ہمارے پیارے آقا ﷺ اللہ پاک کے آخری نبی ہیں۔ جو آپ کو آخری نبی نہ مانے یا آپ کے آخری نبی ہونے میں شک کرے وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ نبی کریم ﷺ کی حیات ظاہری میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا اور آپ کے وصال ظاہری کے بعد بھی کئی لوگوں نے نبوت کے جھوٹے دعوے کیے جن میں مرزا غلام احمد قادیانی بھی شامل ہے۔ اس فتنے کے رد میں علمائے اہل سنت نے عظیم کردار ادا کیا۔

حضرت امام احمد رضا خان: آپ نے ختمِ نبوت کے موضوع پر کئی رسائل اور فتاویٰ لکھ کر عوام کو خبردار کیا کہ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ کے مشہور رسائل ’’جزاء اللہ عدوّہ باباء ختم النّبوّۃ‘‘، ’’السّوء والعقاب علی المسیح الکذّاب‘‘، ’’قہر الدّیّان علی مرتدّ بقادیان‘‘، ’’المبین ختم النّبیّین‘‘ اور ’’الجراز الدّیّانی علی المرتدّ القادیانی‘‘ فتاویٰ رضویہ میں موجود ہیں۔

مفتی امجد علی اعظمی: آپ نے اپنی مشہور کتاب ’’بہار شریعت‘‘ میں عقائد اہل سنت بیان کرتے ہوئے عقیدۂ ختمِ نبوت کو واضح فرمایا اور مسلمانوں کی عقیدتی رہنمائی کی۔

حجۃ الاسلام علامہ مفتی محمد حامد رضا خان: آپ نے ’’الصارم الربانی علی اسراف القادیانی‘‘ تحریر فرما کر مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں کے باطل عقائد کو بے نقاب کیا۔ یہ رسالہ فتاویٰ حامدیہ میں شامل ہے۔

حضرت پیر مہر علی شاہ: آپ نے قادیانیت کے رد میں ’’ہدایۃ الرسول‘‘، ’’شمس الہدایۃ فی اثبات حیاۃ المسیح‘‘ اور ’’سیف چشتیائی‘‘ جیسی کتب تصنیف فرمائیں اور قادیانی نظریات کا علمی رد کیا۔

آئین پاکستان اور قادیانی: قیامِ پاکستان کے بعد قادیانیوں نے اپنے باطل مذہب کی اشاعت شروع کی تو 1953ء میں مسلمانانِ پاکستان نے علامہ ابو الحسنات سید محمد احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں تحریک تحفظ ختمِ نبوت چلائی۔ بعد ازاں 1974ء میں علمائے اہل سنت نے دوبارہ اس مسئلے پر آواز اٹھائی۔ کئی علما و مشائخ نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ بالآخر قومی اسمبلی میں یہ مسئلہ زیرِ بحث آیا اور متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ ساتھ ہی یہ قانون بھی طے پایا کہ وہ خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتے اور نہ ہی اسلامی شعائر استعمال کر سکتے ہیں۔

تحفظ ختمِ نبوت میں دعوت اسلامی کا کردار: آج کے دور میں دعوت اسلامی ختمِ نبوت کے تحفظ اور فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے۔ بانی دعوت اسلامی حضرت ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے مدنی مذاکروں، تحریروں اور دینی سرگرمیوں کے ذریعے مسلمانوں میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت کو اجاگر فرمایا۔ آپ کی کوششوں کے ذریعے بچوں، بڑوں سب کی زبان پر یہ نعرہ جاری ہے:

محمد مصطفیٰ: سب سے آخری نبی سید الانبیاء: سب سے آخری نبی

مزید یہ کہ المدینۃ العلمیہ نے اس موضوع سے متعلق طلبہ و عوام کے لیے کتابیں شائع کی ہیں۔ نیز مدنی چینل، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے عقیدۂ ختمِ نبوت کا پیغام عام کیا جا رہا ہے۔ مفتی دعوت اسلامی مفتی قاسم عطاری کے اس موضوع پر بیانات بھی موجود ہیں۔ الحمدللہ دعوت اسلامی عقیدۂ ختمِ نبوت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

الحمدللہ علمائے اہل سنت نے ہر دور میں عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے علمی، عملی اور فکری خدمات انجام دیں۔ ان کی یہ جدوجہد امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہے۔