قرض کی
ادائیگی میں تاخیر مت کیجیے از بنت علی احمد،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
مال دولت ایک
عارضی چیز ہے اسکے ذریعے کبھی خوشحالی کا دور ہوتا ہے اور کبھی تنگ دستی انہی مشکل
لمحات میں انسان مجبور ہو کر کسی سے قرض لے لیتا ہے تاکہ اپنی ضرورت پوری کر سکے۔
قرض لینا بذات خود بری بات نہیں، انسان کو چاہیے جب کسی سے قرض لے تو اس میں بلاوجہ
تاخیر نہ کرے۔
شریعت نے ادائے
قرض میں تاخیر کو بھی ظلم قرار دیا ہے تو کسی سے قرض لے کر سرے سے واپس ہی نہ کرنا
تو اس سے بھی سخت تر معاملہ ہے۔ آئیے اس کے متعلق حدیث پاک سنتی ہیں: سرکارعالی
وقار، مدینے کے ﷺ نے ارشاد فرمایا: (قرض کی ادائیگی میں) صاحب استطاعت کا ٹال مٹول
کرنا ظلم ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث:2400)
ایک اور جگہ
فرمایا: استطاعت والےکا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا، اس کی آبرو (عزّت) اور
اس کی سزا کو حلال کر دیتا ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث:2400)
میرے آقا
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرّحمٰن سے
قرضے کی ادائیگی میں سستی اورجھوٹے حیل و حجّت کرنے والے شخص زید کے بارے میں
استفسار ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا: زید فاسق وفاجر، مرتکب کبائر، ظالم، کذّاب،
مستحق عذاب ہے۔ اس سے زیادہ اور کیا القاب اپنے لئے چاہتا ہے؟اگراس حالت میں مر
گیا اوردین(قرض) لوگوں کا اس پر باقی رہا۔
حقوق العباد
کا معاملہ نہایت ہی سخت ہے۔قرض ادا کرنے کی ممکن صورت ہونے کے باوجود قرضدار سے
مہلت لیے بغیر آپ قرض کی ادائیگی میں جب تک تاخیر کرتے رہیں گےگنہگار ہوتے رہیں گے
آپ کے گناہوں کا میٹرچلتا رہے گا۔
شیخ طریقت،
امیر اہل سنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادری دامت برکاتہم العالیہ نے
ایک اعلان ترتیب دیا ہے، حسب موقع نماز جنازہ کے وقت یا ایصال ثواب کی محفل میں
کیا جاسکتا ہے:
مرحوم کے عزیز
و احباب توجّہ فرمائیں! مرحوم نے اگر زندگی میں کبھی آپ کی دل آزاری یا حق تلفی کی
ہو یا آپ کے مقروض ہوں تو ان کو رضائے الٰہی کے لئے معاف کردیجئے، ان شاء اللہ
مرحوم کا بھی بھلا ہوگا اور آپ کو بھی ثواب۔
رب تعالیٰ
ہمیں قرض کی آفت سے نجات عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami