اللہ پاک نے
اپنے محبوب،حضرت محمد مصطفےٰﷺ کو تمام
انسانوں کے لیے ہدایت و رحمت بنا کر بھیجا۔آپ کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ پاک کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا۔آپ کا سونا، جاگنا،چلنا،بولنا،عبادت کرنا،تبلیغ
کرنا،سب کچھ صرف اور صرف اللہ پاک کی رضا کے لیے تھا۔قرآنِ کریم میں اللہ پاک نے فرمایا:وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا
فَهَدٰى۪(۷)(پ30، الضحیٰ:7)ترجمہ:اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ
دی۔
آپ کی سیرت میں اللہ سے تعلق کی اعلیٰ ترین مثالیں
موجود ہیں۔میدانِ طائف میں جب لوگوں نے پتھر مارے تو بھی آپ نے اللہ پاک سے شکوہ نہ کیا،بلکہ یوں عرض کی: اے
اللہ! اگر تُو مجھ سے راضی ہے تو مجھے کسی کی پروا نہیں۔ (سیرت نبویہ لابن ہشام، 1/
419)
آپ کی دعا تھی:اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ
وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ
إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت
مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت
کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)
یہ محبت ہمیں
سکھاتی ہے کہ ہمارا بھی اللہ پاک سے تعلق مضبوط ہو۔ہم نماز، دعا، قرآن اور نیکیوں
کے ذریعے اپنے دل میں اللہ کی محبت کو جگہ دیں،جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں سکھایا۔ نبیِ کریم کی محبتِ الٰہی کی انتہا دیکھئے کہ جب راتوں کو
قیام فرماتے،آنکھوں سے آنسو بہتے،قدموں پر ورم آ جاتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا
میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!
(بخاری،3/329، حدیث: 4837)
اس حدیث سے
ثابت ہوتا ہے کہ حضور ﷺکو کسی گناہ سے ڈر نہیں تھا کیونکہ آپ معصوم تھے لیکن اللہ سے محبت اتنی شدید تھی کہ وہ راتوں
کو قیام کرتے،سجدے میں گر جاتے صرف شکر ادا کرنے کے لیے۔
غارِ ثور میں اعتماد ومحبت:
جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ غارِ ثور میں خوف زدہ ہوئے تو
رسول اللہ ﷺنے فرمایا:لَا تَحْزَنْ اِنَّ
اللّٰهَ مَعَنَاۚ-(پ10، التوبۃ:40)ترجمہ: غم نہ کھا
بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
یہ مکمل بھروسا
اور محبت کا اظہار ہے کہ سب کچھ چھن جائے،پر اللہ کافی ہے۔
حدیث:وَ اللهِ اِنِّى لَأَخْشَاكُمْ لِلهِ وَ أَتْقَاكُمْ لَهُخدا
کی قسم !میں تم میں سب سے زیادہ اللہ پاک سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں۔(بخاری،3/421،حدیث:
5063)
رسول اللہﷺ کی اللہ سے محبت علم،معرفت اور خشیت(دل کا خوف /احترام)
کے ساتھ تھی۔جو اللہ کو جتنا زیادہ پہچانتا ہے،وہ اس سے اتنی ہی زیادہ محبت کرتا
ہے اور اس کے سامنے جھکتا ہے۔
مفہوم :
رسول اللہﷺ کی اللہ سے محبت کامل،خالص اور ہر چیز سے بڑھ کر تھی۔آپ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی رضا،عبادت
اور اطاعت میں گزارا۔مشکل،راحت،تنہائی یا مجمع ہر حال میں آپ کا دل صرف اللہ سے
وابستہ تھا۔
Dawateislami