قرض کی
ادائیگی میں تاخیر مت کیجیے از بنت شمس،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
قرض
کیا ہے؟ قرض
سے مراد وہ رقم یا مال ہے جو ایک شخص (قرض خواہ) دوسرے شخص (مقروض) کو اس شرط پر
ادھار دے کہ وہ واپس لوٹایا جائے گا۔ یہ ایک مالی واجب الادا ذمہ داری ہے، جس میں
رقم، اشیاء، یا اثاثے وقت کی قید کے ساتھ دیے جاتے ہیں۔
قرض
کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرنا: فقہائے کرام نے بلاحاجت شرعی ادائے قرض
میں تاخیر کو بھی ظلم قرار دیاہے تو کسی سے قرض لے کر سرے سے واپس ہی نہ کرنا تو
اس سے بھی سخت ترمعاملہ ہے۔ اس بارے میں چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے اور اس
سے بچنے کی کوشش کیجیے: سرکارعالی وقار، مدینے کے تاجدار، حبیب پروردگار ﷺ نے
ارشاد فرمایا: (قرض کی ادائیگی میں) صاحب استطاعت کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری،
2/109، حدیث: 2400)
قرض
میں تاخیر: میرے
آقا اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرّحمٰن سے
قرضے کی ادائیگی میں سستی اورجھوٹے حیل و حجّت کرنے والے شخص زید کے بارے میں استفسار
ہواتوآپ نے ارشاد فرمایا: زید فاسق وفاجر، مرتکب کبائر، ظالم، کذّاب، مستحق عذاب
ہے۔ اس سے زیادہ اور کیا القاب اپنے لئے چاہتا ہے؟ اگر اس حالت میں مر گیا
اوردین(قرض) لوگوں کا اس پر باقی رہا، اس کی نیکیاں ان(قرض خواہوں) کے مطالبہ میں
دی جائیں گی اورکیونکر دی جائیں گی(یعنی کس طرح دی جائیں گی۔یہ بھی سن
لیجیے)تقریباً تین پیسہ دین(قرض)کے عوض(یعنی بدلے) سات سو نمازیں باجماعت(دینی
پڑیں گی)۔ جب اس (قرضہ دبا لینے والے) کے پاس نیکیاں نہ رہیں گی ان(قرض خواہوں) کے
گناہ اس (مقروض) کے سر پر رکھے جائیں گے اور آگ میں پھینک دیا جائے گا۔
فتاویٰ رضویہ میں
ہے: جو دنیا میں کسی کے تقریباً تین پیسے دین (یعنی قرض) دبا لے گا بروز قیامت اس
کے بدلے سات سو باجماعت نمازیں دینی پڑ جائیں گی۔ (فتاویٰ رضویہ، 25 / 69ملخصاً)
اے عاشقان رسول! اوّلاً تو حتّی الامکان خود کو قرض لینے سے بچائیے اور اگر زندگی
میں کسی موقع پر قرض لینا بھی پڑ جائے تو قرض واپس کرتے وقت ایسا انداز نہ ہو جس
سے آپ کی عزت اور نیک نامی پر کوئی حرف آئے اور آپ کے دوسروں سے تعلقات خراب ہوں۔
ورنہ قرض خواہ کو اس طرح پریشان کرنے کا ایک دنیاوی نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگوں
کی نظروں میں ایسے آدمی کا اعتبار نہیں رہتا۔
احادیث
مبارکہ:
فرمان مصطفےٰ ﷺ
ہے: مالدار کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری، 2/109، حدیث:
2400) اس کی شرح میں شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
مالدار کو یہ جائز نہیں کہ میعاد پوری ہونے پر قرض کی ادائیگی میں حیلہ بہانہ کرے۔
ہاں اگر کوئی تنگ دست ہے تو وہ مجبور اور معذور ہے۔ (نزھۃ القاری، 3 / 578)
قرض
دار کو مہلت دینا اور تقاضے میں نرمی برتنا: قرض دار کو
مہلت دینے اور تقاضے میں نرمی برتنے کے قرآن و حدیث میں بہت فضائل بیان ہوئے ہیں
چنانچہ پارہ 3سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 280 میں ارشاد ربّ العباد ہے: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ
عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز الایمان: اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو
اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلاہے اگر
جانو۔
Dawateislami