْنَا لَكَ
ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔
نبیﷺ کی زندگی اللہ پاک کی
محبت سے بھرپور
رسول
اللہ ﷺ راتوں کو قیام اللیل فرماتے،حالانکہ
آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پوچھنے پر آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا
میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!(بخاری،3/329، حدیث:4837)یہ
اللہ پاک کے لیے محبت اور شکر کا سب سے
اعلیٰ نمونہ تھا۔
محبتِ الٰہی کا اظہار عبادت میں:
حضرت حذیفہ رضی
اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات نبیﷺ نے
تہجد میں ایک ہی رکعت میں سورۃ البقرۃ،سورۂ الِ عمرٰن اور سورۃ النسآء تلاوت کیں۔(مسلم،ص305،
حدیث: 772)یہ عبادت صرف اللہ پاک کی محبت اور قرب کے لیے تھی۔
مسجد میں جانے،تلاوت،دعا،ذکر
اور صدقہ و خیرات میں بھی آپ سب سے آگے
رہے، کیونکہ آپ کا مقصد اللہ پاک کی خوشنودی تھا۔
ایک اور دعا:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا(بخاری،4/193،حدیث:
6316)
یہ حدیث ظاہر
کرتی ہے کہ دل کا نور بھی اللہ پاک کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا۔
اللہ پاک کے لیے محبت اور توکل:
غارِ ثور میں
جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خوف ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا:لَا تَحْزَنْ اِنَّ
اللّٰهَ مَعَنَاۚ-(پ10،التوبۃ:40)ترجمہ:غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
یہ جملہ اللہ پاک
پر کامل محبت اور یقین کی دلیل ہے۔
اطاعتِ الٰہی میں کامل یقین:
نبی ﷺ نے ہر
حکمِ الٰہی کو پورے عشق اور شوق سے اپنایا۔پارہ 21 سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 21 میں
ارشاد ہے:لَقَدْ كَانَ لَكُمْ
فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌترجمہ: بے شک تمہیں
رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔
یعنی آپ کی زندگی محبتِ الٰہی کا عملی نمونہ ہے۔
نبی ﷺ کا دل اللہ پاک سے جڑا
ہوا تھا:
حضرت عائشہ رضی
اللہ عنہا فرماتی ہیں: كَانَ النَّبِيُّ
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهَ عَلىٰ كُلِّ أَحْيَانِهٖ رسول اللہ ﷺ ہر حال میں اللہ پاک کو یاد
کرتے تھے۔(مسلم،ص159، حدیث:826)۔اسی طرح حضور نے فرمایا:أَفْضَلُ الذِّكْرِ
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ (ترمذی،5/248، حدیث:3394)یہ محبت کا
مسلسل ربط ہے۔
اللہ پاک کی رضا سب سے مقدم:
طائف کے واقعے
میں جب آپ کو پتھروں سے زخمی کیا گیا تو
بددعا کی بجائے اللہ پاک سے محبت و رحمت کا اظہار فرمایا: اَللّٰهُمَّ اهْدِ
قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَاے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے،کیونکہ یہ
نہیں جانتے۔ (الشفا،1/ 105)یہ قلبِ مصطفوی کی اللہ پاک کے لیے خالص محبت تھی۔
اختتامی دعا:
اے اللہ! ہمیں
اپنے محبوب،محمد مصطفےٰ ﷺکی طرح تیری محبت،رضا
اور اطاعت کا نور عطا فرما۔ہمیں ان کی سیرت سے سچا عشق،اتباع کی توفیق اور تیرے
قرب کا احساس عطا فرما۔یا رب!ہمارے دلوں کو ایمان،ذکر اور محبتِ الٰہی سے بھر دے،ہمیں
سنتِ رسول پر قائم رکھ اور ہمیں اُن کے حوضِ کوثر پر جمع
فرما۔آمین
Dawateislami