نبیِ کریم  ﷺکی اللہ پاک سے محبت بے مثال اور کامل ترین تھی۔آپ کا دل اللہ پاک کی یاد سے ہمیشہ منور رہتا،ہر حال میں اپنے رب کا ذکر فرماتے اور اس کی رضا کے لیے ہی زندگی گزارتے تھے۔آپ کی زبان پر ہمیشہ سبحٰن اللہ،الحمد لله،لا الہ الا الله اور الله اكبر جارى رہتا۔اللہ پاک نے اپنے محبوب نبی،حضرت محمد ﷺ کو سب سے زیادہ محبت کرنے والا،شکر گزار اور وفادار بندہ بنایا۔آپ کی زندگی کا ہر لمحہ رب کی یاد،اطاعت اور قربت میں گزرا۔آپ نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ سچی محبت صرف اللہ پاک کے لیے ہو اور اس محبت کا ثبوت عبادت،شکر اور سنت پر عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔اللہ پاک نے خود اپنے محبوب کی تعریف یوں فرمائی:وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)(پ29،القلم:4) ترجمہ: اور بیشک تم یقیناً عظیم اخلاق پر ہو ۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے محبوب کے اخلاق ِکریمہ کی عظمت بیان فرمائی۔

آیتِ مبارکہ:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ نبیِ کریم ﷺ اللہ پاک کے محبوب بندے ہیں اور اللہ پاک کی محبت کا راستہ حضور ﷺ کی اتباع سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

اللہ پاک سے سچی محبت عبادت میں ظاہر ہوتی ہے:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نبیِ کریم ﷺ راتوں کو اتنی دیر تک نماز پڑھتے کہ آپ کے پاؤں مبارک سوج جاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ تو معصوم ہیں،آپ یہ سب کیوں کرتے ہیں ؟آپ نے فرمایا:أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!(بخاری،3/329،حدیث: 4837)

یہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ پاک سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ ہم شکر کے ساتھ عبادت کریں نہ کہ مجبوری یا دکھاوے سے ۔

محبت میں بندہ رب کے سامنے جھکنے کو سعادت سمجھتا ہے:

نبی کا دعا میں محبت کا اظہار:

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:يَا مُعَاذُ!وَاللهِ اِنِّي لَاُحِبُّكَ ثُمَّ اُوْصِيْكَ يَا مُعَاذُ!لَا تَدَ عَنَّ في دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ تَقُولُ: اَللّٰهُمَّ اَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَ شُكْرِكَ وَ حُسْنِ عِبَادَتِكَاے معاذ!اللہ پاک کی قسم!میں تم سے محبت کرتا ہوں۔پھر تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ کہنا ہرگز نہ چھوڑنا:

اے اللہ! اپنے ذکر وشکر اور اچھی عبادت پر میری مدد فرما۔(ابو داود،2/123، حدیث :1522)

یہ دعا ظاہر کرتی ہے کہ نبی ﷺ خود بھی ہمیشہ اللہ پاک کی یاد،شکر اور عبادت میں رہنے کی دعا کرتے تھے اور دوسروں کو بھی اسی محبتِ الٰہی کی دعوت دیتے تھے۔

نبیﷺ کی رات کی عبادت اور اللہ پاک سے محبت:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نبیِ کریم ﷺ رات میں اتنی طویل نماز پڑھتے کہ آپ کے مبارک پاؤں سوج جاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟حالانکہ اللہ پاک نے آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف فرما دیئے ہیں!تو نبیِ کریمﷺ نے فرمایا: أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!(بخاری،3/329،حدیث: 4837)

اس واقعے کا مفہوم:

یہ واقعہ حضور ﷺ کی اللہ پاک سے سچی محبت اور شکر گزاری کی واضح دلیل ہے۔ اگرچہ آپ معصوم اور مغفور تھے،پھر بھی راتوں کو جاگ کر اللہ پاک کے حضور کھڑے رہتے کیونکہ آپ کا دل اپنے رب کی یاد میں سکون پاتا تھا۔

ہر حال میں اللہ پاک کا ذکر کرتے:

حدیثِ مبارک:عن عائشةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:كان رسولُ اللهِ يَذْكُرُ اللهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهٖرسول اللہ ﷺ ہر حال میں اللہ پاک کا ذکر کرتے تھے۔(مسلم،ص159، حدیث: 826)

محبت صرف الفاظ میں نہیں بلکہ ہر وقت اللہ پاک کی یاد میں رہنے کا نام ہے ۔

چاہے خوشی ہو یا غم عبادت ہو یا آرام

عاجزی اور شکر محبتِ الٰہی کی نشانی ہے

نبی ﷺ نے فرمایا:رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا،لَكَ ذَكَّارًا،لَكَ رَهَّابًا،لَكَ مِطْوَاعًا،لَكَ مُخْبِتًا، إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا اے اللہ پاک!مجھے اپنا بہت زیادہ شکر گزار،بہت زیادہ ذکر کرنے والا،تجھ سے بہت ڈرنے والا،اپنا بہت زیادہ فرمانبردار بنا،اپنے حضور عاجزی کرنے والا بنا،اپنی طرف گریہ و زاری کرنے والا اور رجوع کرنے والا بنا۔(ترمذی،5/323، حدیث:3562)

سبق:

اللہ پاک سے محبت کرنے والا بندہ عاجز، نرم دل اور شکر گزار ہوتا ہے۔وہ کبھی غرور نہیں کرتا،بلکہ رب کے سامنے جھکنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔

محبتِ الٰہی کی بنیاد اتباعِ رسول ہے:

آیتِ مبارکہ:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

سبق:

اللہ پاک سے محبت کا عملی ثبوت نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرنا ہے۔جو سچی محبتِ الٰہی چاہے وہ حضور کے طریقے پر چلتی رہے۔