نبیِ کریم ﷺ کی نماز سے محبت:
اللہ کریم کے آخری
نبی ﷺ کو نماز سے بہت محبت تھی۔آپ نے نماز کو اپنی انکھوں کی ٹھنڈک فرمایا۔(نسائی،ص 644،حدیث:3946)جب
نماز کا وقت ہوتا تو آقا کریم ﷺ حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرماتے:اے بلال!اٹھو
اور ہمیں نماز سےراحت پہنچاؤں۔( ابو داود 4/385،حدیث:4986)
ذکرِ الٰہی میں مشغولیت:
اللہ پاک کی آخری
نبی ﷺ گناہوں سے معصوم اور رب کے محبوب ہونے کے باوجود ہمہ وقت اللہ کی یاد میں
مشغول رہتے تھے ،سفر و حضر ،خلوت و جلوت،صحت و بیماری الغرض کیسے ہی حالات ہوتے آپ اللہ پاک کے ذکر میں
مشغول رہتے۔چنا نچہ بخاری شریف کی ایک حدیثِ پاک میں ہے کہ نبیِ کریم ﷺ ہر وقت
اللہ پاک کا ذکر کرتے رہتے تھے۔(بخاری،1/124)
اٹھتے بیٹھتے،چلتے پھرتے،کھاتے
پیتے،سوتے جاگتے،وضو کرتے،نئے کپڑے پہنتے، سوار ہوتے،سواری سے اترتے،سفر میں
جاتے،سفر سے واپس ہوتے،بیت الخلاء میں داخل ہوتے اور نکلتے، مسجد میں آتے جاتے،
جنگ کے وقت،آندھی، بارش، بجلی کڑکتے وقت،ہر وقت ہر حال میں دعائیں وردِ زبان رہتی
تھیں۔(
سیرتِ مصطفیٰ،ص598)
دعا:
اللہ پاک ہمیں بھی اپنے حبیب پاک ﷺ کے صدقے اللہ
پاک کی سچی محبت عطا فرمائے۔
Dawateislami