قرض کی
ادائیگی میں تاخیر مت کیجیے از بنت شاکر،فیضان رضا سرجانی ٹاؤن کراچی
اسلام میں قرض
(قرض حسنہ) اس مال یا رقم کو کہتے ہیں جو ایک مسلمان دوسرے کو بغیر کسی نفع (سود)
کے اس نیت سے دے کہ وہ بعد میں اسی مقدار میں واپس کرے گا۔
قرض ہمارے معاشرے میں پایا جانے
والا بہت عام معاملہ ہے۔ شاید ہی کوئی شخص ہو گا جس نے زندگی میں کبھی قرض نہ لیا
ہو۔ تقریبا سب ہی ضرورت کے تحت قرض لیتے یا دیتے رہتے ہیں۔پھر یہ معاملہ جتنا عام ہے،
اتنا ہی اہم بھی ہے۔ قرض لے تو لیتے ہیں لیکن وقت پر ادا نہیں کرتے اسی وجہ سے معاشرے
میں بڑے بڑے جھگڑے بھی ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ ایک دوسرے کی عزتیں اچھالی جاتی ہیں
بعض دفعہ تو قتل تک بھی نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اس لیے قرض کا معاملہ بہت اہم ہے، اسے
سنجیدگی سے لینا چاہیے۔اور وقت پر لوٹادینا چاہیے۔
قرآن پاک میں بھی اللہ کریم نے
فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا
تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُؕ- (پ 2،
البقرۃ: 282) ترجمہ: اے ایمان والو جب تم ایک مقررہ مدت کے لیے آپس میں قرض کا
معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔
اس آیت میں
اللہ کریم نے قرض کا معاملہ لکھنے کا حکم دیا تاکہ وقت پر قرض ادا کرسکے اور کسی
کا حق تلف نہ ہوسکے۔ تفسیر صراط الجنان میں ہے: جب ادھار کا کوئی معاملہ ہو،
خواہ قرض کا لین دین ہو اس صورت میں معاہدہ لکھ لینا چاہیے۔ یہ حکم واجب نہیں لیکن
اس پر عمل کرنا بہت سی تکالیف سے بچاتا ہے۔ ہمارے زمانے میں تو اس حکم پر عمل کرنا
انتہائی اہم ہو چکا ہے کیونکہ دوسروں کا مال دبا لینا، معاہدوں سے مکر جانا اور
کوئی ثبوت نہ ہونے کی صورت میں اصل رقم کے لازم ہونے سے انکار کرنا ہر طرف عام
ہوچکا ہے۔ لہٰذا جو اپنی عافیت چاہتا ہے وہ اس حکم پر ضرور عمل کرلے ورنہ بعد میں
صرف پچھتانا ہی نصیب ہوگا۔ اسی لئے آیت کے درمیان میں فرمایا کہ اور قرض چھوٹا ہو یا بڑا اسے اس کی مدت تک
لکھنے میں اکتاؤ نہیں۔ (2)
حدیث پاک میں
ہے: جس نے قرض لیا اور وہ اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ اسے ادا کرنے کے
معاملہ میں حریص ہے پھر وہ اسے ادا کیے بغیر مر گیا تو اللہ پاک اس بات پر قادر ہے
کہ اس کے قرض خواہ کو اپنے پسندیدہ انعامات کے ذریعے راضی کر دے اور مرنے والے کی
مغفرت فرما دے اور جس نے قرض لیا اور وہ اسے ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے پھر
وہ اسے ادا کیے بغیر مر گیا تو اس سے پوچھا جائے گا، کیا تو یہ گمان کرتا تھا کہ
ہم فلاں کو تجھ سے اس کا پورا حق لے کر نہ دیں گے؟ پھر اسکی نیکیوں میں سے کچھ
نیکیاں لے لی جائیں گی اور قرض خواہ کی نیکیوں میں قرض کے بدلے کے طور پر ڈال دی
جائیں گی اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہو ئیں تو قرض خواہ کے گناہ اس کے نامہ
اعمال میں ڈال دیئے جائیں گے۔ (3)
قرض جب بھی لیں، اس میں واپس
لوٹانے کا وقت لازمی مقرر کر لینا چاہیے۔ پھر جو تاریخ، دن واپسی کے لیے مقرر کیا
ہے، لازم ہے کہ اسی دن قرض واپس لوٹا دیں۔ اگر بالفرض کسی سبب سے انتظام نہ ہو سکے
تو چاہیے کہ قرض خواہ سے مل کر اپنا عذر بیان کریں، اور مہلت لے لیں۔ ہمارے ہاں
جیسے لوگ دھکے کھلاتے رہتے ہیں صبح لے لینا شام کو لے لینا حالانکہ قرض لوٹانے کی
طاقت ہوتی ہے رقم موجود بھی ہوتی ہے، پھر بھی خوامخواہ ٹال مٹول کرتے رہتے ہیں۔
یادرکھیے! قرض میں بلاوجہ تاخیر کرنا گناہ ہے اور اس تاخیر کا گناہ اس وقت تک لکھا
جاتا رہے گا، جب تک قرض لوٹا نہیں دیا جاتا۔ حدیث پاک میں ہے: جو قرض دار قدرت کے
باوجود اپنے قرض دینے والے کو ٹالے، تو اللہ پاک ہر دن اور رات میں اس پر گناہ
لکھتا ہے۔ (4)
قرض کا معاملہ بہت سخت ہے، قرض
بندوں کے حقوق میں سے ہے اور بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں ہوں گے جب تک بند
و خود معاف نہ کر دے۔ قیامت کا دن تو پھر قیامت کا دن ہے، اس دن تو ماں اکلوتے کو
چھوڑ رہی ہو گی، باپ سگے بیٹے سے ہاتھ بھی رہا ہو گا، لوگ ایک ایک نیکی کو ترس رہے
ہوں گے۔ آج اگر ہم معذرت کریں تو ہو سکتا ہے کہ سامنے والا ہمارا قرض معاف کر دے،
قیامت والے دن جب قرض نیکیوں کے ذریعے ادا کیا جائے گا، اس وقت قرض کی معافی مل
جائے: بہت مشکل ہے۔ لہذا جتنا قرض ذمے آتا ہو، سب کا فوری حساب لگا کر جتنی جلدی
ہو سکے اداکر دینا چاہیے۔ موت کا کیا بھروسا کب آجائے، کوشش کرنی چاہیے کہ مرنے سے
پہلے پہلے ہمارا سب قرض ادا ہو جائے۔
اللہ پاک
توفیق نصیب فرمائے۔ آمین
حوالہ
جات:
1۔ صراط
الجنان، 1/422
2۔ شعب
الایمان، 4/405، حدیث: 5561
3۔ شعب
الایمان، 7/530، حدیث:11232
Dawateislami