اللہ پاک نے اپنے محبوب،حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ بلند مقام عطا فرمایااور آپ کی ہر ادا کو معیارِ ہدایت بنایا۔آپ کی اللہ پاک سے محبت سب سے کامل،خالص اور بے مثال تھی۔یہ محبت نہ صرف قول سے بلکہ عمل، اطاعت، عبادت،توکل اور تسلیم و رضا کی اعلیٰ ترین شکلوں میں ظاہر ہوئی۔

قرآنِ مجید کی روشنی میں

1 :سورۃ النجم:وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ(۱)مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ(۲)(پ27، النجم:1-2)ترجمہ:اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اُترے تمہارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی راہ اور دین اللہ پاک کی طرف سے ہے،جس میں آپ کی محبتِ الٰہی شامل ہے۔

2 :سورۃ الِ عمرٰن:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،ال عمرٰن: 31)ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

اللہ پاک نے اپنے نبی ﷺ کی اتباع کو اپنی محبت کا معیار قرار دیا۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات،اللہ سے محبت کا مجسم نمونہ ہے۔

3:سورۃ الضحیٰ:وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪(۷) (پ30،الضحیٰ:7)ترجمہ: اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی۔

یہ آیت اللہ پاک کی خاص ہدایت اور نگہبانی کی طرف اشارہ کرتی ہے،جو آپ کو اللہ پاک سے خاص تعلق کی بنیاد پر عطا ہوئی۔

احادیث کی روشنی میں

1: نماز میں محبتِ الٰہی:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)یہ عبادت،شکر اور محبت کا اعلیٰ ترین اظہار تھا۔

2: دعا میں محبت:

آپ ﷺ اکثر دعا فرماتے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)یہ دعا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ حضور ﷺ کا دل محبتِ الٰہی سے لبریز تھا۔

3 :توکل اور رضا:

جب طائف کے میدان میں پتھروں سے زخمی کیا گیااور جبریل علیہ السلام نے پہاڑوں کے فرشتے کو پیش کیا کہ اگر چاہیں تو طائف والوں کو تباہ کر دیا جائے،تو آپ نے فرمایا: اَللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَاے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے،کیونکہ یہ نہیں جانتے۔ (الشفا،1/ 105)

یہی وہ دل ہے جو اللہ کی رضا میں راضی ہے اور اس کی مخلوق سے بھی محبت رکھتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی اللہ پاک سے محبت کامل،خالص اور بے مثال تھی۔یہ محبت صرف الفاظ یا جذبات کی حد تک نہ تھی،بلکہ مکمل اطاعت، بندگی،عبادت،شکر،صبر، توکل اور رضا کی عملی شکل میں تھی۔اگر ہم بھی اللہ پاک سے سچی محبت کی طلبگار ہیں تو ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو اپنانا ہوگا،کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا:فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،ال عمرٰن: 31)ترجمہ:تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

اللہ پاک ہمیں پیارے حبیب ﷺ کے صدقے سچی محبت عطا فرمائے ۔آمین