تحفظ
عقیدۂ ختمِ نبوت میں علمائے اہلسنت کا کردار از بنت محمد طارق، سراجاً منیرا
گجرات
مسلمانوں کا
واضح اور مسلمہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ پاک کے آخری نبی ہیں آپ کے زمانے میں
یا آپ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا حضور خاتم النبیین ﷺ کا آخری نبی
ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور اس پر تمام صحابہ اور تابعین تبع تابعین سلف و صالحین
علمائے کاملین اور مسلمین کا اجماع اور اتفاق ہے اگر کوئی حضور کو آخری نبی نہ
مانے یا حضور کے آخری نبی ہونے میں ذرا برابر بھی شک کرے یا طرح طرح کے بہانے بنا
کر حضور کے بعد کسی اور کو بھی نبی مانے تو وہ کافر و مرتد ہو کر دائرہ اسلام سے
نکل جاتا ہے۔
خداوند قدوس
قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ
وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ 22، الاحزاب:
40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں
میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔
علمائے حق اہل
سنت نے اس بات کا تحریر و تقریر،درس و تدریس،نظم و نثر ہر انداز میں رد کیا اور
نقلی عقلی دلائل کی روشنی میں اس کا کافر و مرتد اور بدترین جھوٹا ہونا ثابت کیا
مرزا قادیانی کے رد اور عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے علمائے کرام کی تحریری
خدمات میں سے چند ایک یہ ہیں:
مجددِ دین ملت
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ: (سال وفات1921)نے عقیدہ ختم نبوت کے
تحفظ میں 1899 میں جزاء اللہ عدوہ باباہ ختم النبوۃ، 1902 میں السوء والعقاب علی
المسیح الکذاب، 1905 میں قہر الدیان علی مرتد بقادیان،1908 میں المبین ختم النبین
اور 1921 میں اپنی زندگی کی آخری کتاب الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی تحریر
فرما کر قادیانی فتنے کی جڑیں کاٹ کر رکھ دی یہ پانچو رسائل فتاوی رضویہ جلد 14
اور 15 میں موجود ہیں۔
حضرت علامہ
مفتی غلام رسول نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ:(سال وفات: 1903) نے 1893 میں عربی رسالہ
الہام الصحیح فی اثبات حیات المسیح تحریر فرما کر مرزا قادیانی کے باتیں عقائد کا
دلائل کے ساتھ رد فرمایا۔
حضرت علامہ
قاضی فضل احمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے 1896 میں کتاب فضل رحمانی بجواب اوہام
غلام قادیانی سمیت چار کتابیں لکھ کر مرزا قادیانی کے باطل الہامات کا پردہ چاک
کیا۔
حدیث مبارکہ
میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا عنقریب میری امت میں 30 کذاب ہوں گے اور ان میں سے
ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ جنتی ہے حالانکہ میں حاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی
نہیں ہے۔ (ابوداود،4/132، حدیث: 4252)
حضرت جابر بن
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تمام رسولوں
کا قائد ہوں اور یہ بات بطور فخر نہیں کہتا اور میں تمام پیغمبروں کا خاتم ہوں اور
یہ بات بطور فخر نہیں کہتا اور میں سب سے پہلی شفاعت کرنے والا اور سب سے پہلے
شفاعت قبول کیا گیا ہوں اور یہ بات فخر کے طور پر ارشاد نہیں فرماتا۔ (معجم اوسط، 1/63،
حدیث: 17)
اے عاشقان
رسول! اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر کیجئے، میرے شیخ طریقت، امیر اہلسنت دامت
برکاتہم العالیہ کی کتاب کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب خود بھی پڑھئے اور
دوسروں کو بھی پڑھنے کا ذہن دیجئے، عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کیلئے اپنی کوششوں کو
تیز کر دیجئے، اپنی اولاد،اپنے گھر والوں اور جہاں تک آپ سے ہو سکے اس عقیدے کو
اچھے انداز سے پہنچائیے۔ اپنے پیارے اور آخری نبی ﷺ سے اپنی محبت کو مزید بڑھائیے،
قادیانیوں کے ہتھکنڈوں سے بچیے، احادیث طیبہ کے مطابق یہ فتنوں کا دروازہ بند نہیں
ہوگا، آج قادیانیت کا فتنہ ہے تو کل کوئی اور فتنہ اٹھے گا، لہذا عقیدے کے حوالے
سے اپنا اور نسلوں کا تحفظ کیجئے اور دعوت اسلامی کے دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر
حصہ لیجئے۔
اللہ پاک ہمیں
اور ہماری نسلوں کو ہر طرح کے فتنے سے محفوظ فرمائے۔ آمین
Dawateislami