اللہ پاک نے انسان کو اپنی عبادت اور محبت کے لیے پیدا فرمایا ہے،جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)(پ27، الذریت: 56)ترجمہ: اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔

عبادت در اصل محبتِ الٰہی کا ہی ایک مظہر ہے اور اگر اس محبت کا سب سے اعلیٰ اور کامل نمونہ دیکھنا ہو تو وہ اللہ کے حبیب،حضرت محمد ﷺکی ذاتِ اقدس ہے۔حضور کی زندگی کا ہر لمحہ،ہر عمل،ہر دعا اور ہر آنسو اللہ پاک کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا۔

حضور کی محبتِ الٰہی کا مظہر :

حضور بچپن ہی سے ذکرِ الٰہی میں مصروف رہتے۔مکہ کے پہاڑوں پر غارِ حرا کی تنہائیوں میں آپ گھنٹوں اور دنوں اللہ کی یاد میں بسر کرتے۔جب وحیِ الٰہی نازل ہوئی تو آپ پر ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھ گیا،مگر اس کے باوجود آپ کی عبادت میں کمی نہیں آئی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نبی راتوں کو اتنی دیر تک قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے تھے۔میں عرض کرتی:یا رسول اللہ! آپ اتنی مشقت کیوں فرماتے ہیں جبکہ آپ کے اگلوں اورپچھلوں کے گناہ معاف ہو چکے ہیں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ، حدیث:4837)

یہ جملہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ کی عبادت کسی خوف یا مجبوری کی وجہ سے نہیں بلکہ محبتِ الٰہی کے جذبے سے تھی۔

محبت میں فنا ہونے کا عالم :

حضور اللہ پاک کی یاد میں اس قدر محو رہتے کہ آپ کے آنسو مبارک رخساروں کو تر کر دیتے۔قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ(۶) (پ29،المزمل:6)ترجمہ:بے شک رات کا اٹھنا وہ زیادہ دباؤ ڈالتا ہےاور بات خوب سیدھی نکلتی ہے۔

یہی وجہ تھی کہ آپ راتوں کو عبادت میں گزار دیتے اور دن کو امت کے لیے جد و جہد کرتے۔

آپ نے فرمایا:اللہ سے محبت کرنے والا ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھتا ہے۔ (ترغیب و ترہیب، 4/ 298)

محبت کا مظاہرہ اطاعت سے :

اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ اصل محبتِ الٰہی حضور کی اتباع میں ہے۔ خود حضور سب سے بڑھ کر مطیع و فرمانبردار تھے،نیز آپ نے ہر حکمِ الٰہی کو نہایت شوق اور محبت سے بجا لایا۔

دعاؤں میں محبت کا رنگ :

رسولِ اکرم ﷺکی دعائیں عشق و محبت سے بھرپور تھیں۔

آپ اکثر فرمایا کرتے:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے۔الٰہی!اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

محبتِ الٰہی کی روشنی میں امت کی محبت :

حضورﷺ کی محبت صرف اللہ کے لیے تھی،اسی لیے آپ کی امت سے محبت بھی در اصل اللہ کی رضا کے لیے تھی۔

آپ نے فرمایا:میں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔(مسلم،ص1400،حديث:2599)

یہ رحمت در اصل اللہ کی محبت سے پیدا ہونے والا وہ نور تھا جو ہر مخلوق پر مہربان ہو گیا۔

حضور کی حضرت علی سے محبت :

حضورﷺ کی محبت کا مظہر ان کے اہلِ بیت علیہم الرضوان تھے،خاص طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے آپ کو بے پناہ محبت تھی۔

آپ نے فرمایا:جس کا میں مولا ہوں،علی بھی اس کے مولا ہیں۔(ترمذی،5/398، حدیث:3733)اسی طرح ایک بار مولا علی سے فرمایا:تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ (بخاری،2/212،حدیث:2699)

یہ محبت خالص اللہ کے لیے تھی،نہ کسی رشتے یا دنیاوی وابستگی کی بنا پر،بلکہ روحانی تعلق اور دین کے رشتے سے۔

نتیجہ :

حضور کی پوری زندگی اللہ کی محبت کی عملی تفسیر تھی۔آپ نے اپنی خواہشات،آرام اور دنیاوی لذتوں کو قربِ الٰہی کے بدلے قربان کر دیا اور اسی محبت کا مظہر آپ کی اپنے اہلِ بیت خصوصاً حضرت علی سے محبت تھی،جو محبتِ الٰہی کا ہی تسلسل تھی۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اللہ کی محبت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں،سنتِ نبوی کو اپنائیں اور ہر عمل میں اس کی رضا کو مقدم رکھیں۔

دعا:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔

(ترمذی،5/296،حدیث:3501)