علمائے کرام نے بغیر کسی مجبوری کے قرض ادا کرنے میں دیر کرنے کو ظلم قرار فرمایا ہے جب قرض میں بلا عذر شرعی تاخیر کرنا ظلم ہے تو کسی سے قرض لے کر سرے سے واپس ہی نہ کرنا کتنا بڑا ظلم ہوگا آج کل تو قرض کے نام پر کتنے لوگوں کے لاکھوں روپے ہڑپ کر دیے جاتے ہیں آج دنیا میں تو یہ سب آسان لگ رہا ہوگا لیکن کل قیامت کے دن بہت مہنگا پڑ جائے گا۔ مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے قرضے کی ادائیگی میں سستی اور جھوٹے حیل و حجت کرنے والے شخص (مثلا زید) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: زید فاسق، فاجر، ظالم، کذاب اور مستحقِ عذاب ہے اگر یہ اس حالت میں مر گیا اور دین (قرض) لوگوں کا اس پر باقی رہا اس کی نیکیاں ان قرض خواہوں کے مطالبے میں دے دی جائیں گی اور کیونکر دے دی جائیں گی یعنی (کس طرح دی جائیں گی) تین پیسہ دین قرض کے بدلے 700 نمازیں باجماعت دینی پڑیں گی جب قرضہ دبا لینے والے کے پاس نیکیاں نہ رہیں گی ان قرض خواہوں کے گناہ اس مقروض کے سر پر رکھے جائیں گے اور انہیں آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

اللہ پاک کے پیارے پیارے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:(قرض کی ادائیگی میں) صاحب استطاعت کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری، 2/109، حدیث: 2400)

شہید جس کا اتنا بلند رتبہ ہے اس کو بھی قرض کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرنا اس پر وبال جان ہے اس پر بھی وعید بیان کی گئی ہے۔

پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: شہید (یعنی وہ شخص جس نے اللہ پاک کی راہ میں جان دے دی ہے) کا ہر گناہ معاف ہو جائے گا سوائے قرض کے۔ (مسلم، ص 1046، حدیث: 1886)

قرض کی رقم واپس کرنا لازم ہے، چنانچہ ارشاد ربانی ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ- (پ 5، النساء: 58) ترجمہ: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل تک پہنچا دو۔

حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں اس آیت میں امانت اور قرض واپس لوٹانے کا حکم ہے۔ حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس مقروض کے پاس ادائے قرض کے لیے پیسے ہوں پھر ٹالے تو وہ ظالم ہے اسے قرض خواہ ذلیل بھی کر سکتا ہے اور جیل بھی بھجوا سکتا ہے یہ شخص (مقروض) گنہگار بھی ہوگا کیونکہ ظالم بھی گنہگار ہی ہوتا ہے اور اگر قرض دار قرض ادا کر سکتا ہو تو قرض خواہ کی مرضی کے بغیر اگر ایک گھڑی بھی تاخیر کرے گا تو گنہگار ہوگا اور ظالم قرار پائے گا خواہ روزہ دار ہو یا سونے کی حالت میں ہو اس کے ذمے گناہ لکھا جاتا رہے گا گویا ہر حال میں گناہ کا میٹر چلتا رہے گا اور ہر صورت میں اللہ پاک کی لعنت پڑتی رہے گی۔ (الامان و الحفیظ)

اور یہ گناہ تو ایسا ہے کہ نیند کی حالت میں بھی اس کے ساتھ رہتا ہے اگر اپنا قیمتی سامان بیچ کر بھی قرض ادا کر سکتا ہے تو ایسا کرنا پڑے گا اگر قرض کے بدلے کوئی دوسری چیز دینا چاہے جو قرض خواہ کو ناپسند ہو تب بھی دینے والا گنہگار ہوگا جب تک اسے راضی نہ کر لے وہ اس ظلم کے جرم سے نجات نہیں پائے گا کیونکہ اس کا یہ فعل کبیرہ گناہوں میں سے ہے مگر لوگ اسے معمولی خیال کرتے ہیں۔

دل دکھانے کا وبال: اسی طرح بعض لوگ جھوٹے وعدے کر کے قرض حاصل کر لیتے ہیں لیکن افسوس صد کروڑ افسوس! قرض لے لینے کے بعد ادا کرنے کا نام نہیں لیتے بلکہ غیرت مندی کا تقاضا تو یہ ہے کہ جن سے قرض لیا ہے انہیں بصد شکریہ کے ساتھ قرض واپس لوٹا دیا جائے مگر آج کل کا یہ حال ہے کہ قرض ادا کرنا بھی ہے تو قرض خواہ کو خوب دھکے کھلا کر رلا رلا کر اس بیچارے کی رقم توڑ پھوڑ (تھوڑی تھوڑی) کر کے لوٹا دی جاتی ہے اسی طرح کل پرسوں کے وعدے کیے جاتے ہیں فلاں دن رقم دے دوں گا وغیرہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم کتنا بڑا وبال سر پر لے رہے ہیں جب قرض کل چکانا ہی ہے تو آج چکا دینے میں ہی کیا حرج ہے یاد رکھیے بلاوجہ قرض خواہ کو دھکے کھلانا بھی ظلم ہے

امام شرف الدین حسین بن محمد طیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر قرض واپس کرنے پر قادر ہے تو خواہ مخواہ تاخیر کرنا حرام ہے اسی طرح امام الحرمین علامہ جوینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قدرت کے باوجود قرض واپس کرنے میں تاخیر جائز نہیں ہے۔

عزت کی بربادی: قرض پر زندگی گزارنے والے کی عموماً کوئی عزت ہے نہ لوگ اس پر اعتماد کرتے ہیں اولاً تو قرض دے دیتے ہیں مگر جب واپسی میں تاخیر اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ اس کی عادت میں قرض لینا شامل ہے تو اس سے جان چھڑانے کی راہ تلاش کرتے ہیں، بعض اوقات قرض خواہ لوگوں کے سامنے ہی مطالبہ کر لیتے ہیں اور ادا نہ کر سکنے کی صورت میں عزت کا جنازہ نکل جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کی بات کی بھی کوئی اہمیت نہیں رہتی اور دین کی خدمت سے بھی محروم ہونے لگتا ہے کیونکہ لوگ اس کے پاس آنے سے کتراتے ہیں بسا اوقات ایسا فرد اچھے ماحول کے لیے بدنامی کا سبب بنتا ہے حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس آدمی میں کوئی بھلائی نہیں جو حلال کمائی سے مال جمع کرنے کا ارادہ نہ رکھے تاکہ اس سے خود پر واجب حقوق ادا کرے اور لوگوں سے اپنی حفاظت کرے۔

دیکھیے! حقوق العباد کا معاملہ نہایت ہی سخت ہے اگر آپ نے کسی سے قرض لیا اور ادائیگی کے لیے رقم پاس نہیں ہے مگر گھر کے اسباب فرنیچر وغیرہ بیچ کر قرض ادا کیا جا سکتا ہے تو یہ بھی کرنا پڑے گا قرض ادا کرنے کی ممکن صورت ہونے کے باوجود قرضدار سے مہلت لیے بغیر آپ قرض کی ادائیگی میں جب تک تاخیر کرتے رہیں گے گنہگار ہوتے رہیں گے خواہ آپ جاگ رہے ہوں یا سو رہے ہوں آپ کے گناہوں کا میٹر چلتا رہے گا (الامان والحفیظ) جب قرض کی ادائیگی میں تاخیر کا یہ وبال ہے تو جو کوئی پورا قرض ہی دبا لے اس کا کیا حال ہوگا۔

اللہ پاک ہمیں قرض سے بچنے، قناعت اختیار کرنے اور حلال روزی کمانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین