رابطہ نمبر : 03245345933

بغض و کینہ کے بارے میں علم حاصل کرنا فرض ہے ۔ سب سے پہلے بغض اور کینہ تعریف معلوم ہونا ضروری ہے ۔ جب معلوم ہو گا بغض وکینہ کیا ہوتا ہے پھر ہی انسان اس بچ سکے گا اور الله پاک کا قرب حاصل کر سکے گا ۔

کینہ کی تعریف : دل میں دشمنی کو روکے رکھنا اور موقع پاتے ہی اس کا اظہار کرنا ۔ (لسان العرب جلد 1 ۔ صفحہ نمبر 888 )

حضرت سیدنا محمد بن محمد غزالی رحمۃ الله تعالٰی علیہ کینہ کی تعریف کر تے ہوئے فرماتے ہیں : انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ،اس سے دشمنی و بغض رکھے، نفرت کرے یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے باقی رہے ۔ (احیاء العلوم کتاب ذم الغضب و الحقد و الحسد جلد 3 صفحہ 223 )

مسلمان سے کینہ رکھنے کا شرعی حکم : مسلمان سے بلاوجہ شرعی بغض و کینہ رکھنا حرام ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 6 صفحہ 526 )

سیدناعبدالغنی نابلسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حق بات بتانے یا عدل و انصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے ۔(الحدیقۃ الندیۃ جلد 1 صفحہ 629 )

(1) : پچھلی امتوں کی بیماری:

صحابہ اکرام رضی اللہ تعالٰی نے حضور ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی : پچھلی امتوں کی بیماری کیا ہے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا : ( ان میں سے ایک ) آپس میں بُغض رکھنا ، بُخل کرنا ، یہاں تک کے وہ ظلم میں تبدیل ہو جائے اور پھر فتنہ فساد بن جائے ۔ ( المعجم الاوسط جلد 6 صفحہ 348 الحدیث 9016 )

(2) بخشش نہیں ہوتی : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں ۔ پھر بغض وکینہ رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مؤمن کو بخش دیا جاتا ہے ۔ کہا جا تا ہے ۔ ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اس بغض سے واپس لوٹ آئیں ۔ (صحیح مسلم صفحہ 1388 حدیث 2565 ) ۔

مسلمانوں کا کینہ پالنے والے کے لیے رونے کا مقام ہے کہ بخشش کا پروانہ تو ہر پیر اور جمعرات کو تقسیم ہوتا ہے مگر یہ محروم رہتا ہے ۔ یہ صرف اور صرف اس کا اپنا نقصان ہے ۔

(3) ایمان برباد ہونے کا خوف :

ایک مسلمان کے پاس سب سے قیمتی چیز اس کا ایمان ہوتا ہے ۔ بغض و کینہ کی وجہ سے یہ چھن جانے کا خوف ہوتا ہے ۔حضور ﷺ نے فرمایا : تم میں پچھلی امتوں کی بیماری حسد اور بغض سرایت کر گئی ۔ یہ مونڈدینے والی ہے ۔ میں نہیں کہتا یہ بال مونڈتی ہے ۔ بلکہ یہ دین کو مونڈتی ہے ۔(سنن الترمذی جلد 4 صفحہ نمبر 228 الحدیث 2518 )

حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : اس طرح کے دین و ایمان کو جڑ سے ختم کر دیتی ہے ۔ کبھی انسان بغض و حسد میں اسلام ہی چھوڑ دیتا ہے ۔ شیطان بھی انہی دو بیماریوں کا مارا ہوا ہے ۔ (مراۃ المناجیح جلد 6 صفحہ 615 )

(4) سادات سے بغض کا نقصان : حضور ﷺ نے فرمایا : جو شخص ہم سے بغض و حسد کر ے گا ۔ اسے قیامت کے دن حوض کوثر سے آگ کے چابکوں ( کوڑوں ) کے ذریعے دور کیا جائے گا ۔( المعجم الاوسط جلد 2 صفحہ 33 حدیث 2405 )

(5) شب براءت میں بخشش نہیں ہوتی :

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شب براءت میں اللہ پاک تمام بخشش مانگنے والوں کی مغفرت فرمادیتا ہے ۔ کینہ رکھنے والے کے معاملہ کو مؤخر اور ملتوی فرمادیتاہے ۔ ( کنزالعمال جلد 7447 صفحہ 186 )

کینہ کے اسباب :

1 : غصه ۔

2 : بدگمانی ۔

3 : شراب نوشی اور جُوا ۔

4 : نعمتوں کی کثرت ۔

کینہ کے تین علاج:

1 : سلام و مصافحہ کی عادت بنائیں ۔

2 : مسلمانوں سے اللہ کی رضا کے لیے محبت کیجیئے ۔

3 : مسلمانوں کے کینہ سے بچنے کے لیے دعا کریں ۔

وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۰)

ترجمہ کنزالایمان : اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ اے رب ہمارے بےشک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے۔ (پ28، الحشر: 10)

اللہ پاک ہمیں بغض و کینہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین