تحفظ
عقیدۂ ختمِ نبوت میں علمائے اہلسنت کا کردار از بنت محمد اشرف، 137 روڈ سمندری
اللہ تعالیٰ
نے حضرت محمد ﷺ کو تمام انسانیت کے لیے آخری نبی اور رسول بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ
ﷺ پر نبوت و رسالت کا سلسلہ مکمل ہوا اور قیامت تک کسی نئے نبی کے آنے کی گنجائش
باقی نہ رہی۔ اسلام کا یہ عقیدہ ختمِ نبوت کہلاتا ہے، جو قرآن مجید، احادیث نبویہ
اور امت مسلمہ کے اجماع سے ثابت ہے۔ جو شخص آپ ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کی نبوت کا
دعویٰ کرے یا کسی کو نبی مانے، وہ اسلامی عقیدۂ ختمِ نبوت کا منکر ہے۔
ارشاد باری
تعالیٰ ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ
اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ
22، الاحزاب: 40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں
میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔
تاریخ اسلام
میں جب بھی کسی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا یا عقیدۂ ختمِ نبوت پر حملہ کرنے کی
کوشش کی، علمائے اہل سنت نے دلائل، تعلیم، تبلیغ اور عملی جدوجہد کے ذریعے اس
عقیدے کا بھرپور دفاع کیا۔ چنانچہ تحفظ ختمِ نبوت کے لیے علمائے اہل سنت کی خدمات
نہایت عظیم اور قابلِ قدر ہیں۔
مرزا قادیانی
کے رد میں فتویٰ دینے والے اولین علما میں سے مناظر اسلام حضرت علامہ مفتی غلام
دستگیر نقشبندی حنفی قصوری رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ نے مرزا قادیانی کی کتاب براہین احمدیہ کے رد پر 1883ء میں تحقیقات دستگیریہ فی ردّ ہفوات براہینیہ ، 1886ء
میں رجم الشّیاطین بردّ اغلوطات البراھین اور 1896ء میں مرزا قادیانی کے ایک اشتہار کے
جواب میں فتح رحمانی بہ دفع کید کادیانی لکھ کر مرزا قادیانی کے کفریات عوام و خواص کے
سامنے بیان کئے اور مرزا قادیانی کو اسلام سے خارج قرار دیا۔
حضرت علامہ
مفتی غلام رسول نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے 1893ء میں عربی رسالہ الالھام الصّحیح فی اثبات حیات المسیح تحریر فرما کر مرزاقادیانی کے باطل عقائد کا
دلائل کے ساتھ رد فرمایا۔
حجۃ الاسلام
حضرت علّامہ مفتی محمد حامد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 1943ء) نے 1898ء
میں رسالہ الصّارم الرّبّانی علی اسراف
القادیانی لکھ کر مرزا قادیانی اور اس کے
خلیفہ کے مکر و فریب کھول کر رکھ دئیے، یہ رسالہ فتاویٰ حامدیہ میں موجود ہے۔
مجدد دین و
ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 1921ء) نے عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ میں 1899ء میں جزاء اللہ عدوہ باباہ ختم النّبوۃ ، 1902ء میں السّوٓء والعقاب علٰی المسیح الکذّاب ، 1905ء
میں قہر الدّیّان علٰی مرتدٍّ بقادیان ، 1908ء
میں المبین ختم النّبیّین اور 1921ء میں اپنی زندگی کی آخری کتاب الجراز الدّیّانی علی المرتد القادیانی تحریر فرما کر قادیانی فتنے کی جڑیں کاٹ کر رکھ
دیں۔ یہ پانچوں رسائل فتاویٰ رضویہ (رضا فاؤنڈیشن لاہور) جلد 14 اور 15 میں موجود
ہیں۔
قیام پاکستان
کے بعد قادیانیوں نے بڑے زور و شور سے اپنے باطل مذہب کی ترویج و اشاعت شروع کی تو
1953ء میں غیرت مند و باشعور مسلمانان پاکستان نے علّامہ ابوالحسنات سیّد محمد
احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت کا پرچم بلند کیا، قادیانیوں
کی شرانگیزی سے کئی علمائے کرام کو سزائیں ہوئیں جبکہ 10ہزار کے قریب مسلمان شہیدہوئے۔
اللہ پاک ہمیں
اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے اور ہمیں انکا خوب فیضان عطا فرمائے۔
آمین
Dawateislami