حضور کی اللہ پاک سے محبت از بنتِ محمد
سلیم،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
رحمتِ عالم،حضرت محمد ﷺ کی اللہ پاک کے ساتھ گہری اور بے مثال محبت:یہ
اطاعت، شکر گزاری،مناجات،صبر اور اللہ پاک کے دین کی خاطر ہر مشکل کا سامنا کرنا یہ
سب اللہ پاک سے محبت ہے۔
محبت کا اظہار اطاعت کی شکل
میں:
حضور ﷺ نے
اللہ پاک کے ہر حکم کی تعمیل میں جو عجلت اور کامل فرمانبرداری دکھائی،اس کا خلاصہ
یہ ہے کہ آپ کی سنتوں اور اعمال کا مقصد
صرف اللہ پاک کی رضا کا حصول تھا۔
مناجات اور عبادت میں محبت:
قیام اللیل(رات
کا قیام)کی کیفیت اور اس میں آپ کا جذبۂ محبت۔آپ کے پاؤں کا سوج جانا اور اس پر
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا سوال اور آپ کا جواب:کیا میں شکر گزار بندہ
بننا پسند نہ کروں؟(بخاری،3/329 ،حدیث:4837)
آپ کی دعاؤں میں عاجزی،توکل اور اللہ پاک کی تعریف و ثنا کا بیان۔
صبر اور توکل میں محبت:
طائف،شعبِ ابی طالب اور دیگر کٹھن حالات میں
اللہ پاک پر آپ کے مکمل توکل کرنا۔جنگوں میں اللہ پاک کی مدد پر کامل یقین اور اس
کے نتیجے میں ثابت قدمی۔
امت کے لیے شفقت اور
محبتِ الٰہی کا تعلق:
آپ کی امت کے
لیے تڑپ اور فکر مندی در حقیقت اللہ پاک کے بندوں سے محبت اور ان کی ہدایت کی
خواہش تھی،جو اللہ پاک کی محبت کا ہی مظہر ہے۔
قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں یہ واضح
کرنا کہ اللہ پاک کی محبت کا معیار صرف زبانی دعویٰ نہیں بلکہ رسول اللہﷺ کی اتباع ہے۔جیسا کہ سورۂ ال عمرٰن کی آیت:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ
تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن:
31)ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے
ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔
یہ آیت اس بات
کا اعلان ہے کہ رسول اللہ ﷺکی سیرت اور
سنت در اصل اللہ پاک کی محبت کا سب سے بڑا
ذریعہ ہے۔
آیت:وَ رَفَعْنَا لَكَ
ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔
اللہ پاک نے آپ کو اپنی محبت اور قرب کا ایسا مقام عطا فرمایا کہ آپ کا ذکر اپنے ذکر کے ساتھ لازم و ملزوم کر دیا جیسا
کہ اذان،اقامت،کلمہ طیبہ اور بھی بہت جگہ۔
حضور ﷺ کی اللہ پاک سے محبت احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں:
حضرت عائشہ رضی
اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا
میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837) یہ
جملہ آپ کی اللہ پاک سے محبت اور شکر گزاری
کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا:وَ اللهِ اِنِّى لَأَخْشَاكُمْ لِلهِ وَ أَتْقَاكُمْ لَهُخدا
کی قسم !میں تم میں سب سے زیادہ اللہ پاک سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں۔
(بخاری،3/421،حدیث:5063)
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ کا دل اللہ پاک کی محبت اور خشیت سے لبریز تھا۔
حضرت عبد اللہ
بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَنِي خَلِيلاً كَمَا
اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلاً اللہ پاک نے مجھے اپنا حبیب بنایا ہے جیسے
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا۔(مسلم،ص270،حدیث:23(532)) حبیب یعنی اللہ پاک کا سب سے زیادہ
محبوب۔یہ مقام کسی اور کو حاصل نہیں۔
آخر میں اللہ
پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اپنی اور اپنے محبوب ﷺکی حقیقی محبت عطا فرمائے۔آمین
Dawateislami