ارشاد ربانی ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ- (پ 5، النساء: 58) ترجمہ: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل تک پہنچا دو۔

حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: اس آیت میں امانت اور قرض واپس لوٹانے کے وجوب کا ثبوت ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نور خدا، رازدار کبریا ﷺ کا فرمان عالی نشان ہے: قرض کی ادائیگی میں مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث:2400)

قرض کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرنا: فقہائے کرام نے بلاحاجت شرعی ادائے قرض میں تاخیر کو بھی ظلم قرار دیا ہے تو کسی سے قرض لے کر سرے سے واپس ہی نہ کرنا تو اس سے بھی سخت تر معاملہ ہے۔

اس بارے میں چند حدیث مبارکہ ملاحظہ کیجیے:

سرکار عالی وقار مدینے کے تاجدار حبیب پروردگار ﷺ نے ارشاد فرمایا: قرض کے ادائیگی میں صاحب قرض کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث:2400)

استطاعت والے کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا اس کی آبرو یعنی عزت اور اس کی سزا کو حلال قرار دیتا ہے یعنی اسے برا کہنا اس پر طعن و تشنیع کرنا جائز ہوتا ہے۔ (بخاری،2/109، حدیث:2400)

تاجدار مدینہ، راحت قلب و سینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: شہید کا ہر گناہ معاف ہو جائے گا سوائے قرض کے۔ (مسلم، ص 1046، حدیث: 1886)

ام المؤمنین بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نماز میں دعا مانگتے تھے: الٰہی! میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور قرض سے۔ کسی نے عرض کیا: حضور ﷺ قرض سے کیوں پناہ مانگتے ہیں؟ تو فرمایا کہ آدمی جب مقروض ہوتا ہے بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔ (نسائی، ص 866، حدیث: 5464)

مسلمانو! ڈر جاؤ، حقوق العباد کا معاملہ نہایت سخت ہے۔

امام محمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ کیمیائے سعادت میں نقل کرتے ہیں کہ جو شخص قرض لے لیتا ہے اور نیت کرتا ہے کہ میں اچھی طرح ادا کروں گا تو اللہ اس کی حفاظت کے لیے اس پر فرشتے مقرر فرما دیتا ہے اور وہ دعا کرتے ہیں کہ اس کا قرض ادا ہو جائے۔ اور اگر قرض دار ادا کر سکتا ہو تو قرض خواہ کی مرضی کے بغیر اگر ایک گھڑی بھی تاخیر کرے گا تو گنہگار ہوگا اور ظالم قرار پائے گا۔

قرض میں تاخیر کے نقصانات: جس شخص کو قرض تاخیر سے لوٹانے کی عادت ہو جائے وہ پھر بےجا بہانے گھڑتا ہے چاہے اس کے پاس رقم موجود کیوں نہ ہو اور اس طرح وہ گناہوں کا عادی ہو جاتا ہے اور گناہ در گناہ کر بیٹھتا ہے۔

مزید نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی عزت بھی کھو بیٹھتا ہے اور لوگ اسے حقیر سمجھنے لگتے ہیں، اس کے علاوہ بھی کئی مقامات پر صاحب استطاعت کا قرض کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرنے کی مذمت آئی ہے کیونکہ قرض کی واپسی کرنا فرض ہے اور بلاوجہ اس میں تاخیر کرنا سخت گناہ ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم ضروری چیزوں کے بارے میں علم حاصل کریں تاکہ گناہوں سے محفوظ رہ سکیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی چادر دیکھ کر ہی اپنے پاؤں پھیلائیں۔

اگر ہم معاشرے کے فضول ٹرینڈز پر اپنا وقت اور مال برباد کرنے سے گریز کریں تو بہت سے لوگ مقروض ہونے سے بچ سکتے ہیں۔

ہمیں لمبی لمبی امیدیں نہیں باندھنی چاہئیں۔ اگر ہمارے پاس قرض ادا کرنے کے لیے رقم موجود ہے تو ہمیں مقررہ وقت پر قرض واپس کرنا چاہیے۔

اللہ پاک ہمیں اپنے سوا کسی کا محتاج نہ کرے اور تمام مقروض افراد کی مدد فرمائے۔ آمین