قرض سے مراد وہ چیز یا رقم ہے جو ایک شخص دوسرے سے بوقت ضرورت لیتا ہے اور پھر کچھ وقت یا مقررہ وقت کے بعد واپس کر دیتا ہے۔ قرض کئی درجوں پر لیا جاتا ہے۔ اگر ہم چھوٹے درجے کی بات کریں تو یہ قرض کی وہ قسم ہے جس میں معاشرے کا ایک فرد متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے دوسرے شخص سے ضرورت کے وقت قرض لیتا ہے، جس میں کوئی کاغذی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی، صرف بھروسے کی بنیاد پر رقم یا چیز حوالے کر دی جاتی ہے۔

لیکن آج کل ہمارے معاشرے میں ایک نیا اصول رائج ہے۔ جب کسی کو ضرورت پڑتی ہے تو ایک شخص دوسرے کے پاس آتا ہے، بڑی آؤ بھگت کی جاتی ہے، بڑی بڑی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں، وعدے کیے جاتے ہیں، بات قسموں تک پہنچ جاتی ہے۔ اور جب ادھار مل جاتا ہے تو وصول کرنے والا ایسے غائب ہوتا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔

مقررہ وقت گزر جاتا ہے مگر وصول کنندہ خود سے قرض کی واپسی کا خیال بھی دل میں نہیں لاتا بلکہ اکثر کہا جاتا ہے مانگنے پر واپس کر دیں گے، ایسی کیا قیامت ہے۔ اور بعض دفعہ تو یہ ہوتا ہے کہ قرض دینے والا وصول کنندہ کے دروازے کا طواف کرتا تھک جاتا ہے، صاحب جی گھر بھی نہیں ہوتے۔ اگر ملاقات ہو جائے تو کل لا دوں گا، پرسوں لا دوں گا، بعض دفعہ دو تین گھنٹے بعد اور یہ دو تین گھنٹے اکثر مہینوں میں بدل جاتے ہیں۔ اور بعض دفعہ اگر 50 ہزار قرض دیا جائے تو اسے تین ہزار، پانچ ہزار اور دو ہزار کی قسطوں میں واپس کیا جاتا ہے۔

نتیجہ: لوگوں کا ایک دوسرے سے اعتبار اٹھ جاتا ہے، محبت کی جگہ نفرتیں لے لیتی ہیں۔ بعض دفعہ بات لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے جو ایک اسلامی معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے کافی ہے۔

قرض تو ایک امانت ہوتی ہے اور امانت واپس کرنا سنت نبوی ہے۔ ہجرت مدینہ کی رات کفار ہمارے نبی کی جان لینا چاہتے تھے مگر ہمارے پیارے نبی ﷺ پھر بھی ان کی امانتوں کی واپسی کا انتظام فرما رہے تھے۔ اور کتنے شرم کا بلکہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ اس نبی کی امت ہی آپس میں ایک دوسرے کا مال کھا لے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 2، البقرۃ: 188) ترجمہ: اور تم لوگ آپس میں دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔

اور قرض لے کر واپس نہ کرنا بھی ایک طرح سے دوسرے مسلمان بھائی کا مال ناجائز طریقے سے کھانا ہے۔ چنانچہ معاشرے کے فرد اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے کہ ہم قرض کی واپسی میں تاخیر نہ کریں۔

اس سے اوپری درجے پر آتا ہے بینک سے لیا گیا قرض، جس میں باقاعدہ کاغذی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص بینک کا قرضہ واپس نہیں کرتا تو بینک اس سے مسلسل نوے دن تک کالز اور میسجز کے ذریعے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے۔ بینک سول کورٹ میں کیس بھی کر سکتے ہیں حتیٰ کہ بات مال و جائیداد کی نیلامی تک پہنچ جاتی ہے اور مستقبل میں بھی جائیداد خریدنے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے، جس سے معاشرے میں ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔ کوئی شخص یا کوئی اور بینک آپ پر بھروسہ نہیں کرتا، حتیٰ کہ آپ قسطوں پر گھر کا معمولی سامان بھی نہیں خرید سکتے۔ گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے، بچوں کی تربیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

قرض لینے کے متعلق تیسرا درجہ وہ ہے جس میں ایک پسماندہ ملک کسی ترقی یافتہ ملک یا کسی عالمی بینک سے قرضہ لیتا ہے اور ان قرضوں کی واپسی میں تاخیر سے ملک و قوم کو ناقابل بیان اور ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس ملک پر ایک طرح سے بھکاری کا لیبل لگ جاتا ہے۔ ہر دو تین سال بعد آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں، ملک اپنے معاشی فیصلے کرنے کا اختیار کھو دیتا ہے، آئی ایم ایف کے کہنے پر مہنگائی کرنی پڑتی ہے، سرمایہ کار ملک سے بھاگنے لگتے ہیں، پوری دنیا میں ملک اور قوم کا مذاق بن کے رہ جاتا ہے۔ دوسرے ممالک اس ملک کے وسائل پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنے لگتے ہیں، حتیٰ کہ حالات ڈیفالٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ فرماتے ہیں: جس کو اپنے وعدے کا پاس نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں۔ اسی لیے وعدہ پورا کرنا ہر حال میں ضروری ہے کیونکہ قیامت کے دن وعدے کے متعلق پوچھا جائے گا۔ چنانچہ وعدے کے مطابق قرض ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ قرض لینے سے پہلے اس کی واپسی کی منصوبہ بندی کر لینی چاہیے کیونکہ قرض ایک امانت ہے اور امانت میں خیانت نہیں کر سکتے۔

اس کے علاوہ جو لوگ مالی مشکلات کے باعث اپنے قرض ادا کرنے سے قاصر ہیں تو ہمیں چاہیے ان کی مدد کرنے کی کوشش کریں کیونکہ زکوٰۃ کے آٹھ مصارف میں سے ایک قرض دار ہے۔ لہٰذا قرض دار کا قرض اتارنے کے لیے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔

اللہ رب العزت سب کی مشکلات آسان فرمائے۔ آمین ثم آمین