تحفظ
عقیدۂ ختمِ نبوت میں علمائے اہلسنت کا کردار از بنت عبدالخالق،فیضان آمنہ کراچی
مقام یمامہ سے
لے کر آج تک ہر مسلمان تحفظ ختمِ نبوت کے عظیم مشن میں اپنے حصہ کی شمع جلا رہا
ہے۔ بالخصوص علمائے اہلسنت کی قربانیاں بہت نمایاں ہیں،علمائے اہلسنت نے ہمیشہ
کبھی قلم کے ذریعے ختمِ نبوت کا تحفظ کیا تو کبھی عملی میدان میں نکل کر ختمِ نبوت
پہ پہرا دیا اپنی جان،مال،عزت آبرو سب فدا کردی تحفظ ختمِ نبوت پر،قید و بند کی
صعوبتیں برداشت کیں شہدا کی لاشیں اٹھائیں اپنے قلم متحرک کئے جن کے بارے میں میرے
آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ: قیامت کے دن علمائے کرام کی سیاہی اور شہیدوں
کے خون کو تولا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: علمائے کرام کی سیاہی شہیدوں کے خون پر
غالب آجائے گی۔
اس ضمن میں
امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہ فتویٰ ارشاد فرمایا: من طلب
منہ علامۃ فقد کفر لقول النبی ﷺ لا نبی بعدی (مناقب امام
اعظم، ص 159)
امام اہل سنت
امام احمد رضا خان بریلوی کا کلکِ رضا تحفظ ختمِ نبوت میں کچھ یوں متحرک ہوا کہ:
محمد رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ عالم پناہ کا یہ ادنی کتا بعدد دانہائےریگ و ستارہائے
آسمان گواہی دیتا ہے اور میرے ساتھ تمام ملائکہ سمٰوٰت و ارض و حاملانِ عرش گواہ
ہیں اور خود عرش عظیم کا مالک گواہ ہےوکفیٰ باللہ شھیدًا کہ حضور پر نور ﷺ ہی آخری
نبی و رسول ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ،15/589)
پیر مہر علی
شاہ صاحب نے جب فتنۂ قادیانیت کے خلاف عملی میدان میں آکر علم جہاد بلند فرمایا تو
کچھ مخلص ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ حضور! آپ کا کام تو پیری مریدی کرنا ہے میدان
میں نکلنا نہیں۔اس پر تاجدار گولڑہ نے تاریخی جواب دیا کہ: حضور ﷺ کی عزت پر حملہ
ہو جائے اور مہر علی حجرے میں بیٹھ کر پیری مریدی کرتا رہے،ایسی بےغیرت فقیری ہم
سے نہیں ہو سکتی! (ملفوظات مہریہ،ص 118)
مولانا عبد
الستار خان نیازی نے جامعہ مسجد وزیر خان کو ہیڈ کوارٹر بنا کر وہاں سے تحریک ختمِ
نبوت کا آغاز فرمایا قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور جب ایک انٹرویو کے دوران
صحافی نے سوال کیا کہ مولانا آپ کی عمر کتنی ہے تو آپ نے فرمایا نیازی کی عمر تو
وہی ہے جو اپنے آقا ﷺ کی تحفظ ختمِ نبوت میں جیل میں گزاری باقی تو شرمندگی ہے ان
کے ساتھ دیگر علمائے اہلِ سنت کا کردار بھی تحفظ ختمِ نبوت میں پیش پیش رہا ہزاروں
علما نے اپنے جان و مال کو قربان کرنے میں دریغ نہ کیا بالآخر 7 ستمبر 1974 وہ دن
آیا جب 10ہزار شہدا کے خون سے آئین تحفظ ختمِ نبوت سینچا گیا اور علامہ شاہ احمد نورانی
صدیقی نے اپنے خونِ صدیقی سے وفا کرتے ہوئے اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم
اقلیت قرار دلوا کر سنتِ صدیقی ادا فرمائی۔
اسی طرح امیر
المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے بزرگوں کے نقشِ قدم پر
چلتے ہوئے اس مشن کی خاطر گراں قدر قربانی پیش کی اور دنیا کو بتایا کہ جب تک اس
زمین پر ایک بھی حق گو سنی موجود ہے ختمِ نبوت پہ پہرا ہوتا رہے گا۔
آپ فرمایا
کرتے تھے: عقیدہ ختمِ نبوت ایمان کا جز نہیں بلکہ بنیاد ہے، اسی بنیاد پر عمارتِ
ایمان کھڑی ہے۔
پختہ
ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل
عشق
ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی
Dawateislami