حضور کی اللہ پاک سے محبت از بنتِ شاہ حسین،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ
سیالکوٹ
محبتِ الٰہی
انسان کے ایمان کا جوہر اور روح ہےاور اس محبت کی اعلیٰ ترین اور کامل ترین مثال نبیِ
کریم،حضرت محمد مصطفےٰﷺ کی ذاتِ اقدس کی
صورت میں جلوہ گر ہے۔حضور کی ساری زندگی
اللہ پاک کی معرفت،بندگی،اطاعت اور محبت سے معمور تھی۔قرآن و سنت کے مطالعہ سے
واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺکی اللہ پاک
سے محبت صرف قول یا احساس تک محدود نہ تھی،بلکہ آپ کے ہر عمل،عبادت،دعا،آنسو،مسکراہٹ اور سکوت میں
اس کا عکس نمایاں تھا۔
1 قرآنِ پاک میں نبی ﷺکی
محبتِ الٰہی کا بیان:
اللہ پاک نے قرآنِ
کریم میں اپنے محبوب کو مخاطب کرتے ہوئے
فرمایا:اِنَّ صَلَاتِیْ وَ
نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)(پ8،الانعام:162)ترجمہ:بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور
میرا مَرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رَبّ
سارے جہان کا۔
یہ آیتِ کریمہ
حضور کی زندگی کے ہر پہلو کو اللہ پاک کی
محبت و رضا کے تابع قرار دیتی ہے۔
اسی طرح اللہ پاک
نے فرمایا:وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا
فَهَدٰى۪(۷) (پ30،الضحیٰ:7)
ترجمہ: اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔
یعنی اللہ پاک
نے اپنے محبوب کو اپنی معرفت اور قرب کی
راہوں پر ہدایت عطا فرمائی۔
2 نبی کی محبتِ الٰہی کے
مظاہر:
(الف) عبادت میں محبت کا عروج:
حضور کی عبادت اللہ پاک سے شدید محبت کی علامت تھی۔حضرت
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نبی ﷺ رات میں اتنا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم
مبارک متورم ہو جاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جب کہ آپ
کے اگلوں او رپچھلوں کے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں؟تو فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا
شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار
بندہ بننا پسند نہ کروں!(بخاری،3/329،حدیث: 4837)یہ
عبادت صرف فرض کی ادائیگی نہیں بلکہ محبوبِ حقیقی سے محبت کا اظہاری عمل تھا۔
(ب) دعا میں محبت کا اظہار:
حضور کی دعاؤں میں محبتِ الٰہی کی کیفیت نمایاں ہے۔ایک
دعا میں فرمایا:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ
حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ
اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ
الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت
مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت
کومیرے لئے میری جان،گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے۔(ترمذی،5/296،حدیث: 3501)
یہ دعا ظاہر
کرتی ہے کہ نبی ﷺکی محبتِ الٰہی صرف عقیدہ
نہیں بلکہ قلبی جذبہ تھی۔
(ج) ذکر اور خلوت میں تعلقِ الٰہی:
حضور اکثر
تنہائی میں اللہ پاک کے ذکر میں مشغول رہتے۔قرآنِ پاک نے آپ کی اس کیفیت کو یوں بیان
کیا:وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ
تَبْتِیْلًاؕ(۸)(پ29،المزمل:8)ترجمہ: اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو ر ہو۔
یہ آیت در اصل
نبی کی مکمل روحانی وابستگی اور محبتِ
الٰہی کی تعلیم ہے۔
3 اللہ پاک کی محبتِ محمدی کے
ثبوت:
اللہ پاک نے
خود نبیﷺ سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا:وَ رَفَعْنَا لَكَ
ذِكْرَكَؕ(۴)
(پ30،الم
نشرح:4)ترجمہ:اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔
اور فرمایا:اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ
یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-(پ22،الاحزاب:56) ترجمہ: بیشک اللہ اور
اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔
یہ در اصل
اللہ پاک کی طرف سے اپنے محبوبﷺ پر دائمی محبت و عنایت کا اعلان ہے۔
4 محبتِ الٰہی کا عملی نمونہ:
رسول اللہﷺ کی محبتِ الٰہی کی ایک جھلک اس وقت نظر آتی ہے
جب طائف کے واقعہ میں آپ کو سخت اذیت دی
گئی۔خون میں لت پت ہو کر بھی فرمایا:اے اللہ! اگر تُو مجھ سے راضی ہے تو مجھے کسی
کی پروا نہیں۔ (سیرت نبویہ لابن ہشام، 1/ 419)
یہ الفاظ ایک
عاشقِ الٰہی کے ہیں جو ہر حال میں رضائے الٰہی کا طلبگار ہے۔
5 خلاصہ و نتیجہ
Dawateislami