اللہ پاک نے اپنے حبیب،حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ  کو تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ عزت،مقام اور قرب عطا فرمایا۔آپ کی پوری زندگی اللہ پاک کی محبت اور اس کے دین کی سر بلندی کے لیے وقف تھی۔آپ کا دل اللہ کے ذکر سے معمور اور زبان اس کی حمد و ثنا سے تر رہتی تھی۔

در حقیقت،رسولِ اکرمﷺ کی سیرتِ طیبہ ایک زندہ تفسیر ہے کہ ایک بندہ اپنے رب سے کس طرح محبت کرتا ہے۔

محبتِ الٰہی کا سرچشمہ:

اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا: وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ-(پ2، البقرۃ: 165)ترجمہ: اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔

یہ آیت رسولِ اکرم ﷺپر پوری طرح صادق آتی ہے۔آپ کی ذات وہ مرکز ہے جہاں محبتِ الٰہی اپنے عروج پر پہنچی۔

آپ کے دل میں دنیا کی کوئی چاہت نہ تھی،صرف اللہ کی رضا کی طلب تھی۔اسی محبت کی بنا پر آپ نے مصائب برداشت کیے،تبلیغ کا فریضہ ادا کیا اور اپنے رب کی بندگی میں سراپا فنا ہو گئے۔

عبادت میں عشقِ الٰہی کی جھلک:

حضور کی عبادتیں صرف فرض کی حد تک نہ تھیں بلکہ عشق و محبت کی گہرائیوں سے معمور تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں، پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہی شکر،یہی محبت،یہی عشق وہ قوت تھی جس نے حضور ﷺکو سب سے بلند درجہ عطا کیا۔

زندگی کے ہر لمحے میں اللہ کی یاد:

آپ کا ہر عمل،ہر فیصلہ اور ہر گفتگو اللہ کی یاد سے وابستہ تھی۔کھانے سے پہلےبِسْمِ اللہ،کام کے بعدالحمد للہ اور ہر حال میں اِن شَاءَ اللہ یہ سب آپ کی عادتیں تھیں،جو محبتِ الٰہی کی علامت ہیں۔اللہ کے ذکر سے آپ کو روحانی راحت ملتی تھی۔جیسا کہ آپ نے فرمایا:اپنےربِّ کریم کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنےوالےکی مثال زندہ اورمُردہ کی طرح ہے۔(بخاری،4/220،حدیث:6407)یہ بات بتاتی ہے کہ آپ کے نزدیک زندگی کی اصل روح اللہ کی یاد میں پوشیدہ ہے۔

دعاؤں میں محبت کی جھلک:

حضور کی دعائیں اللہ پاک سے گہری محبت کا مظہر تھیں۔آپ اکثر یوں دعا کرتے: اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے۔ (ترمذی، 5/296،حدیث:3501)

یہ دعا اس بات کی دلیل ہے کہ حضورﷺ کا سب سے بڑا مقصد اللہ کی محبت حاصل کرنا تھااور وہ چاہتے تھے کہ امت بھی اسی راہ پر چلے۔

دنیاوی راحتوں سے بے نیازی:

آپ نے دنیا کو محبتِ الٰہی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ایک موقع پر آپ نے فرمایا:

میرا دنیا سے کیا تعلق؟ میری اور دنیا کی مثال تو بس اس سوار کی طرح ہے جس نے گرمی کے دن میں کسی درخت کے سائے تلے تھوڑی دیر آرام کیا، پھر وہ (وہاں سے) چل دیا اور اسے (وہیں) چھوڑ دیا۔(مسند امام احمد،7/259،حدیث 4208)

یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ آپ کے دل میں دنیا کی کوئی جگہ نہیں تھی صرف اللہ کی رضا کی طلب تھی۔آپ نے کبھی مال و دولت کی تمنا نہیں کی،بلکہ دل کی دولت کو سب سے بڑی نعمت سمجھا۔

امت کو محبتِ الٰہی کی دعوت:

حضور ﷺنے اپنی امت کو بھی اللہ سے سچی محبت کا درس دیا۔قرآنِ پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ حضور ﷺکی اتباع ہی محبتِ الٰہی کا راستہ ہے۔جو حضور کی سنتوں پر عمل کرے گی وہ اللہ کی پسندیدہ بندی بنے گی۔حضور ﷺ کی اللہ پاک سے محبت الفاظ سے بیان نہیں کی جا سکتی۔یہ محبت آپ کے ظاہر و باطن،گفتار و کردار اور عبادت و دعا کے ہر گوشے میں نمایاں تھی۔آپ نے ہمیں یہ سکھایا کہ اصل کامیابی دنیاوی لذتوں میں نہیں بلکہ اپنے رب کی رضا میں ہے۔اگر ہم حضور کی پیروی کریں،آپ کے اخلاق اپنائیں اور آپ کی سنتوں پر عمل کریں تو ہم بھی اللہ پاک کی محبوب بندیوں میں شامل ہو سکتی ہیں۔