تحفظ
عقیدۂ ختمِ نبوت میں علمائے اہلسنت کا کردار از بنت عرفان،سراجا منیرا گجرات
میرے کریم رب کا
یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے پیارے حبیب مکے مدینے کے تاجدار ﷺ کی
چوکھٹ کی غلامی عطا فرمائی اور ایمان جیسی عظیم نعمت سے نوازا دین اسلام کی پوری
عمارت ہماری جان اور ہمارا ایمان صرف اور صرف ایک ہی بنیادی عقیدے پر قائم ہے اور
وہ یہ ہے کہ ہمارے پیارے پیارے آقا محمد مصطفٰی ﷺ کائنات کے سب سے آخری نبی ہیں آپ
ﷺ کے بعد اب کائنات میں کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا یہ کوئی عام مسئلہ نہیں بلکہ اس
عقیدے کو قرآن پاک خود ثابت کرتا ہے چنانچہ باری تعالیٰ سورۃ الاحزاب میں ارشاد
فرماتا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ
اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ
النَّبِیّٖنَؕ-
(پ 22، الاحزاب: 40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں
میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔
صحابہ
کرام کا کردار: تاریخ
گواہ ہے کہ اس عقیدے کا دفاع کوئی نیا کام نہیں بلکہ اس کا آغاز تو خود صحابہ کرام
علیہم الرضوان نے اپنے پاکیزہ خون سے کیا تھا جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا
دعویٰ کر کے مسلمانوں کو بہکانا چاہا تو خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
نے ذرا بھی دیر نہیں کی اور اس فتنۂ ارتداد کو کچلنے کے لیے معرکۂ یمامہ کا حکم
دے دیا۔ (عقیدہ ختمِ نبوت، ص 18 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) صحابہ نے اپنی جانیں قربان
کر کے یہ ثابت کیا کہ ناموس رسالت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
علمائے
اہلِ سنت کا تاریخی کردار: پھر جب برصغیر پاک و ہند میں انگریزوں کے
اشاروں پر مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی جھوٹی نبوت کا جال پھیلایا تو علمائے
اہل سنت دیوار چین بن کر کھڑے ہو گئے مجدد ملت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ
علیہ نے اپنے قلم سے اس قادیانی دجل کے پردے چاک کیے اور شرعی اصولوں کی روشنی میں
یہ مہر تصدیق ثبت کی کہ حضور ﷺ کی ختمِ نبوت کا منکر دائرہ اسلام سے ہی خارج ہے۔
(فتاویٰ رضویہ، 15/40) آپ نے اس فتنے کا جواب اپنی کتب کے ذریعے بھی دیا۔
اسی دور میں
مناظر اسلام پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمہ نے سن 1900ء میں اپنی شہرہ
آفاق تصنیف سیف چشتیائی کے ذریعے اس کذاب کی علمی جڑیں کاٹ دیں۔ (عقیدہ ختمِ نبوت،
ص 24) اس کڑی علمی جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ سن 1974ء میں قائد ملت مولانا شاہ احمد
نورانی صدیقی اور دیگر اکابرینِ اہلسنت کی شب و روز کی پارلیمانی تحریک کے باعث
پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو سرکاری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔
موجودہ
دور اور دعوت اسلامی کا کردار: آج کے اس ڈیجیٹل اور internet
کے پرفتن دور میں جہاں سوشل میڈیا پر گمراہی پھیلانا بہت آسان ہو چکا ہے، بانی
دعوت اسلامی امیر اہل سنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کا
کردار تاریخ کا ایک سنہری باب ہے آپ نے اس عقیدے کے تحفظ کو صرف بڑی بڑی کتابوں تک
محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے مدنی مذاکروں کے ذریعے عام مسلمانوں خصوصاً ماؤں بہنوں
اور نئی نسل کے دلوں میں آخری نبی ﷺ کی ایسی محبت پیدا کر دی ہے کہ آج دعوت اسلامی
کا بچہ بچہ فخر سے محمد مصطفٰی ﷺ سب سے آخری نبی کا نعرہ لگاتا ہے امیر اہل سنت نے
نئی نسل کے نظریاتی دفاع کے لیے جامعات المدینہ اور مدارس المدینہ کا ایک ایسا
عظیم الشان نظام قائم کر دیا ہے جہاں ہزاروں طلبہ و طالبات کو عقیدہ ختمِ نبوت کی
فکری تربیت دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی علمی شعبے المدینۃ العلمیۃ نے عقیدہ ختم
نبوت اور عقیدہ ختمِ نبوت اور صدر الشریعہ جیسے عام فہم آسان اور مدلل رسائل لکھ
کر گھر گھر پہنچائے ہیں تاکہ ہر مسلمان کا ایمان محفوظ رہ سکے۔
خلاصہ یہ ہے
کہ صحابہ کے دور سے لے کر آج تک علمائے اہل سنت اور دعوت اسلامی نے تاجدار ختمِ
نبوت ﷺ کی چوکھٹ کی پاسبانی کا حق ادا کیا ہے اللہ پاک ہمیں مرتے دم تک اس پاکیزہ
عقیدے کا سچا خادم اور پکا پہریدار رکھے۔
خاتم
خیر رسل یعنی وہ مہر منیر جس
کے آگے ہر ستارے کی ضیا جاتی رہی
Dawateislami