محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو دلوں کو بدل دیتا ہے،زندگیوں کو روشن کرتا ہےاور بندے کو خالق سے جوڑ دیتا ہے۔مگر کائنات کی سب سے اعلیٰ،پاکیزہ اور کامل محبت وہ ہے جو سیدُ المرسلین  ﷺکے دلِ مبارک میں اپنے خالق و مالک،اللہ پاک کے لیے تھی۔وہ محبت ایسی تھی کہ جس میں کوئی غرض نہ تھی،صرف اللہ کے لیے اللہ کی چاہت تھی۔

نبیِ کریم ﷺکی محبت کی تعریف:

اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺکو سب سے بڑھ کر محبت کرنے والا دل عطا فرمایا۔ آپ کی محبت ایسی نہ تھی جو زبان تک محدود ہو،بلکہ وہ ہر عمل،ہر آنسو،ہر سجدے اور ہر دعا میں جھلکتی تھی۔آپ کی راتیں قیام میں گزرتیں اور آنکھوں سے آنسو بہہ بہہ کر زمین کو تر کر دیتے،صرف اس لیے کہ رب راضی ہو جائے۔اللہ پاک نے خود اپنے حبیب ﷺکی محبت کی گواہی دی:فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ(۷۹)(پ8،الاعراف:79)ترجمہ:تو صالح نے ان سے منہ پھیرااور کہا اے میری قوم بے شک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچادی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کے غرضی(پسندکرنے والے)ہی نہیں۔

ایک اور مقام پر فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اعلان ہے کہ نبی ﷺ خود اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے اور اُس کے محبوب ہیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نبی ﷺ رات میں اتنا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک متورم ہو جاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جب کہ آپ کے اگلوں او رپچھلوں کے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں؟تو فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329،حدیث: 4837)یہ جملہ اُس محبت کی گہرائی ظاہر کرتا ہے جو نبی ﷺکو اللہ پاک سے تھی۔

محبت کا مطلب صرف ذکر نہیں بلکہ شکر،عاجزی،عبادت اور رضا میں فنا ہو جانا ہے۔

1: عبادت میں لذت:نبی ﷺکے لیے سب سے بڑی راحت نماز تھی۔آپ فرماتے:

جُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِمیری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔

(نسائی،ص 644،حدیث:3946)

2:اللہ کی رضا کے لیے قربانی:طائف کے پتھر ہوں یا بدر کی تلواریں،ہر درد برداشت کیا مگر اللہ کی محبت میں قدم نہ ڈگمگایا۔

حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:محبتِ الٰہی کی حقیقت اُس وقت ظاہر ہوتی ہے جب بندہ ہر حالت میں اللہ کو راضی دیکھنے کا خواہاں ہواور اس کی کامل مثال حضور کی ذات میں نظر آتی ہے۔(مکتوباتِ امام ربانی،جلد 1،مکتوب 260)

حضور کی اللہ سے محبت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ محبت صرف دعویٰ نہیں، قربانی، اطاعت اور رضا کا نام ہے۔

اگر ہم بھی اللہ سے سچی محبت چاہتی ہیں تو ہمیں نبی ﷺکے طریقوں پر چلنا ہوگا، تبھی ہم بھی محبوبِ خدا کی اچھی امتی بن سکتی ہیں۔اے اللہ! ہمیں اپنے محبوب کے وسیلے سے اپنی محبت عطا فرما۔اے کریم!ہمیں اپنی رضا میں راضی رہنے والی بنا،عبادت میں لذت،ذکر میں سکون اور محبت میں وفا نصیب فرما۔ہمیں اس محبت سے حصہ دے جو تیرے حبیب ﷺکے دل میں تھی۔آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ