مسلمانوں کا واضح اور مسلمہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ پاک کے آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کے زمانے میں یا آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔

ختمِ نبوت سے مراد یہ ماننا ہے کہ ہمارے آقا و مولیٰ حضور ﷺ ’’ آخری نبی ‘‘ ہیں۔ یعنی اللہ نے حضور کی ذات پر سلسلۂ نبوت کو ختم فرما دیا۔ حضور کے زمانہ میں یا اس کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔ (بہار شریعت، 1/23)

ختمِ نبوت کا عقیدہ قرآن کریم سے ثابت ہے، چنانچہ فرمان باری تعالی ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ 22، الاحزاب: 40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔

اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھا ہے: اللہ نے سرور دو عالم ﷺ پر سلسلۂ نبوت کو ختم فرما دیا، اب آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور نہ ہی کوئی نبوت میں آپ کے ساتھ شریک ہے۔ (تفسیر ابن کثیر، 6/391)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جس نے بہت حسین و جمیل ایک گھر بنایا۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس کے گرد گھومنے لگے اور تعجب سے یہ کہنے لگے کہ اس نے یہ اینٹ کیوں نہ رکھی؟ پھرآپ نے ارشاد فرمایا: میں(قصرِ نبوت کی)وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ (مسلم،ص 965، حدیث:5959)

سیدی اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ان 13 صدیوں کی تحقیقات کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: خاتم النّبیّٖن کا معنی ہے: آخر الانبیاء یعنی (سب سے آخری نبی کہ) حضور ﷺ کے ساتھ یا آپ کے بعد قیامت تک کسی کو نبوّت ملنی محال ہے۔ آیت کے اس معنی میں کسی قسم کی تاویل یا تخصیص کرنا (یعنی اپنی مرضی کے معنیٰ نکالنا) کفر ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 14/333 ملخصاً)

1۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی: برصغیر پاک و ہند میں امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے منکرین ختمِ نبوت اور قادیانیت کا رد فرمایا۔

اہم تصانیف اور فتاویٰ:امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے قادیانیت کے خلاف ٹھوس علمی دلائل پر مبنی کئی کتب اور رسائل تصنیف کیے جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

جزاء اللہ عدوہ باباہ ختم النبوۃ: یہ رسالہ 1317ھ میں تصنیف کیا گیا اور بعد ازاں فتاویٰ رضویہ (جلد 15) کا حصہ بنا۔ اس میں عقیدہ ختمِ نبوت کے اثبات پر ایک سو بیس (120) احادیث اور منکرین کی تکفیر یعنی کافر ہونے پر جلیل القدر ائمہ کی تیس (30) تصریحات جمع فرمائی۔

المبین ختم النبیین:یہ رسالہ1326ھ میں ایک خاص سوال کے جواب میں لکھا گیا تھا۔ اس رسالے میں لفظ خاتم النبیین کے قرآنی و لغوی مفہوم کو دلائل کے ساتھ واضح کیا گیا۔

2۔حجۃ الاسلام علامہ مفتی حامد رضا خان بریلوی: عقیدہ ختمِ نبوت اور رد قادیانیت کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔

الصارم الربانی علی اسراف القادیانی، حجۃ الاسلام علامہ مفتی محمد حامد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک مشہور و مستند تصنیف ہے جو 1898ء میں قادیانیت کی تردید میں لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب قادیانی مذہب کے باطل عقائد کا علمی اور مدلل جواب فراہم کرتی ہے۔ اس میں 143 احادیث مبارکہ بیان کی گئی ہیں۔

3۔حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی: آپ رحمۃ اللہ علیہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے دعووں اور فتنہ قادیانیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اور تحریر و تقریر کے ذریعے عقیدۂ ختمِ نبوت کا بھرپور دفاع کیا۔

مناظرہ: جب مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی نبوت کے جھوٹے دعوے کیے تو پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے لاہور کی شاہی مسجد میں اس کو مناظرے کا چیلنج دیا پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ مقررہ تاریخ پر شاہی مسجد لاہور پہنچے اور مرزا قادیانی کا انتظار کیا لیکن مرزا قادیانی خوفزدہ ہو کر وہاں نہ پہنچا۔

ختمِ نبوت کے تحفظ اور تردیدِ قادیانیت کے لیے آپ کی تحریریں آج بھی بنیادی حوالہ مانی جاتی ہیں۔

سیف چشتیائی: یہ کتاب 1902ء میں قادیانیت کے رد اور ختمِ نبوت کے اثبات میں ایک ناقابل تردید شاہکار ہے۔ اس میں آیتِ ختمِ نبوت پر بحث کی گئی ہے۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس وقت کے جید علما کو ساتھ ملا کر مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے (کافر ہونے) کا واضح فتویٰ جاری کیا۔

4۔ مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد مصطفےٰ رضا خان: آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تصحیح یقین بر ختم النبیین لکھ کر خاتم النبیین کے معنی و مفہوم میں تبدیلی کرنے والے مرزا قادیانی اور اس کے پیرو کاروں کا رد کیا۔

5۔ حضرت مفتی محمد امین قادری: عقیدہ ختم نبوت اس کتاب میں بنیادی طور پر ختمِ نبوت کے عقیدے پر بحث کی گئی ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے علمائے کرام کی کتب و رسائل جمع کر کے اس کو دوبارہ چھاپا اور اس کا نام عقیدہ ختم النبوۃ ہی رکھا۔ آپ کی حیات مبارکہ میں اس کی 6 جلدیں پوری ہوچکی تھی۔ اب تک اس کی 16 جلدیں چھپ پر منظر عام پر آچکی ہیں۔

آج کے اس دور میں امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے بچے بچے کو یہ نعرہ یاد کروا دیا ہے۔

محمد مصطفےٰ سب سے آخری نبی احمد مجتبےٰ سب سے آخری نبی

اللہ پاک ہمیں مرتے دم تک عقیدۂ ختمِ نبوت کا تحفظ کرنے اور اس عقیدے پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔