تحفظ
عقیدۂ ختمِ نبوت میں علمائے اہلسنت کا کردار از بنت پرویز اختر، گلبہار سیالکوٹ
عربی میں ختم
کا معنی ہے مہر۔ جو لفافے پر اس لیے لگائی جاتی ہے تاکہ اس میں ردوبدل نہ کی
جاسکے۔اسی طرح نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے نبوت ورسالت کا سلسلہ موقوف ہو گیا۔اب
آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اگر کوئی نبی ہونے کا دعوٰی کرے تو وہ شحص قطعاً
کافر ہے کیونکہ اس بات کی دلیل ہمیں حدیث پاک اور آیت قرآنیہ سے ملتی ہے چنانچہ اس
بارے میں ایک آیت مبارکہ ملاحظہ کیجیے: اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ
اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ (پ 6، المائدۃ: 3) ترجمہ:آج میں نے
تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کردیا۔
اس کے علاوہ
ایک اور آیت مبارکہ میں آپ ﷺ کے آخری نبی ہونے کی دلیل ملتی ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ
اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ
النَّبِیّٖنَؕ-
(پ 22، الاحزاب: 40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں
میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔
حدیث
مبارکہ سے دلیل:
خود دو جہاں
کے سرکار مالک و مختار مکی مدنی تاجدار ﷺ کا فرمان رحمت نشان ہے: میرے بعد کوئی
نبی نہیں آئے گا۔ (مسلم، ص 1006،
حدیث : 6218)
ان فرامین کے
باوجود بہت سے لوگ اس بات سے انکار کرتے ہیں کی نبی کریم ﷺ پر نبوت ورسالت کا
سلسلہ ختم نہیں ہوا جن میں سے سب سے بڑا فرقہ قادیانیوں کا ہے۔
علمائے
اہلسنّت نے ختمِ نبوت کے تحفظ پر بہت کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے دلائل کے ساتھ ان
فرقوں کا رد فرمایا ہے ان کا اتفاق اس بات پر ہے کہ جب تک ایک انسان نبی کریم ﷺ کو
آخری نبی نہ مانے وہ مسلمان ہی نہیں ہوسکتا اور جو اس عقیدے کا انکار کرے وہ کافر
ہے۔
حضرت عمر
فاروق رضی اللہ عنہ بہت پرجلال شخصیت تھے آپ کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا
کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر
ہوتا۔ بعض لوگ اس حدیث مبارکہ کو دلیل بنا کر حضور ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے ہیں جبکہ
یہ فرمان یہ ظاہر کر رہا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
یہ فرمان حضرت
عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر کرتا ہے ناکہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے
کہ آپ نعوذ باللہ نبی ہیں۔
اکابرین اہلسنّت
میں چند نامور شخصیات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان میں حضور غوث اعظم، اعلیٰ حضرت، پیر
سید مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہم۔
علمائے
اہلسنّت نے ہر دور میں تحفظ ختمِ نبوت کے لیے قلم اور زبان سے لیکر جیل کی صعوبتوں
اور جان کی قربانیوں تک سفر طے کیا ہے انہی مساعی جمیلہ کے باعث آج پاکستان کا
آئین اس عقیدے کا مخافظ ہے۔
اعلی حضرت
امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ آپ نے قادیانی فتنے کے آغاز ہی میں اس کی
سرکوبی فرمائی آپ نے علمائے حرمین سے فتوی حاصل کرکے اسے حسام الحرمین کی صورت میں
شائع کیا اور متعدد کتب لکھ کر قادیانیوں کے کفر کو واضح کیا۔
پیر مہر علی
شاہ رحمۃ اللہ علیہ آپ نے مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ براہ راست مناظرے اور
تحریری جنگ میں تاریخی کردار ادا کیا آپ کی تصانیف سیف چشتیائی قادیانیت کے رد میں ایک نا قابل
تردید دستاویز ہے۔
خلاصہ کلام یہ
ہے کہ ختمِ نبوت پر ایمان رکھنا ضروری ہے جو اس کا انکار کرے کافر ہے علمائے
اہلسنّت نے ختمِ نبوت کے بارے میں آگاہی دی ہے پاکستان میں ہر سال 7 ستمبر کو یوم
تحفظ ختمِ نبوت منایا جاتا ہے۔
Dawateislami