عقیدہ ختمِ نبوت سے مراد: اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے سلسلہ نبوت حضور علیہ السلام پر ختم فرما دیا کہ حضور کے زمانے میں یا بعد کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔ عقیدہ ختمِ نبوت ایسا عقیدہ ہے کہ جس کا ثبوت قرآن مجید کی نص قطعی، احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ یہ عقیدہ ضروریاتِ دین سے ہے، اس کا انکار کرنے والا یا اس میں ادنیٰ شک کرنے والا کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

تحفظِ عقیدہ ختمِ نبوت: مسلمانوں کا ختمِ نبوت سے متعلق عقیدہ اس قدر واضح اور دوٹوک ہے کہ اس عقیدے میں جب کبھی کسی نے رخنہ ڈالنے کی کوشش کی، مسلمانوں نے اس کے کفر و ارتداد میں شک نہ کیا اور اس عقیدہ کی حفاظت کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا کر جانوں کے نذرانے پیش کئے۔اسلام کے ہر دور میں اہلِ حق نے جھوٹے دعویداروں اور ختمِ نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والے ہر زمانے میں پیدا ہو رہے ہیں اور ہر زمانہ میں ان کی سرکوبی کی جاتی رہی ہے۔ اگر ہم چودہ سو سالوں کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ جس نے بھی جھوٹا دعویٰ نبوت کیا تو اسکا انجام عبرتناک ہوا۔

ہر سال 7 ستمبر کو یومِ تحفظِ ختمِ نبوت منایا جاتا ہے۔ اس عقیدے کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور گھر گھر تک پہنچانے میں ہر زمانے کے علما نے نمایاں کردار ادا کیا۔7 ستمبر 1974ء وہ عظیم دن تھا جس دن علمائے کرام کی قربانیوں اور عظیم محنتوں اور کاوشوں کی بدولت ختمِ نبوت کے غداروں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ کچھ علمائے کرام کا تذکرہ اور ان کی قربانیاں زیرِ نظر ہیں۔تحفظ عقیدہ ختمِ نبوت میں بہت سے علمائے دین نے حق کا کردار ادا کیا جن میں سے چند کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔

اعلیٰ حضرت:جب قادیانیوں نے عقیدہ ختمِ نبوت پر حملہ کیا تو عاشقِ ماہِ رسالت امام احمد رضا خان نے خبر دی وہ دریا بہائے کہ قادیانی کی جھوٹی نبوت اس میں غرق ہو گئی۔ عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ میں آپ علیہ الرحمہ کی خدمات کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔نثر میں اور نظم میں۔ اعلیٰ حضرت نے ختمِ نبوت کے اثبات میں متعدد فتاویٰ تحریر کئے۔ پانچ رسائل بھی تحریر فرمائے ہیں ان کے نام درج ذیل ہیں:

(1) جزاء اللہ عدوہ باباہ ختم النبوۃ (2) السوء والعقاب علی المسیح الکذاب(3) قہر الدیان علی مرتد بقادیان (4) المبین ختم النبیین (5) الجزار الدیان علی المرتد القادیان۔

المبین ختم النبیین: یہ رسالہ مبارکہ 1326ھ میں اس سوال کے جواب کہ لفظ النبی کا اطلاق اشتقاقی ہے یا غیر اشتقاقی؟ ان کے جواب میں معتبر دلائل میں النبی کا اشتقاقی ہونا ثابت کیا اور اس کے مرکز کو جائز بتایا۔

اعلیٰ حضرت بطور نظم ارشاد فرماتے ہیں:

نہ رکھی گل کے جوشِ حسن نے گلشن میں جا باقی

چٹکتا پھر کہاں غنچہ کوئی باغِ رسالت کا

فتحِ بابِ نبوت پہ بےحد درود

ختمِ دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام

ختمِ نبوت پر جب سن 1900 کے اندر مختلف انداز میں وار کیا گیا تو 1953ء سے 1974ء تک بہت سے علمائے کرام پیش پیش رہے جن میں سر فہرست:علامہ عبد الحامد بدایونی، علامہ ابو الحسنات سید احمد قادری، مولانا عبد الستار نیازی، علامہ سید خلیل احمد برکاتی جیسے اور مولانا شاہ احمد نورانی، علامہ عبد المصطفیٰ ازہری، شارح بخاری مفتی سید محمد مرتضیٰ شامل ہیں۔

شاہ احمد نورانی: مولانا شاہ احمد نورانی کا کردار تحریک ختمِ نبوت میں مثالی رہا ہے۔ آپ تحریک ختمِ نبوت 1953 اور 1974 میں شامل رہے اور تقریباً 600 قادیانیوں کو دائرہ اسلام میں داخل کیا۔ آپ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ہی پاکستان کے قانون میں مسلمان کی تعریف کو شامل کرنے اور ریاست کا سرکاری مذہب اسلام قرار دینے کا مطالبہ کیا جس کو تسلیم کیا گیا۔

اور آپ ہی کی کاوشوں کی بدولت ختمِ نبوت پر ایمان برقرار رہا، یوں ہی صدر اور وزیراعظم کے حلف میں بھی ختمِ نبوت پر ایمان کو شرط قرار دیا گیا۔یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ایک دین پر مر مٹنے والا اور حضور علیہ السلام کا سچا عاشق جب دین کے ناموس کی بات سنتا ہے تو اس کا خون جوش مارتا ہے اور وہ دین پر اٹھائی گئی انگلی خود دیکھنا تو دور کی بات اس کو کاٹ کر رکھ دیتا ہے یہ تو ایک عام مسلمان کی غیرت کی بات ہے تو علمائے اہلسنت کی غیرت کا کیا مقام ہوگا جن کی بدولت اسلام کا جھنڈا لہراتا ہوا نظر آتا ہے۔ اسی لیے تو اعلیٰ حضرت نے فرمایا تھا:

وہ رضا کے نیزے کی مار ہے کہ عدو کے سینے میں غار ہے

کسے چارہ جوئی کا وار ہے کہ یہ وار آر سے پار ہے