جس طرح
مختلف امراض صحت کے لیے مہلک ہیں اسی طرح باطنی امراض ایک مسلمان کی آخرت اور روحانی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان بیماریوں میں سے بغض و کینہ
بھی ہے، اس سے مراد کسی دوسرے مومن کے
بارے میں دل میں بلا وجہ دشمنی رکھنا ہے اور کسی مسلمان سے بلا وجہ شرعی دشمنی
رکھنا ناجائز و گناہ ہے۔ آئیں اس سے متعلق قرآن و حدیث سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔
شیطان کی
چاہت : اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں
ارشاد فرماتا ہے
اِنَّمَا
یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی
الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ
الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)
ترجمہ
کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے
میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)
سیدی و
مرشدی صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمہ اللہ تعالیٰ ’’خزائن العرفان‘‘ میں اس آیت
مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان
فرمائے گئے کہ شراب خواری اور جوئے بازی کا ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں
بُغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں میں مبتلا ہو وہ ذکرِ الٰہی اور
نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے ۔‘‘(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ53،54)
بغض دین
کو مونڈ ڈالتا ہے:
حضور
جان عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دین کو مونڈ ڈالتا
(یعنی تباہ کردیتا ) ہے۔(شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فی لیلۃ ۔۔۔الخ، ج3، ص383، حدیث:
3835 )
اس حدیث
مبارکہ میں بغض رکھنے والے سے بچنے کا حکم دیا کیونکہ بغض رکھنے والے کا ایمان
تباہ ہو جاتا ہے۔
ان
تمام سے معلوم ہوا کہ کسی مسلمان سے بغض و کینہ رکھنا شرعاً درست نہیں اس کے بہت
سے نقصانات ہے جیسے گناہوں میں اضافہ،بے سکونی،ایمان کی کمزوری، دعاؤں کی عدم قبولیت
وغیرہا۔
اللہ پاک ہمیں تمام باطنی بیماریوں سے محفوظ
رکھے۔ آمین
Dawateislami