قرض سے مراد وہ نقدی یا اثاثے ہیں جو ایک فریق دوسرے فریق کو ایک خاص مدت کے لیے دیتا ہے، جس کی واپسی واجب ہوتی ہے۔ یہ ایک مالی ذمہ داری ہے جو ضرورت، کاروبار یا ذاتی استعمال کے لیے لی جاتی ہے، جسے مقررہ وقت پر اصل رقم کے ساتھ واپس کرنا ہوتا ہے۔

جس نے قرض لیا اس پر لازم ہے کہ مقررہ مدت پر قرض واپس لوٹا دے۔ بلا وجہ قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرتے رہنا یا قرض کی ادائیگی نہ کرنا سخت گناہ ہے اور قرض کی ادائیگی کرنا لازم ہے۔

ارشاد ربّانی ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ- (پ 5، النساء: 58) ترجمہ: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل تک پہنچا دو۔

حضرت علّامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: اس آیت میں امانت اور قرض واپس لوٹانے کے وجوب کا ثبوت ہے۔

اگر قرض دار قرض ادا کرسکتا ہو تو قرض خواہ کی مرضی کے بغیر ایک گھڑی بھر بھی دیرکرےگا تو گنہگار ہوگا اور ظالم قرار پائے گا۔ خواہ روزے کی حالت میں ہو یا سو رہا ہو اس کے ذمّے گناہ لکھا جاتا رہے گا۔ (گویا ہر حال میں گناہ کا میڑ چلتا رہےگا) اورہر صورت میں اس پر اللہ پاک کی لعنت پڑتی رہے گی۔ یہ گناہ تو ایسا ہے کہ نیند کی حالت میں بھی اس کے ساتھ رہتا ہے۔ اگر اپنا سامان بیچ کر قرض ادا کرسکتا ہے تب بھی کرنا پڑےگا اگر ایسا نہیں کرےگا تو گنہگار ہے۔ اگر قرض کے بدلے ایسی چیز دے جو قرض خواہ کو ناپسند ہو تب بھی دینے والا گنہگار ہوگا اور جب تک اسے راضی نہیں کرےگا اس ظلم کے جرم سے نجات نہیں پائے گا کیونکہ اس کا یہ کام بڑےگناہوں میں سے ہے مگر لوگ اسے معمولی خیال کرتے ہیں۔ (1)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حبیب خداﷺ نے فرمایا: قرض کی ادائیگی میں مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے(2)۔

اس حدیث پاک کی شرح میں امام شرف الدین حسین بن محمد طیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر قرض واپس کرنے پر قادر ہے تو خواہ مخواہ تاخیر کرنا حرام ہے۔

استطاعت والےکا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا، اس کی آبرو (یعنی عزّت)کوحلال کر دیتا ہے۔ (3)یعنی اسے برا کہنا اس پر طعن و تشنیع کرنا جائز ہو جاتا ہے۔ (4)

یہ اتنا سخت جرم ہے کہ شہید کو بھی یہ معاف نہیں ہے،چنانچہ

حضورﷺ کا ارشاد ہے:شہید(یعنی وہ شخص جس نے اللہ پاک کی راہ میں جان دی ہے اس) کا ہر گناہ معاف ہوجائے گا سوائے قرض کے۔(5)

جب قرض میں بلاعذر شرعی دیر کرنا اتنا سنگین جرم ہے تو کسی سے قرض لے کر سرے سے واپس ہی نہ کرنا کتنا بڑا گنا ہ ہوگا۔آج کل قرض کے نام پر لوگوں کے لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے ہڑپ کرلئے جاتے ہیں۔ابھی تو یہ سب آسان لگ رہا ہوگا لیکن قیامت میں بہت مہنگا پڑجائے گا۔

حقوق العباد کا معاملہ نہایت ہی سخت ہے۔ اگر آپ نے کسی سے قرض لیا اور ادائیگی کے لیے رقم پاس نہیں ہے مگر گھر کے اسباب، فرنیچروغیرہ بیچ کر قرض ادا کیا جاسکتا ہے تویہ بھی کرنا پڑے گا۔قرض ادا کرنے کی ممکن صورت ہونے کے باوجود قرضدار سے مہلت لیے بغیر آپ قرض کی ادائیگی میں جب تک تاخیر کرتے رہیں گےگنہگار ہوتے رہیں گے اور آپ کے گناہوں کا یہ میٹر مسلسل چلتا رہے گا

اللہ کریم ہم سب کو حقیقی دیانت دار بنائے۔ آمین

حوالہ جات:

(1) کیمیائے سعادت،1/336

(2)ابوداود، 4/290، حدیث:4681

(3)بخاری، 2/109،حدیث:2400

(4)فتاویٰ رضویہ،25/69

(5) مسلم، ص 1046، حدیث: 1886