ادائیگی قرض ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ہم اپنے اوپر لادتے ہیں جب ہم کسی سے قرض لیتے ہیں۔ یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اس قرض کو وقت پر ادا کریں اور کسی کو بھی تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

حضور ﷺ نے فرمایا: مظلوم کی بددعا سے بچو، کیونکہ اس کی دعا اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔ (بخاری، 2/128، حدیث: 2448)

ادائیگی قرض میں تاخیر کرنا ایک مظلوم کی دعا کا سبب بن سکتا ہے، جو کہ بہت بڑا خطرہ ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے قرض کو وقت پر ادا کریں اور کسی کو بھی تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُؕ- (پ 2، البقرۃ: 282) ترجمہ: اے ایمان والو جب تم ایک مقررہ مدت کے لیے آپس میں قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرض کے معاملے کو لکھنے کا حکم دیا ہے، تاکہ کوئی بھی تاخیر یا جھگڑا نہ ہو۔

ادائیگی قرض میں تاخیر کرنے کے بہت سے نقصانات ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ انسان کی شرافت اور عزت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جب کوئی شخص قرض ادا نہیں کرتا تو اس کی شرافت اور عزت پر داغ لگ جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ادائیگی قرض میں تاخیر کرنے سے انسان کا ایمان بھی کمزور ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص قرض ادا نہیں کرتا تو اس کا ایمان کمزور ہوتا ہے اور وہ اللہ کے سامنے شرمندہ ہوتا ہے۔

اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے قرض کو وقت پر ادا کریں اور کسی کو بھی تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں وقت پر قرض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین