اللہ پاک نے اپنے حبیبِ مکرم،حضرت محمد مصطفےٰ  ﷺکو اپنی محبت کا سب سے اعلیٰ مظہر بنایا۔نبیِ اکرم ﷺکی ذات وہ مقدس ہستی ہے جن کے دل میں سب سے زیادہ محبتِ الٰہی موجزن تھی۔آپ کی پوری زندگی،بچپن سے لے کر وصال تک،اللہ پاک کی رضا، محبت اور قرب کے رنگ میں ڈوبی ہوئی تھی۔

قرآن میں نبیﷺ کی محبتِ الٰہی:

اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں متعدد مقامات پر اپنے حبیب ﷺکے دل کی کیفیت اور ان کی محبت کو بیان فرمایا:فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ(۷۹)(پ 20،النمل:79)ترجمہ: تو تم اللہ پر بھروسا کرو بےشک تم روشن حق پر ہو۔

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نبیِ کریم کی ساری امیدیں،بھروسا اور محبت صرف اور صرف اللہ پاک سے تھی۔ ایک اور مقام پر فرمایا گیا: وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪(۷) (پ30،الضحیٰ:7)ترجمہ: اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔

یعنی نبی ﷺ دل سے اللہ پاک کی تلاش میں تھےاور اللہ پاک نے اپنی معرفت و قرب سے آپ کے دل کو منور فرما دیا۔

نبیﷺ کی زبان پر محبتِ الٰہی کے الفاظ:

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اکثر دعا میں فرمایا کرتے تھے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔

(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ نبی ﷺکی سب سے بڑی خواہش اللہ ﷺکی محبت تھی نہ کہ دنیا یا مخلوق کی رضا۔

عبادت میں محبت کا مظہر:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہی محبتِ الٰہی تھی جس نے نبی ﷺ کو عبادت میں ایسا ذوق عطا کیا کہ آپ ساری رات اللہ پاک کے حضور کھڑے رہتے۔

ذکر و دعا میں محبت کا اظہار:

نبیِ اکرم ﷺ کا ذکر،دعا اور خاموشی تک سب اللہ پاک سے محبت کا آئینہ تھا۔آپ اکثر فرماتے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔

(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

اللہ پاک کی طرف سے جوابِ محبت:

اللہ پاک نے بھی اپنے حبیب ﷺکو اپنی محبت اور قرب سے سرفراز فرمایا۔قرآنِ کریم میں فرمایا گیا:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔

یعنی اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺ کے نام کو اپنے نام کے ساتھ جوڑ دیا اذان، اقامت،نماز اور کلمہ میں۔

محبت کا کمال:قربِ مع اللہ:

معراج النبی،محبتِ الٰہی کا سب سے اعلیٰ مظہر ہے جہاں نبی ﷺکو وہ قرب عطا ہوا کہ جس کا کسی بشر کو تصور بھی نہیں۔ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ(۸) فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ(۹)

(پ27،النجم:8-9)ترجمہ:پھر وہ جلوہ قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔ تو دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔

یہ قرب اور محبت کا وہ مقام ہے جہاں اللہ پاک نے اپنے حبیب سے بلاواسطہ کلام فرمایا یہ عشقِ حقیقی کی معراج ہے۔

اقوالِ صحابہ رضی اللہ عنہم:

حضرت علی فرماتے ہیں:رسول اللہﷺ کی محبت اللہ پاک کی محبت کا راستہ ہے جو ان سے محبت کرتا ہے در اصل وہ اللہ پاک سے محبت کرتا ہے۔

حضرت بلال کہا کرتے تھے:میں اذان دیتا ہوں تاکہ محبوبﷺ کی سنت کے ذریعے محبوبِ حقیقی کو یاد کیا جائے۔

نبیِ کریم ﷺکی پوری زندگی محبتِ الٰہی کا آئینہ تھی۔آپ نے ہمیں سکھایا کہ اللہ پاک کی محبت صرف زبانی نہیں بلکہ دل،عمل،نیت اور قربانی میں ہونی چاہیے۔اللہ پاک کی محبت کا معیار وہی ہے جو نبی صلی اللہُ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے اپنے عمل سے دکھایا فرمانبرداری، صبر، شکر اور ہر حال میں رضا کے ذریعے۔اے اللہ پاک! ہمیں بھی اپنے حبیب ﷺ جیسی محبت عطا فرما،ہمیں اپنی رضا،اپنے قرب اور اپنی یاد میں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔آمین