اللہ پاک نے اپنے حبیب،حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ  کو تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ عزت،مقام اور قرب عطا فرمایا۔آپ کی پوری زندگی اللہ پاک کی محبت اور اس کے دین کی سر بلندی کے لیے وقف تھی۔آپ کا دل اللہ کے ذکر سے معمور اور زبان اس کی حمد و ثنا سے تر رہتی تھی۔

در حقیقت،رسولِ اکرمﷺ کی سیرتِ طیبہ ایک زندہ تفسیر ہے کہ ایک بندہ اپنے رب سے کس طرح محبت کرتا ہے۔

محبتِ الٰہی کا سرچشمہ:

اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا: وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ-(پ2، البقرۃ: 165)ترجمہ: اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔

یہ آیت رسولِ اکرم ﷺپر پوری طرح صادق آتی ہے۔آپ کی ذات وہ مرکز ہے جہاں محبتِ الٰہی اپنے عروج پر پہنچی۔

آپ کے دل میں دنیا کی کوئی چاہت نہ تھی،صرف اللہ کی رضا کی طلب تھی۔اسی محبت کی بنا پر آپ نے مصائب برداشت کیے،تبلیغ کا فریضہ ادا کیا اور اپنے رب کی بندگی میں سراپا فنا ہو گئے۔

عبادت میں عشقِ الٰہی کی جھلک:

حضور کی عبادتیں صرف فرض کی حد تک نہ تھیں بلکہ عشق و محبت کی گہرائیوں سے معمور تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں، پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہی شکر،یہی محبت،یہی عشق وہ قوت تھی جس نے حضور ﷺکو سب سے بلند درجہ عطا کیا۔

زندگی کے ہر لمحے میں اللہ کی یاد:

آپ کا ہر عمل،ہر فیصلہ اور ہر گفتگو اللہ کی یاد سے وابستہ تھی۔کھانے سے پہلےبِسْمِ اللہ،کام کے بعدالحمد للہ اور ہر حال میں اِن شَاءَ اللہ یہ سب آپ کی عادتیں تھیں،جو محبتِ الٰہی کی علامت ہیں۔اللہ کے ذکر سے آپ کو روحانی راحت ملتی تھی۔جیسا کہ آپ نے فرمایا:اپنےربِّ کریم کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنےوالےکی مثال زندہ اورمُردہ کی طرح ہے۔(بخاری،4/220،حدیث:6407)یہ بات بتاتی ہے کہ آپ کے نزدیک زندگی کی اصل روح اللہ کی یاد میں پوشیدہ ہے۔

دعاؤں میں محبت کی جھلک:

حضور کی دعائیں اللہ پاک سے گہری محبت کا مظہر تھیں۔آپ اکثر یوں دعا کرتے: اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے۔ (ترمذی، 5/296،حدیث:3501)

یہ دعا اس بات کی دلیل ہے کہ حضورﷺ کا سب سے بڑا مقصد اللہ کی محبت حاصل کرنا تھااور وہ چاہتے تھے کہ امت بھی اسی راہ پر چلے۔

دنیاوی راحتوں سے بے نیازی:

آپ نے دنیا کو محبتِ الٰہی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ایک موقع پر آپ نے فرمایا:

میرا دنیا سے کیا تعلق؟ میری اور دنیا کی مثال تو بس اس سوار کی طرح ہے جس نے گرمی کے دن میں کسی درخت کے سائے تلے تھوڑی دیر آرام کیا، پھر وہ (وہاں سے) چل دیا اور اسے (وہیں) چھوڑ دیا۔(مسند امام احمد،7/259،حدیث 4208)

یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ آپ کے دل میں دنیا کی کوئی جگہ نہیں تھی صرف اللہ کی رضا کی طلب تھی۔آپ نے کبھی مال و دولت کی تمنا نہیں کی،بلکہ دل کی دولت کو سب سے بڑی نعمت سمجھا۔

امت کو محبتِ الٰہی کی دعوت:

حضور ﷺنے اپنی امت کو بھی اللہ سے سچی محبت کا درس دیا۔قرآنِ پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ حضور ﷺکی اتباع ہی محبتِ الٰہی کا راستہ ہے۔جو حضور کی سنتوں پر عمل کرے گی وہ اللہ کی پسندیدہ بندی بنے گی۔حضور ﷺ کی اللہ پاک سے محبت الفاظ سے بیان نہیں کی جا سکتی۔یہ محبت آپ کے ظاہر و باطن،گفتار و کردار اور عبادت و دعا کے ہر گوشے میں نمایاں تھی۔آپ نے ہمیں یہ سکھایا کہ اصل کامیابی دنیاوی لذتوں میں نہیں بلکہ اپنے رب کی رضا میں ہے۔اگر ہم حضور کی پیروی کریں،آپ کے اخلاق اپنائیں اور آپ کی سنتوں پر عمل کریں تو ہم بھی اللہ پاک کی محبوب بندیوں میں شامل ہو سکتی ہیں۔


اللہ پاک نے اپنے محبوب نبی،حضرت محمد ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔آپ  کی پوری زندگی اللہ پاک کی محبت،اطاعت،قربت اور رضا میں بسر ہوئی۔آپ کی ذات اقدس اللہ کے عشق و محبت کا مظہر تھی۔آپ کا ہر قول،فعل اور عمل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آپ کے دل میں سب سے زیادہ محبت صرف اور صرف اللہ پاک کے لیے تھی۔

قرآنِ مجید میں اشارہ:

اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺکی زندگی اللہ کی محبت کا عملی نمونہ ہےاور جو واقعی اللہ سے محبت چاہتی ہے،اسے حضور ﷺکی اتباع کرنی ہوگی۔

حضور کی محبتِ الٰہی کا اظہار:

حضور کا دل ہمہ وقت اپنے ربّ کے ذکر میں مصروف رہتا تھا۔جب بھی کوئی خوشی یا غم آتا آپ سب سے پہلے اللہ کی طرف رجوع فرماتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهَ عَلىٰ كُلِّ أَحْيَانِهٖ رسول اللہ ﷺ ہر حال میں اللہ پاک کو یاد کرتے تھے۔ (مسلم،ص159، حدیث: 826)

راتوں کو آپ طویل قیام فرماتے،یہاں تک کہ قدم مبارک سوج جاتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہ جملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کی عبادت محض فرض کی ادائیگی نہیں بلکہ محبت اور شکرگزاری کا اظہار تھی۔

دعا اور مناجات میں محبت:

حضور کی دعائیں اللہ سے گہری محبت کی عکاس تھیں۔ایک دعا میں فرمایا:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے۔(ترمذی،5/296،حدیث: 3501)

یہ دعا ظاہر کرتی ہے کہ حضور کے نزدیک دنیا کی تمام لذتوں سے بڑھ کر اللہ کی محبت عزیز تھی۔

محبتِ الٰہی میں خشیت و عاجزی:

حضور کا دل اللہ کے خوف اور محبت سے لبریز تھا۔حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور فرمایا کرتے:وَ اللهِ اِنِّى لَأَخْشَاكُمْ لِلهِ وَ أَتْقَاكُمْ لَهُخدا کی قسم! میں تم میں سب سے زیادہ اللہ پاک سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں۔

(بخاری،3/421،حدیث:5063)

یہ خشیت در اصل محبت کی انتہا ہے،کیونکہ سچی محبت انسان کو اپنے محبوب کے غضب سے ڈرنے پر مجبور کرتی ہے۔

اللہ کی رضا ہی مقصدِ زندگی:

آپ کی پوری زندگی کا مقصد اللہ کی رضا تھا۔جنگ ہو یا صلح،غم ہو یا خوشی ہر موقع پر آپ نے اللہ کی مرضی کو مقدم رکھا۔اللہ پاک نے فرمایا:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-(پ28، الحشر: 7)ترجمہ:اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔

یہ آیت حضور ﷺکی مکمل اطاعت کا حکم دیتی ہے،جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ خود سراپا محبتِ الٰہی تھے۔

محبوبِ الٰہی کا مقام:

اللہ پاک نے آپ کو اپنی محبت سے سرفراز فرمایا۔قرآن میں فرمایا گیا:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔

یہ درجہ کسی اور نبی کو نصیب نہیں ہوا۔آپ کوحبیب اللہ یعنی اللہ کا محبوب کہا گیا،جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کوخلیل اللہ کہا گیا۔اس سے واضح ہے کہ حضور کی محبتِ الٰہی سب سے اعلیٰ اور کامل ہے۔

حضور کی اللہ پاک سے محبت بے مثال تھی۔یہ محبت آپ کے اخلاق، عبادات، معاملات اور دعاؤں کے ہر پہلو میں نظر آتی ہے۔آپ نے امت کو بھی یہی تعلیم دی کہ اللہ کی محبت کو سب چیزوں پر مقدم رکھو۔

قرآن میں فرمایا گیا:وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ-(پ2، البقرۃ: 165)ترجمہ: اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔

پس ہمیں چاہیے کہ ہم بھی محبوب ﷺکے نقشِ قدم پر چل کر اللہ کی محبت حاصل کریں،کیونکہ اللہ کی محبت ہی انسان کی اصل کامیابی ہے۔


اللہ پاک نے اپنے محبوب،حضرت محمد مصطفےٰﷺ  کو تمام انسانوں کے لیے ہدایت و رحمت بنا کر بھیجا۔آپ کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ پاک کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا۔آپ کا سونا، جاگنا،چلنا،بولنا،عبادت کرنا،تبلیغ کرنا،سب کچھ صرف اور صرف اللہ پاک کی رضا کے لیے تھا۔قرآنِ کریم میں اللہ پاک نے فرمایا:وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪(۷)(پ30، الضحیٰ:7)ترجمہ:اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔

آپ کی سیرت میں اللہ سے تعلق کی اعلیٰ ترین مثالیں موجود ہیں۔میدانِ طائف میں جب لوگوں نے پتھر مارے تو بھی آپ نے اللہ پاک سے شکوہ نہ کیا،بلکہ یوں عرض کی: اے اللہ! اگر تُو مجھ سے راضی ہے تو مجھے کسی کی پروا نہیں۔ (سیرت نبویہ لابن ہشام، 1/ 419)

آپ کی دعا تھی:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

یہ محبت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمارا بھی اللہ پاک سے تعلق مضبوط ہو۔ہم نماز، دعا، قرآن اور نیکیوں کے ذریعے اپنے دل میں اللہ کی محبت کو جگہ دیں،جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں سکھایا۔ نبیِ کریم کی محبتِ الٰہی کی انتہا دیکھئے کہ جب راتوں کو قیام فرماتے،آنکھوں سے آنسو بہتے،قدموں پر ورم آ جاتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!

(بخاری،3/329، حدیث: 4837)

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور ﷺکو کسی گناہ سے ڈر نہیں تھا کیونکہ آپ معصوم تھے لیکن اللہ سے محبت اتنی شدید تھی کہ وہ راتوں کو قیام کرتے،سجدے میں گر جاتے صرف شکر ادا کرنے کے لیے۔

غارِ ثور میں اعتماد ومحبت:

جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ غارِ ثور میں خوف زدہ ہوئے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا:لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ-10، التوبۃ:40)ترجمہ: غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

یہ مکمل بھروسا اور محبت کا اظہار ہے کہ سب کچھ چھن جائے،پر اللہ کافی ہے۔

حدیث:وَ اللهِ اِنِّى لَأَخْشَاكُمْ لِلهِ وَ أَتْقَاكُمْ لَهُخدا کی قسم !میں تم میں سب سے زیادہ اللہ پاک سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں۔(بخاری،3/421،حدیث: 5063)

رسول اللہﷺ کی اللہ سے محبت علم،معرفت اور خشیت(دل کا خوف /احترام) کے ساتھ تھی۔جو اللہ کو جتنا زیادہ پہچانتا ہے،وہ اس سے اتنی ہی زیادہ محبت کرتا ہے اور اس کے سامنے جھکتا ہے۔

مفہوم :

رسول اللہﷺ کی اللہ سے محبت کامل،خالص اور ہر چیز سے بڑھ کر تھی۔آپ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی رضا،عبادت اور اطاعت میں گزارا۔مشکل،راحت،تنہائی یا مجمع ہر حال میں آپ کا دل صرف اللہ سے وابستہ تھا۔


اللہ پاک نے اپنے محبوب،سیدالانبیا،حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ  کو وہ مقامِ قرب عطا فرمایا جو کسی اور کو نصیب نہ ہوا۔آپ کی پوری حیاتِ طیبہ اللہ پاک کی محبت،خشیت اور عبادت سے روشن ہے۔آپ کا ہر عمل،ہر ارادہ،ہر سانس صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے تھا۔

بچپن ہی سے نبیِ اکرم ﷺکا دل دنیاوی کھیل کود سے ہٹا ہوا اور خالقِ حقیقی کی طرف متوجہ تھا۔مکہ کے شور و غل میں جب لوگ بتوں کے آگے سر جھکاتے،آپ غارِ حرا کی تنہائیوں میں اللہ کی یاد میں ڈوب جاتے۔وہ راتیں جب آپ کا دل اللہ کی طرف جھکتا اور نگاہیں آسمان کی وسعتوں میں اس کے نور کو تلاش کرتیں در اصل یہی وہ لمحے تھے جب محبتِ الٰہی کا چراغ آپ کے دل میں روشن ہوا۔

اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اعلان ہے کہ نبی ﷺ اللہ کے محبوب ہیں اور آپ کی پیروی ہی اللہ کی محبت کا راستہ ہے۔

نبیِ کریم کی محبتِ الٰہی کی انتہا دیکھئے کہ جب راتوں کو قیام فرماتے،آنکھوں سے آنسو بہتے،قدموں پر ورم آ جاتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!(بخاری،3/329، حدیث: 4837)

یہ جملہ عشقِ الٰہی کا وہ درجہ ہے جہاں بندہ اپنے محبوبِ حقیقی کے سامنے مکمل فنا ہو جاتا ہے۔آپ کی زبان ہر لمحہ اللہ کے ذکر سے تر رہتی تھی۔ہر بات بسم اللہ سے شروع،ہر مصیبت پرالحمد للہ،ہر کامیابی پراللہ اکبر۔آپ کے دل میں اللہ کی محبت آپ کو کسی سے غافل نہ کرتی۔ایک حدیث میں نبی نے فرمایا:أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ وَأَحِبُّونِي بِحُبِّ اللَّهِ وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي اللہ سے محبت کرو ان نعمتوں کی وجہ سے جو وہ تمہیں کھلاتا (عطا کرتا) ہے، اور اللہ کی محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت کرو، اور میری محبت کی وجہ سے میرے اہل بیت سے محبت کرو۔(ترمذی،5/434،حدیث:3814)

اللہ پاک نے آپ کے لیے فرمایا:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4) ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔

یہ اللہ پاک کی اپنے محبوب ﷺسے محبت کا سب سے واضح اعلان ہے کہ جہاں رب کا نام لیا جاتا ہے،وہاں اس کے محبوب کا ذکر بھی بلند کیا جاتا ہے۔

آخر میں یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ حضور ﷺکی زندگی اللہ پاک کی محبت اور قرب کی سب سے روشن مثال ہے۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم آپ کے نقشِ قدم پر چل کر اپنی زندگی کو ذکر،شکر اور محبتِ الٰہی سے منور کریں۔یہی کامیابی کا راز ہے،یہی ایمان کی حقیقت ہے۔


اللہ پاک نے اپنے محبوب،حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ بلند مقام عطا فرمایااور آپ کی ہر ادا کو معیارِ ہدایت بنایا۔آپ کی اللہ پاک سے محبت سب سے کامل،خالص اور بے مثال تھی۔یہ محبت نہ صرف قول سے بلکہ عمل، اطاعت، عبادت،توکل اور تسلیم و رضا کی اعلیٰ ترین شکلوں میں ظاہر ہوئی۔

قرآنِ مجید کی روشنی میں

1 :سورۃ النجم:وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ(۱)مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ(۲)(پ27، النجم:1-2)ترجمہ:اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اُترے تمہارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی راہ اور دین اللہ پاک کی طرف سے ہے،جس میں آپ کی محبتِ الٰہی شامل ہے۔

2 :سورۃ الِ عمرٰن:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،ال عمرٰن: 31)ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

اللہ پاک نے اپنے نبی ﷺ کی اتباع کو اپنی محبت کا معیار قرار دیا۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات،اللہ سے محبت کا مجسم نمونہ ہے۔

3:سورۃ الضحیٰ:وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪(۷) (پ30،الضحیٰ:7)ترجمہ: اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔

یہ آیت اللہ پاک کی خاص ہدایت اور نگہبانی کی طرف اشارہ کرتی ہے،جو آپ کو اللہ پاک سے خاص تعلق کی بنیاد پر عطا ہوئی۔

احادیث کی روشنی میں

1: نماز میں محبتِ الٰہی:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)یہ عبادت،شکر اور محبت کا اعلیٰ ترین اظہار تھا۔

2: دعا میں محبت:

آپ ﷺ اکثر دعا فرماتے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)یہ دعا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ حضور ﷺ کا دل محبتِ الٰہی سے لبریز تھا۔

3 :توکل اور رضا:

جب طائف کے میدان میں پتھروں سے زخمی کیا گیااور جبریل علیہ السلام نے پہاڑوں کے فرشتے کو پیش کیا کہ اگر چاہیں تو طائف والوں کو تباہ کر دیا جائے،تو آپ نے فرمایا: اَللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَاے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے،کیونکہ یہ نہیں جانتے۔ (الشفا،1/ 105)

یہی وہ دل ہے جو اللہ کی رضا میں راضی ہے اور اس کی مخلوق سے بھی محبت رکھتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی اللہ پاک سے محبت کامل،خالص اور بے مثال تھی۔یہ محبت صرف الفاظ یا جذبات کی حد تک نہ تھی،بلکہ مکمل اطاعت، بندگی،عبادت،شکر،صبر، توکل اور رضا کی عملی شکل میں تھی۔اگر ہم بھی اللہ پاک سے سچی محبت کی طلبگار ہیں تو ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو اپنانا ہوگا،کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا:فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،ال عمرٰن: 31)ترجمہ:تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

اللہ پاک ہمیں پیارے حبیب ﷺ کے صدقے سچی محبت عطا فرمائے ۔آمین


رسولِ اکرم،حضرت محمدﷺ  کی حیاتِ طیبہ کا سب سے نمایاں پہلو آپ کی اللہ پاک سے بے پناہ محبت اور تعلق ہے۔قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ،ہر سانس اور ہر عمل صرف اور صرف اللہ پاک کی رضا اور محبت کے حصول کے لیے وقف تھا۔

قرآنِ مجید میں اظہارِ محبت:

اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺکے بارے میں فرمایا:وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)(پ29،القلم:4) ترجمہ: اور بیشک تم یقیناً عظیم اخلاق پر ہو ۔

یہ عظیم اخلاق در اصل اللہ پاک کی محبت اور قرب کی وجہ سے ہی تھے۔مزید فرمایا: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اس بات کی گواہی ہے کہ حضور خود اللہ کے محبوب ہیں اور آپ کی اتباع ہی اصل محبتِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔

سیرتِ مبارکہ سے شواہد:

1 :عبادت میں محبت کا اظہار:

حضور راتوں کو قیام فرماتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں مبارک سوج جاتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہ اللہ کی محبت ہی تھی کہ آرام چھوڑ کر راتوں کو رب کے حضور کھڑے رہتے۔

2 :دعاؤں میں محبت کا انداز:

رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا کرتے: اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501) یہ دعا حضور کے دل کی گہرائی میں اللہ سے محبت کی جھلک پیش کرتی ہے۔

3:دعا طائف کے موقع پر:

اے اللہ! اگر تُو مجھ سے راضی ہے تو مجھے کسی کی پروا نہیں۔ (سیرت نبویہ لابن ہشام، 1/ 419)

4:اللہ کی محبت کا انعام:

اللہ پاک نے بھی اپنے حبیب ﷺکی اس محبت کے بدلے میں بے مثال قرب عطا فرمایا۔قرآن میں ارشاد ہے:مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى(۱۷)(پ27،النجم:17)ترجمہ: آنکھ نہ کسی طرف پھری نہ حد سے بڑھی۔

یعنی معراج کی رات جب آپ نے اپنے رب کا قرب پایا تو نہ نگاہ بہکی اور نہ حد سے بڑھی۔یہ قربِ خاص اس محبت کا ثبوت ہے جو اللہ پاک نے اپنے نبی ﷺکو عطا فرمایا۔

حضورﷺ کی اللہ پاک سے محبت ایک کامل اور مثالی محبت ہے۔یہ محبت صرف زبانی دعوؤں تک محدود نہ تھی بلکہ ہر عمل،ہر عبادت اور ہر فیصلے میں جھلکتی تھی۔آپ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی کامیابی اللہ سے محبت اور اس کی رضا میں ہےاور اس محبت تک رسائی صرف اور صرف اتباعِ رسول کے ذریعے ممکن ہے۔اللہ پاک ہمیں زیادہ سے زیادہ سیرتِ مصطفےٰ کا مطالعہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو دلوں کو بدل دیتا ہے،زندگیوں کو روشن کرتا ہےاور بندے کو خالق سے جوڑ دیتا ہے۔مگر کائنات کی سب سے اعلیٰ،پاکیزہ اور کامل محبت وہ ہے جو سیدُ المرسلین  ﷺکے دلِ مبارک میں اپنے خالق و مالک،اللہ پاک کے لیے تھی۔وہ محبت ایسی تھی کہ جس میں کوئی غرض نہ تھی،صرف اللہ کے لیے اللہ کی چاہت تھی۔

نبیِ کریم ﷺکی محبت کی تعریف:

اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺکو سب سے بڑھ کر محبت کرنے والا دل عطا فرمایا۔ آپ کی محبت ایسی نہ تھی جو زبان تک محدود ہو،بلکہ وہ ہر عمل،ہر آنسو،ہر سجدے اور ہر دعا میں جھلکتی تھی۔آپ کی راتیں قیام میں گزرتیں اور آنکھوں سے آنسو بہہ بہہ کر زمین کو تر کر دیتے،صرف اس لیے کہ رب راضی ہو جائے۔اللہ پاک نے خود اپنے حبیب ﷺکی محبت کی گواہی دی:فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ(۷۹)(پ8،الاعراف:79)ترجمہ:تو صالح نے ان سے منہ پھیرااور کہا اے میری قوم بے شک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچادی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کے غرضی(پسندکرنے والے)ہی نہیں۔

ایک اور مقام پر فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اعلان ہے کہ نبی ﷺ خود اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے اور اُس کے محبوب ہیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نبی ﷺ رات میں اتنا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک متورم ہو جاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جب کہ آپ کے اگلوں او رپچھلوں کے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں؟تو فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329،حدیث: 4837)یہ جملہ اُس محبت کی گہرائی ظاہر کرتا ہے جو نبی ﷺکو اللہ پاک سے تھی۔

محبت کا مطلب صرف ذکر نہیں بلکہ شکر،عاجزی،عبادت اور رضا میں فنا ہو جانا ہے۔

1: عبادت میں لذت:نبی ﷺکے لیے سب سے بڑی راحت نماز تھی۔آپ فرماتے:

جُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِمیری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔

(نسائی،ص 644،حدیث:3946)

2:اللہ کی رضا کے لیے قربانی:طائف کے پتھر ہوں یا بدر کی تلواریں،ہر درد برداشت کیا مگر اللہ کی محبت میں قدم نہ ڈگمگایا۔

حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:محبتِ الٰہی کی حقیقت اُس وقت ظاہر ہوتی ہے جب بندہ ہر حالت میں اللہ کو راضی دیکھنے کا خواہاں ہواور اس کی کامل مثال حضور کی ذات میں نظر آتی ہے۔(مکتوباتِ امام ربانی،جلد 1،مکتوب 260)

حضور کی اللہ سے محبت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ محبت صرف دعویٰ نہیں، قربانی، اطاعت اور رضا کا نام ہے۔

اگر ہم بھی اللہ سے سچی محبت چاہتی ہیں تو ہمیں نبی ﷺکے طریقوں پر چلنا ہوگا، تبھی ہم بھی محبوبِ خدا کی اچھی امتی بن سکتی ہیں۔اے اللہ! ہمیں اپنے محبوب کے وسیلے سے اپنی محبت عطا فرما۔اے کریم!ہمیں اپنی رضا میں راضی رہنے والی بنا،عبادت میں لذت،ذکر میں سکون اور محبت میں وفا نصیب فرما۔ہمیں اس محبت سے حصہ دے جو تیرے حبیب ﷺکے دل میں تھی۔آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ

حضور ﷺ کا اللہ پاک سے تعلق عشقِ الٰہی،عبودیتِ کامل اور اطاعت کا مظہر تھا، جس میں آپ نے اپنی پوری زندگی اللہ  پاک کی رضا کے لیے بسر کی،حتی کہ راتوں کو عبادت میں گزارتے اور روزے رکھتے۔آپ کی اللہ پاک سے محبت اس قدر گہری تھی کہ آپ نے اپنی ذات اور تمام خواہشات کو اللہ پاک کی مرضی کے تابع کر دیا تھا۔

محبت کے مظاہر:

عبادت و ریاضت:حضور ﷺ رات کے اوقات میں طویل قیام کرتے،عبادت کرتے اور اللہ پاک سے مناجات فرماتے،حتى کہ آپ کے قدم سوج جاتے تھے۔

اطاعت و تسلیم:آپ نے اپنی تمام تر زندگی اللہ پاک کے احکام کی پیروی اور فرمانبرداری میں گزاری،جس میں آپ کی تمام خواہشات اور اقدامات اللہ پاک کی رضا کے مطابق ہوتے تھے۔

اللہ پاک کی یاد:آپ کی زبان پر ہمیشہ اللہ پاک کا ذکر رہتا اور آپ ہر حالت میں اللہ پاک کو یاد کرتے۔

قربانی و ایثار:آپ نے اپنی ذات سے زیادہ اللہ پاک کی محبت میں قربانی دی اور اللہ پاک کی راہ میں ہر قسم کے مصائب اور مشکلات کو برداشت کیا ۔

روحانی قربت:اللہ پاک سے محبت نے آپ کو روحانی قربت اور اتصال کا مقام بخشا، جس کے نتیجے میں آپ اللہ پاک کے سب سے قریب ہو گئے ۔

حضور نبیِ کریم ﷺکی پوری زندگی اللہ پاک کی محبت اور رضا کے گرد گھومتی تھی۔ آپ کا ہر قول،ہر فعل اور ہر عمل اللہ پاک کی یاد اور اس کی قربت سے جڑا ہوا تھا۔آپ کی محبتِ الٰہی ایسی خالص اور کامل تھی کہ جس نے آپ کو کائنات کے لیے رحمت بنا دیا۔

عبادت اور بندگی:

حضور ﷺ کی عبادت اللہ پاک کی محبت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔آپ طویل قیام میں نماز پڑھتے،راتوں کو گریہ و زاری فرماتے اور اللہ پاک سے قربت حاصل کرنے میں دل کی سکونت تلاش کرتے۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نبی ﷺ رات میں اتنا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک متورم ہو جاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جب کہ آپ کے اگلوں او رپچھلوں کے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں؟تو فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!(بخاری،3/329،حدیث: 4837)

دعا اور ذکر:

آپ کی زبان ہر وقت اللہ پاک کے ذکر سے تر رہتی تھی۔دن کے آغاز سے لے کر رات کے اختتام تک،ہر موقع پر اللہ پاک کا نام لیتے اور دعا کرتے۔چاہے کھانے پینے کا معاملہ ہو یا سفر و حضر کا،خوشی کا وقت ہو یا غم کا،آپ کا سہارا صرف اللہ پاک کی ذات تھی۔

اللہ پاک پر اعتماد

حضور کی اللہ پاک سے محبت کا ایک پہلو کامل اعتماد اور توکل ہے۔ہجرت کے وقت غارِ ثور میں جب دشمن بالکل قریب پہنچ گیا تو حضرت ابوبکر صدیق گھبرا گئے،تو آپ نے فرمایا:

لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ-10، التوبۃ:40)ترجمہ: غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

یہ کلمات آپ کے دل کی گہرائی میں رچی ہوئی محبت اور یقین کو ظاہر کرتے ہیں۔

محبت میں عاجزی:

اللہ پاک سے محبت نے حضور کے اندر عجز و انکسار کو اور زیادہ بڑھا دیا۔آپ سب سے زیادہ متواضع تھے،فرشِ خاک پر بیٹھ کر کھانا کھاتے،غلاموں کے ساتھ محبت سے پیش آتےاور ہمیشہ یہ اعتراف کرتے کہ سب کچھ اللہ پاک کی عطا ہے۔

اللہ پاک کی اطاعت ہی محبت کی نشانی ہے:

اللہ پاک نے فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ نبی ﷺکی پوری زندگی اللہ پاک کی محبت اور رضا کے لیے وقف تھی اور ان کی اتباع ہی اللہ پاک کی محبت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

رسول ﷺکا مقام و قرب:

وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ:اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔

اللہ پاک نے اپنے محبوب کا ذکر اپنے ساتھ جوڑ دیا،اذان،نماز اور کلمہ میں اس کی جھلک موجود ہے۔یہ قرب اللہ پاک کی محبت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

رسول کی بندگی:

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ (پ15،بنی اسرائیل: 1)ترجمہ:پاکی ہے اسے جوراتوں رات اپنے بندے کو لے گیا۔

معراج جیسے عظیم سفر میں بھی اللہ پاک نے آپ کوعبد کہا،یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بندگی اللہ پاک کی محبت کی معراج ہے ۔

نبیِ کریم ﷺ کی زندگی کا مقصد اللہ پاک کی محبت اور رضا کو پانا تھا۔آپ کی بندگی، دعا، عبادت،شکر گزاری اور توکل سب اللہ پاک سے بے مثال محبت کے آئینہ دار ہیں۔

رسول اللہ ﷺکی اللہ پاک سے محبت کے بے شمار واقعات ہیں جو سیرت کی کتابوں اور احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔یہ واقعات نہ صرف محبتِ الٰہی کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ ہمیں بھی سبق دیتے ہیں کہ اللہ پاک سے تعلق کیسے مضبوط کیا جائے۔

حضور کی اللہ پاک سے محبت کے واقعات:

طائف کا واقعہ:

جب اہلِ طائف نے آپ کو پتھروں سے زخمی کیا اور سخت تکالیف دیں،اس وقت بھی آپ نے اللہ پاک کی طرف رجوع کیا اور دعا کی:اے اللہ پاک!میں تیری بارگاہ میں اپنی کمزوری،اپنی بے بسی اور لوگوں کی نظروں میں اپنی بے وقعتی کی شکایت کرتا ہوں۔(معجم کبیر،13/52،حدیث:181)

اس دعا میں صاف ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کے لیے اصل دکھ اللہ پاک کی ناراضی کا تھا،نہ کہ لوگوں کی تکلیف۔

معراج کی رات:

معراج کے موقع پر جب حضور کو اللہ پاک کے قریب جانے کا شرف ملا،تو اللہ پاک نے آپ کو اپنی سب سے محبوب عبادت یعنی نماز کا تحفہ دیا۔

یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ حضور اور اللہ پاک کے درمیان محبت و قربت کا رشتہ کتنا عظیم تھا۔

رات کی طویل عبادت:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نبی ﷺ رات میں اتنا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک متورم ہو جاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جب کہ آپ کے اگلوں اورپچھلوں کے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں؟تو فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!

(بخاری،3/329،حدیث: 4837)

غارِ حرا میں خلوت:

نبوت سے پہلے بھی حضور ﷺ اللہ پاک کی محبت اور تلاش میں غارِ حرا میں کئی کئی دن عبادت اور غور و فکر کرتے رہتے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کا دل ابتدا ہی سے اللہ پاک کی معرفت اور قرب کا طلب گار تھا۔

بھوک اور فاقہ برداشت کرنا:

مدینہ میں کئی مواقع پر حضور اور اہلِ بیت نے کئی دن بھوک برداشت کی،لیکن کبھی اللہ سے شکوہ نہیں کیا۔

دنیا کی آسائشوں کے بجائے اللہ کی رضا کو ترجیح دینا،آپ کی اللہ سے محبت کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔

ان تمام واقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺکی محبتِ الٰہی صرف الفاظ تک محدود نہ تھی بلکہ ہر حال،ہر موقع اور ہر مشکل میں اللہ کی طرف رجوع کرنا،اسی پر بھروسا کرنا اور اسی کی رضا کو ترجیح دینا آپ کی زندگی کا اصل مقصد تھا۔

حضور نبیِ کریم ﷺکی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ سے حقیقی محبت صرف دعوؤں سے ظاہر نہیں ہوتی بلکہ عبادت،شکر گزاری،توکل اور عاجزی کے ذریعے سامنے آتی ہے۔آپ کی محبتِ الٰہی انسانیت کے لیے ایک نمونہ ہے کہ اگر بندہ اللہ کو دل سے چاہے تو وہی محبت اس کی زندگی کو روشنی اور رحمت بنا دیتی ہے۔

بے شک اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ اللہ پاک سے بہت محبت فرماتے ہیں اور اللہ پاک بھی ہمارے پیارے آقا ﷺ سے بہت محبت فرماتا ہے ۔اللہ پاک نے اپنے پیارے محبوب ﷺ کے لیے دو جہاں کو پیدا فرمایا ۔

قرآنِ مجید سے دلائل

(1) اللہ کی محبت کی پیروی:

آیت:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اس بات کا اعلان ہے کہ رسول اللہ ﷺکی سیرت اور سنت در اصل اللہ پاک کی محبت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

(2) محبوبِ الٰہی کا مقام:

آیت:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔

اللہ پاک نے آپ کو اپنی محبت اور قرب کا ایسا مقام عطا فرمایا کہ آپ کا ذکر اپنے ذکر کے ساتھ لازم و ملزوم کر دیا اذان،اقامت،کلمہ طیبہ وغیرہ میں۔

احادیثِ مبارکہ سے دلائل

(1) سب سے زیادہ عبادت کرنے والے:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)یہ آپ کی اللہ پاک سے محبت اور شکر گزاری کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔

(2) سب سے زیادہ اللہ پاک کو یاد کرنے والے:

رسول اللہﷺ نے فرمایا: وَ اللهِ اِنِّى لَأَخْشَاكُمْ لِلهِ وَ أَتْقَاكُمْ لَهُخدا کی قسم !میں تم میں سب سے زیادہ اللہ پاک سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں۔

(بخاری،3/421،حدیث:5063)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ آپ کا دل اللہ کی محبت اور خشیت سے لبریز تھا۔

(3) محبوب کا محبوب

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَنِي خَلِيلاً كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلاً اللہ پاک نے مجھے اپنا حبیب بنایا ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا۔(مسلم،ص270،حدیث:23(532)) حبیب یعنی اللہ پاک کا سب سے زیادہ محبوب۔یہ مقام کسی اور کو حاصل نہیں۔

قرآن بتاتا ہے کہ اللہ پاک کی محبت رسول اللہ ﷺکی پیروی کے بغیر ممکن نہیں۔

رسول اللہﷺ کی عبادت،شکر گزاری،خشیت اور تقویٰ آپ کی اللہ پاک سے بے پناہ محبت کا مظہر ہیں۔

آخر میں دعا ہے کہ اللہ پاک ہمارے دلوں میں اپنی اور اپنے پیارے محبوب ﷺ کی محبت پیدا فرمائے ، مدینہ پاک کی حاضر نصیب فرمائے اور ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔آمین 


حضور پاک ﷺ کا اللہ پاک سے تعلق بے مثال محبت پر مبنی ہے،جو قرآن و سنت میں بیان کردہ ہے۔یہ محبت صرف عقیدت تک محدود نہیں بلکہ آپ کی زندگی کے ہر پہلو میں نظر آتی ہے،جہاں آپ نے اللہ پاک کے احکام کو اپنی زندگی کا محور بنایا اور اپنی امت کو بھی اسی راستے پر چلنے کی تلقین کی۔

اللہ پاک کی طرف سے حضور ﷺکی محبت:

اللہ پاک نے آپ کو اپنا حبیب یعنی محبوب قرار دیا اور اپنی محبت کا اظہار یوں کی کہ آپ کی اطاعت اور پیروی کو لازم قرار دے کر کیا۔قرآنِ مجید میں اللہ پاک نے فرمایا: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

حضور ﷺکی اللہ پاک سے محبت کی مثالیں،اطاعت و اتباع:

حضور پاک ﷺ کی زندگی مکمل طور پر اللہ پاک کی اطاعت اور احکام کی پیروی میں گزری۔

قرآنِ پاک کی روشنی میں زندگی:

آپ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ قرآنِ پاک کے مطابق گزارا اور اسے اپنی امت کے لیے بہترین مثال بنایا ۔

دعوتِ دین:

آپ نے اللہ پاک کے دین کی تبلیغ کی اور اپنی پوری زندگی لوگوں کو اللہ پاک کی طرف بلانے میں وقف کر دی۔

دکھ اور مصائب میں صبر:

اللہ پاک سے محبت کی وجہ سے آپ نے دین کی راہ میں آنے والے تمام مصائب اور تکالیف کو صبر و استقامت سے برداشت کیا۔

امت سے شفقت:

آپ کی اللہ پاک سے محبت اس قدر گہری تھی کہ آپ کی شفقت اور ہمدردی اپنی امت کے لیے دنیا اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بن گئی۔

محبت کا تقاضا:

حضور پاک ﷺ سے سچی محبت کا تقاضا ہے کہ ہم ان کی سنتوں اور سیرت کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں۔ان کی تعلیمات کو اپنانا،ان کی سیرت کے مطابق زندگی گزارنا اور ان کے لائے ہوئے دین کو لوگوں تک پہنچانا ہی اصل حُب رسول ہے۔

الله پاک نے ارشاد فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

حضور نبیِ اکرم ﷺکی محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ایک مومن کے دل میں آپ کی محبت کا معیار اور پیمانہ کیا ہونا چاہیے؟اس امر کو حضور نبیِ اکرم ﷺ نے خود اپنے ارشاداتِ عالیہ کی روشنی میں واضح فرمادیا ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اكرم ﷺ نے فرمایا: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتّٰى أَكُوْنَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِهٖ وَ وَلَدِهٖ وَ النَّاسِ أَجْمَعِينَتم میں سے کوئی شخص کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی جان،اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔(بخاری،1/17، حدیث: 15)

یعنی والدین،اولاد،میاں بیوی،بھائیوں،بہنوں،عزیز و اقارب،دوست احباب،خونی رشتوں،خاندانوں،مناصب اور دنیا کی ہر چیز کی محبت جو انسان کے دل کو مرغوب اور محبوب ہوتی ہے،جس کی طلب،رغبت اور محبت کی طرف انسان کا میلان اور جھکاؤ ہوتا ہے،ان سارے میلانات اور رجحانات سے بڑھ کر حضور سے محبت کرنا ایمان ہے۔گویا جب تک کسی مسلمان کے دل میں کائنات اور عالمِ خلق کی ساری محبتوں سے بڑھ کر حضور نبیِ اکرم ﷺ کی محبت نہ ہو تو وہ مومن نہیں ہوسکتا۔حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے زبانِ مصطفےٰ سے جب یہ فرمان سنا تو آقا ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی:يَا رَسُولَ اللهِ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِييا رسول الله ﷺ ! آپ مجھے اپنی جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔(بخاری،4/283،حدیث:6632)


رحمتِ عالم،حضرت محمد ﷺ کی اللہ پاک کے ساتھ گہری اور بے مثال محبت:یہ اطاعت، شکر گزاری،مناجات،صبر اور اللہ پاک کے دین کی خاطر ہر مشکل کا سامنا کرنا یہ سب اللہ پاک سے محبت ہے۔

محبت کا اظہار اطاعت کی شکل میں:

حضور ﷺ نے اللہ پاک کے ہر حکم کی تعمیل میں جو عجلت اور کامل فرمانبرداری دکھائی،اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی سنتوں اور اعمال کا مقصد صرف اللہ پاک کی رضا کا حصول تھا۔

مناجات اور عبادت میں محبت:

قیام اللیل(رات کا قیام)کی کیفیت اور اس میں آپ کا جذبۂ محبت۔آپ کے پاؤں کا سوج جانا اور اس پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا سوال اور آپ کا جواب:کیا میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟(بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

آپ کی دعاؤں میں عاجزی،توکل اور اللہ پاک کی تعریف و ثنا کا بیان۔

صبر اور توکل میں محبت:

طا‏‏ئف،شعبِ ابی طالب اور دیگر کٹھن حالات میں اللہ پاک پر آپ کے مکمل توکل کرنا۔جنگوں میں اللہ پاک کی مدد پر کامل یقین اور اس کے نتیجے میں ثابت قدمی۔

امت کے لیے شفقت اور محبتِ الٰہی کا تعلق:

آپ کی امت کے لیے تڑپ اور فکر مندی در حقیقت اللہ پاک کے بندوں سے محبت اور ان کی ہدایت کی خواہش تھی،جو اللہ پاک کی محبت کا ہی مظہر ہے۔

قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں یہ واضح کرنا کہ اللہ پاک کی محبت کا معیار صرف زبانی دعویٰ نہیں بلکہ رسول اللہﷺ کی اتباع ہے۔جیسا کہ سورۂ ال عمرٰن کی آیت:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31)ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اس بات کا اعلان ہے کہ رسول اللہ ﷺکی سیرت اور سنت در اصل اللہ پاک کی محبت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

آیت:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔

اللہ پاک نے آپ کو اپنی محبت اور قرب کا ایسا مقام عطا فرمایا کہ آپ کا ذکر اپنے ذکر کے ساتھ لازم و ملزوم کر دیا جیسا کہ اذان،اقامت،کلمہ طیبہ اور بھی بہت جگہ۔

حضور ﷺ کی اللہ پاک سے محبت احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837) یہ جملہ آپ کی اللہ پاک سے محبت اور شکر گزاری کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا:وَ اللهِ اِنِّى لَأَخْشَاكُمْ لِلهِ وَ أَتْقَاكُمْ لَهُخدا کی قسم !میں تم میں سب سے زیادہ اللہ پاک سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں۔

(بخاری،3/421،حدیث:5063)

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ کا دل اللہ پاک کی محبت اور خشیت سے لبریز تھا۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَنِي خَلِيلاً كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلاً اللہ پاک نے مجھے اپنا حبیب بنایا ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا۔(مسلم،ص270،حدیث:23(532)) حبیب یعنی اللہ پاک کا سب سے زیادہ محبوب۔یہ مقام کسی اور کو حاصل نہیں۔

آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اپنی اور اپنے محبوب ﷺکی حقیقی محبت عطا فرمائے۔آمین


اللہ پاک نے اپنے حبیبِ مکرم،حضرت محمد مصطفےٰ  ﷺکو اپنی محبت کا سب سے اعلیٰ مظہر بنایا۔نبیِ اکرم ﷺکی ذات وہ مقدس ہستی ہے جن کے دل میں سب سے زیادہ محبتِ الٰہی موجزن تھی۔آپ کی پوری زندگی،بچپن سے لے کر وصال تک،اللہ پاک کی رضا، محبت اور قرب کے رنگ میں ڈوبی ہوئی تھی۔

قرآن میں نبیﷺ کی محبتِ الٰہی:

اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں متعدد مقامات پر اپنے حبیب ﷺکے دل کی کیفیت اور ان کی محبت کو بیان فرمایا:فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ(۷۹)(پ 20،النمل:79)ترجمہ: تو تم اللہ پر بھروسا کرو بےشک تم روشن حق پر ہو۔

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نبیِ کریم کی ساری امیدیں،بھروسا اور محبت صرف اور صرف اللہ پاک سے تھی۔ ایک اور مقام پر فرمایا گیا: وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪(۷) (پ30،الضحیٰ:7)ترجمہ: اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔

یعنی نبی ﷺ دل سے اللہ پاک کی تلاش میں تھےاور اللہ پاک نے اپنی معرفت و قرب سے آپ کے دل کو منور فرما دیا۔

نبیﷺ کی زبان پر محبتِ الٰہی کے الفاظ:

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اکثر دعا میں فرمایا کرتے تھے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔

(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ نبی ﷺکی سب سے بڑی خواہش اللہ ﷺکی محبت تھی نہ کہ دنیا یا مخلوق کی رضا۔

عبادت میں محبت کا مظہر:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہی محبتِ الٰہی تھی جس نے نبی ﷺ کو عبادت میں ایسا ذوق عطا کیا کہ آپ ساری رات اللہ پاک کے حضور کھڑے رہتے۔

ذکر و دعا میں محبت کا اظہار:

نبیِ اکرم ﷺ کا ذکر،دعا اور خاموشی تک سب اللہ پاک سے محبت کا آئینہ تھا۔آپ اکثر فرماتے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔

(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

اللہ پاک کی طرف سے جوابِ محبت:

اللہ پاک نے بھی اپنے حبیب ﷺکو اپنی محبت اور قرب سے سرفراز فرمایا۔قرآنِ کریم میں فرمایا گیا:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔

یعنی اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺ کے نام کو اپنے نام کے ساتھ جوڑ دیا اذان، اقامت،نماز اور کلمہ میں۔

محبت کا کمال:قربِ مع اللہ:

معراج النبی،محبتِ الٰہی کا سب سے اعلیٰ مظہر ہے جہاں نبی ﷺکو وہ قرب عطا ہوا کہ جس کا کسی بشر کو تصور بھی نہیں۔ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ(۸) فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ(۹)

(پ27،النجم:8-9)ترجمہ:پھر وہ جلوہ قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔ تو دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔

یہ قرب اور محبت کا وہ مقام ہے جہاں اللہ پاک نے اپنے حبیب سے بلاواسطہ کلام فرمایا یہ عشقِ حقیقی کی معراج ہے۔

اقوالِ صحابہ رضی اللہ عنہم:

حضرت علی فرماتے ہیں:رسول اللہﷺ کی محبت اللہ پاک کی محبت کا راستہ ہے جو ان سے محبت کرتا ہے در اصل وہ اللہ پاک سے محبت کرتا ہے۔

حضرت بلال کہا کرتے تھے:میں اذان دیتا ہوں تاکہ محبوبﷺ کی سنت کے ذریعے محبوبِ حقیقی کو یاد کیا جائے۔

نبیِ کریم ﷺکی پوری زندگی محبتِ الٰہی کا آئینہ تھی۔آپ نے ہمیں سکھایا کہ اللہ پاک کی محبت صرف زبانی نہیں بلکہ دل،عمل،نیت اور قربانی میں ہونی چاہیے۔اللہ پاک کی محبت کا معیار وہی ہے جو نبی صلی اللہُ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے اپنے عمل سے دکھایا فرمانبرداری، صبر، شکر اور ہر حال میں رضا کے ذریعے۔اے اللہ پاک! ہمیں بھی اپنے حبیب ﷺ جیسی محبت عطا فرما،ہمیں اپنی رضا،اپنے قرب اور اپنی یاد میں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔آمین