قرض لینا
اسلام میں ہے مگر قرض کی ادائیگی نہایت اہم فریضہ ہے قرض کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرنا گناہ
ہے ہمارے نبی ﷺ نے قرض کےبارے میں سخت
الفاظ فرمائے ہیں، کیونکہ یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے۔
اللہ تعالیٰ
سورۃ البقرہ میں فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ
بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُؕ- (پ 2، البقرۃ:
282) ترجمہ: اے ایمان والو جب تم ایک مقررہ مدت کے لیے آپس میں قرض کا معاملہ کرو
تو اسے لکھ لیا کرو۔اس آیت سے پتا چلا کہ قرض سنجیدہ معاملہ ہے،اسی لیے اللہ نے لکھنے
کا حکم دیا۔
وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ
الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) (پ 15، الاسراء: 34) ترجمہ: اور وعدے
کو پورا کرو، بیشک وعدے کے بارے میں سوال ہوگا۔ قرض لیتے وقت واپسی کا وعدہ ہوتا
ہے۔اس وعدے کو توڑنا گناہ ہے۔
احادیث
مبارکہ کی روشنی میں:
1۔
تاخیر کرنا ظلم ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مالدار کا قرض ادا کرنے میں
ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث:2400) یعنی اگر قرض واپس کرنے کی طاقت ہے پھر
بھی نہیں دے رہا تو یہ ظلم ہے۔
2۔
شہید کا قرض بھی معاف نہیں: آپ ﷺ نے فرمایا: شہید کے تمام گناہ
معاف ہو جاتے ہیں سوائے قرض کے۔ (مسلم، ص 1046، حدیث: 1886)اس حدیث سے قرض کی
سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے کہ شہادت جیسا رتبہ بھی قرض معاف نہیں کروا سکتا۔
نبی
کریم ﷺ کا عمل: رسول
اللہ ﷺ اس شخص کا جنازہ نہیں پڑھاتے تھے جس پر قرض ہو اور اس نے ادائیگی کا انتظام
نہ کیا ہو آپ ﷺ فرماتے ہیں: تم اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔ (بخاری،2/72، حدیث:2289) بعد میں جب صحابہ اس کا قرض
ادا کردیتے تو آپ جنازہ پڑھاتے۔
قرض
کی وجہ سے عذاب: آپ
ﷺ نے فرمایا: مومن کی روح قرض کی وجہ سے لٹکی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کا قرض ادا کر
دیا جائے۔ (ابن ماجہ، 3/145، حدیث: 2413)یعنی مرنے کے بعد بھی قرض ادا نہ ہوا تو
روح کو سکون نہیں ملتا۔
Dawateislami