قرض کی
ادائیگی میں تاخیر مت کیجیے از بنت غلام جیلانی، فیضان رضا سرجانی ٹاؤن کراچی
دور حاضر کی
مہنگائی سے ہر طبقے خصوصا غریب لوگوں کی زندگیاں بہت متأثر ہوئی ہیں بہت سے لوگ
قرضوں کے بوجھ تلے دب گئے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے ہیں کہ ان بیچاروں کی نیت تو ہے مگر قرض
لوٹانے کے وسائل نہیں،اور بعض ایسے بھی ہیں جو باوجود قدرت قرض کی ادائیگی میں
غفلت سے کام لیتے ہیں۔ہر شخص کو چاہیے کہ جب کبھی زندگی میں ایسی صورتحال پیش آئے
کہ وہ کسی سے قرض لے تو اس قرض کو واپس دینے کی پکی نیت رکھے اور اسے لوٹانے کی
صحیح کوشش بھی کرے کیونکہ جو اس کے برعکس ہو وہ شخص گنہگار اور عذاب الہی کا حقدار
ہے۔
ادائیگی
قرض میں تاخیر کے نقصانات:
1۔ مقروض اگر
ادائیگی قرض میں تاخیر کرے تو لوگوں کی نظر میں اس کا مقام (عزت و وقار) گر جاتا
ہے۔
2۔ باہمی
تعلقات خراب ہوتے ہیں اور دلوں میں برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔
3۔ اگر دوبارہ
کبھی اس کو قرض یا کسی مدد کی ضرورت ہو تو شاید لوگ اس کے کام نہیں آئیں گے۔
4۔ باوجود
قدرت قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنا اللہ و رسول کی ناراضگی،قرض دینے والے کی حق
تلفی، اور دل ازاری کا سبب ہے جو کہ گناہ ہے۔
5۔ قرض دار
جھوٹ کی آفت میں بہت زیادہ مبتلا ہو تا ہے کہ کل دے دوں گا یا فلاں تاریخ کو لوٹا
دوں گا وغیرہ۔
احادیث
مبارکہ: کثیر
احادیث مبارکہ میں قرض واپس نہ کرنے پر مذمت اور ادائیگی قرض میں تاخیر سے بچنے پر
ترغیبات موجود ہیں، چنانچہ
حضرت سلمہ ابن
اکوع فرماتے ہیں ہم نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا فرمایا: کیا
اس پر کچھ قرض ہے عرض کیا گیا تین اشرفیاں، فرمایا: کیا اس نے کچھ مال چھوڑا بھی
ہے عرض کیا نہیں فرمایا اپنے یار پر تم ہی نماز پڑھو۔ابوقتادہ نے عرض کیا یارسول
الله! آپ اس پر نماز پڑھیں اس کا قرضہ میرے ذمہ ہے تب آپ نے نماز پڑھی۔ (بخاری،
2/72، حدیث:2289)
شرح
حدیث: اس
حدیث پاک کی شرح میں آتا ہے کہ انصار مدینہ قرض لینے کے بہت عادی تھے،ان کے مکان
جائیدادیں،سامان یہود کے ہاں گروی تھے،معمولی باتوں پر قرض لے لیا کرتے تھے،اس بری
رسم کو مٹانے کے لیے حضور نے مقروضوں پر یہ سختی فرمائی۔
حضرت براء بن
عازب فرماتے ہیں رسول الله ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن مقروض اپنے قرض میں گرفتار
رہے گا حتی کہ اپنے رب سے تنہائی کی شکایت کرے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح، 6/125،حدیث: 2915)
شرح:
یعنی
کسی غمخوار کو نہ پائے گا جو اس کا قرض ادا کر ے،صرف یہ ہی صورت ادائے قرض کی ہوگی
کہ رب تعالیٰ اس مقروض کی نیکیاں قرض خواہ و قرض کے عوض دے یا ان سے معاف کرائے۔
ادائیگی
قرض میں تاخیر کے اسباب اور ان کا حل:
1)مال کی محبت 2)غفلت 3) ٹال مٹول کی عادت: ان سب اسباب
کی اصل علم دین کی کمی ہے کہ ہمیں حقوق العباد کی اہمیت کا علم نہیں صحیح و غلط کی
پہچان نہیں ہے۔ہمیں علم حاصل کرنا چاہیے اور ادائیگی قرض میں تاخیر کی وعیدات اور
نقصانات کو بار بار پڑھ کر ان پر غور کرنا چاہیے کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں
کہیں قرض لوٹائے بغیر دنیا سے رخصت ہو گئے تو کیا بنے گا۔
4)
تنگ دستی:اگر
ادائیگی قرض پر قدرت نہ ہو تو ایسے شخص کو چاہیے جس سے قرض لیا ہے اس کو ٹال مٹول
کرنے کے بجائے اسے اپنے حال سے آگاہ کرے اور ایسی مدت تک مہلت مانگے کہ جس میں
امید ہو کہ واپس کر دوں گا اور رب سے دعا کرے ان شاء اللہ الکریم اسباب بن جائیں
گے۔
ادائیگی
قرض کی دعا: اللّٰهمّ اكفني بحلالِك عن حرامِك وأغنني بِفضلِكَ عمَّن سِواك اگر
پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اس دعا کی برکت سے اتر جائے گا۔
حقوق العباد
کی ادائیگی میں قرض کا معاملہ بہت حساس ہے، لہذا سمجھدار وہی ہے جو اگر استطاعت ہو
تو مرنے سے پہلے قرض کی ادائیگی کر دے۔
Dawateislami