واٹس ایپ نمبر: 03044525139

پیارے اسلامی بھائیو!جس طرح بیماریاں ظاہری ہوتی ہیں جیسے بخار کھانسی وغیرہ اسی طرح بیماریاں باطنی بھی ہوتی ہیں ۔ جسمانی بیماریاں جسم کو متاثر کرتی ہیں لیکن باطنی بیماریاں روح و قلب و ایمان کو متاثر کرتی ہیں ۔ عام طور پر یہ ظاہری گناہوں کی نسبت زیادہ خطرناک ہیں انہیں میں سے ایک بغض و کینہ بھی ہے۔

آئیے اسکے متعلق جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔

بغض و کینہ کی تعریف : کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے ۔ (احیاء العلوم ج3ص223)

بغض و کینہ رکھنے والے سے بچو: اللہ کے محبوب دانائے غیوب مُنَزَّہ عن العیوب عزوجل و ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: اللہ عزوجل شعبان کی پندرھویں رات اپنے بندوں پر(اپنی قدرت کے شایان شان)تجلی فرماتا ہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دین کو موڑ ڈالتا ہے ۔یعنی تباہ کر دیتا ہے ۔(شعب الایمان باب فی الصیام ج3ص383حدیث نمبر 3835)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ بندوں کے اعمال ہر ہفتہ دو مرتبہ پیش کیے جاتے ہیں۔ پیر اور جمعرات کو ، پس ہر بندہ کی مغفرت ہوتی ہے سوا اس بندہ کے جو اپنے کسی مسلمان بھائی سے بغض و کینہ رکھتا ہے اس کے متعلق حکم دیا جاتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑے رہو (یعنی فرشتے ان کے گناہوں کو نہ مٹائیں) یہاں تک کہ وہ آپس کی عداوت سے باز آجائیں۔ (انوار الحدیث ، بغض و کینہ حدیث1)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی مسلمان کو عداوۃً چھوڑ رکھے اگر تین دن گزر جائیں تو اس کو چاہیے کہ اپنے بھائی سے مل کر سلام کرے اگر وہ سلام کا جواب دے دے تو(مصالحت کے )ثواب میں دونوں شریک ہیں اور اگر سلام کا جواب نہ دے تو جواب نہ دینے والا گنہگار ہوا اور سلام کرنے والا ترک تعلقات کے گناہ سے بری ہوگیا۔ (انوار الحدیث بغض و حسد حدیث 2)

بغض و کینہ سے بچنے کی دعا: دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 84صفحات پر مشتمل رسالے بغض و کینہ کے صفحہ نمبر 40 پر موجود ہے کہ : پارہ 28سورہ حشرآیت نمبر 10کو وقتاً فوقتاً پڑھتے رہنے سے ان شاء اللہ بغض و کینہ سے حفاظت رہے گی ۔

سوچئے اور عقل مندی سے کام لیجئے کہ عموماً بغض و کینہ جیسی باطنی بیماریوں کی وجہ دنیاوی چیزیں ہوتی ہیں ۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ دنیا کی وجہ سے اپنی آخرت کو برباد کر لینا دانشمندی ہے۔

اللہ تعالی ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


فون نمبر۔  03275373712

اسلام میں بغض و کینہ کی شدت سے مذمت کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ محبت، اخوت اور بھائی چارے کا رشتہ قائم رکھنے کی تاکید کی ہے۔ بغض اور کینہ، انسان کے دل کو فساد کا شکار کر دیتے ہیں اور ان کی موجودگی انسان کی روحانیت اور اخلاقی حالت کو بھی متاثر کرتی ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک ایمان کا حق ادا نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر 13)

یہ حدیث ایمان کی تکمیل کے لیے ضروری شرط کی وضاحت کرتی ہے، اور اس میں مسلمانوں کو اپنے بھائیوں کے ساتھ محبت و احترام سے پیش آنے کی تاکید کی گئی ہے۔ بغض و کینہ کے برعکس، انسان کو اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہی پسند کرنا چاہیے جو وہ خود اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

بغض و کینہ سے بچنے کی ہدایت:ایک اور حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:"آپس میں بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے حسد نہ رکھو پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو بلکہ اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ تک بات چیت نہ کرے۔(صحیح البخاری ۔حدیث نمبر 6076)

اس حدیث میں نبی ﷺ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے بارے میں بغض و کینہ سے بچنے کی سخت نصیحت کی ہے۔ اس میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان محبت، تعلقات کی صفائی اور حسن ظن ہونا چاہیے۔

اسلام میں بغض و کینہ کی مذمت کی گئی ہے اور اس سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ مسلمان اپنے دلوں کو صاف رکھیں اور ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی احادیث میں اس بات پر زور دیا کہ دل میں بغض اور کینہ نہ ہو، بلکہ ہر مسلمان کو اپنے بھائی کے لیے محبت اور خیر کی دعا کرنی چاہیے۔

اللہ تعالی ہمیں بغض و کینہ جیسی باطنی بیماری سے نجات عطا فرمائے۔ آمین


03261683576

(1) ایمان کی تکمیل اور باہمی محبت : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم جنت میں داخل نہ ہوگے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور تم مؤمن نہ ہوگے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث 54)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ مومن ایک دوسرے سے محبت کریں، نہ کہ دل میں بغض یا کینہ رکھیں۔

(2) کینہ رکھنے والے جنت میں داخل نہیں ہوں گے :حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس کے دل میں ہوں گی، وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا: دل میں کینہ، خیانت اور تکبر۔ (مسند احمد، حدیث: 12510، صحیح الاسناد)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ کینہ دل میں رکھنا جنت کے راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

(3) حسد اور بغض ایمان کو کھا جاتے ہیں :حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تمہارے اندر پچھلی امتوں کی بیماری داخل ہو گئی ہے: حسد اور بغض۔ اور یہ مونڈ دینے والی چیز ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بال مونڈتی ہے، بلکہ یہ دین کو مونڈ ڈالتی ہے۔" (جامع ترمذی، حدیث: 2510)

(4) مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان سے بغض جائز نہیں : حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق رکھے، اس طرح کہ جب وہ ملیں تو ایک دوسرے سے منہ موڑ لیں۔ ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔" (صحیح بخاری، حدیث: 6077؛ صحیح مسلم، حدیث: 2560)

یہ حدیث بغض، قطع تعلق اور دل کی کدورت کو ختم کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔

(5) دل کو صاف رکھنے کی فضیلت : حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کسی نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا: "کون سا شخص سب سے بہتر ہے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "ہر وہ شخص جس کا دل صاف اور زبان سچ بولنے والی ہو۔" صحابہ نے عرض کیا: "ہم سچ بولنے والے کو تو جانتے ہیں، دل کا صاف ہونا کیا ہے؟" فرمایا: "وہ دل جو پرہیزگار ہو، پاکیزہ ہو، جس میں نہ کوئی گناہ ہو، نہ ظلم، نہ کینہ، نہ حسد۔" (سنن ابن ماجہ، حدیث: 4216)

مندرجہ بالا احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دل میں بغض، حسد، کینہ اور دشمنی رکھنا اسلام میں سخت ممنوع ہے۔ یہ نہ صرف انسان کی روحانی تباہی کا سبب بنتا ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کی جڑ بھی یہی ہے۔ ایمان کی تکمیل، جنت کا حصول، اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے دل کو ہر قسم کی نفرت اور کدورت سے پاک رکھنا ضروری ہے۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


فون نمبر:: 03061977756

میٹھے اسلامی بھائیو: بغض و کینہ کی مذمت پر احادیث مبارکہ اور سلف وصالحین کے اقوال میں بہت وعیدیں بیان کی گئی ہیں، بغض وکینہ کی وجہ سے انسان کے اعمال ضائع ہونے کا اندیشہ ہے بغض وکینہ کے سبب آپسی محبت کو ختم ہو جاتی ہے اور دشمنی کو پیدا ہو جاتی ہے ۔ انسان کو اپنے دل میں کسی قسم کا بھی کوئی بھی بغض وکینہ نہیں رکھنا چاہیے آپس میں پیار محبت اور اتحاد ہونا چاہیے۔ ایک کو دوسرے سے بغض کی بجائے محبت ہونی چاہیے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آپس میں پیار محبت رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اور بغض وکینہ جیسی باطنی بیماری سے ہم سب کو محفوظ فرمائے ۔ آمین

کینہ کی علامات اور مثالیں: کسی سے پہلے کی طرح خوش مزاجی اور نرمی و مہربانی کے ساتھ پیش نہ آنا اس کو سلام کرنے اور ملاقات کرنے کو دل نہ کرنا اس کو دیکھنے اور بات کرنے کو دل نہ چاہنا اس کی خیر خواہی کا خیال نہ کرنا وغیرہ

کینہ کا حکم: مسلمان سے بلا وجہ شرعی کینہ وبغض رکھنا حرام ہے۔

(1) منافق دل میں بغض رکھتا ہے: روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں: میں نے رسول الله ﷺ کو فرماتے سنا کہ انصار سے محبت نہ کرے گا مگر مؤمن اور ان سے عداوت نہ کرے گا مگر منافق تو جس نے ان سے محبت کی الله اس سے محبت کرے،جس نے ان سے بغض رکھا الله اس سے ناراض ہو۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6216)

(2)دل میں کینہ نہ رکھنے والا جنتی: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے جنتی شخص وہ ہے جو اپنے دل میں کسی کے لئے دھوکہ، کینہ،یا حسد نہیں رکھتا۔ (مسند امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ حدیث نمبر ، 12697، صحیح السند)

(3) مؤمن کینہ نہیں رکھ سکتا: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ تعلق توڑ کے رکھے ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر ،6077)

میٹھے اسلامی بھائیو! جتنے بھی قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں ہم نے بغض وکینہ کی مذمت پر وعیدیں سنی ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمان بھائیوں کو اس بیماری سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


03227713821

بغض وکینہ وہ ہلاک کر دینے والی باطنی بیماری ہے جس میں مبتلا ہونے والا دنیا و آخرت کا خسارہ اٹھاتا ہے اور اس کے نقصان دہ اثرات سے اس کے آس پاس رہنے والے افراد بھی نہیں بچ پاتے اور یوں یہ بیماری عام ہو کر معاشرے کا سکون برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔ خاندانی دشمنیاں شروع ہو جاتی ہیں ، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی جاتی ہیں، ذلیل ورسوا کرنے اور مالی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے ، اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی کرنے کے بجائے اُسے تکلیف پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے ، اس کے خلاف سازشیں کی جاتی ہیں جس سے فتنہ و فساد جنم لیتا ہے۔ فی زمانہ اس کی مثالیں کُھلی آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ہیں۔

آئیے بغض وکینہ کی تعریف،حکم اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں اس کی مذمت پڑھتے ہیں۔

بغض وکینہ کی تعریف: بغض وکینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے ،نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے۔(احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، القول فی معنی الحقد الخ، 3/ 222)

بغض وکینہ کا حکم: کسی بھی مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔ حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الغنی نابلسی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’حق بات بتانے یا عدل و اِنصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے۔ ‘‘(حدیقہ ندیہ، السادس العاشر من الاخلاق الستین المذمومۃ، 1/ 429)

(1) رحمت و مغفرت سے محرومی: پندرہ شعبان المعظم کی رات کتنی نازک ہے ! نہ جانے کس کی قسمت میں کیا لکھ دیا جائے ! ایسی اہم رات میں بھی کینہ پرور بخشش و مغفرت کی خیرات سے محروم رہتا ہے۔جیسا کہ امُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث شریف میں ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایان شان) تجلّی فرماتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرما دیتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتاہے، جبکہ بغض و کینہ رکھنے والوں کو اُن کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‘‘(شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فی لیلة الخ،3/383 حدیث:2835 )

(2)بخشش نہیں ہوتی: مسلمانوں کا کینہ اپنے سینہ میں پالنے والوں کے لئے رونے کا مقام ہے کہ خدائے رحمن کی طرف سے ہر پیر اور جمعرات کو بخشش کے پروانے تقسیم ہوتے ہیں لیکن کینہ پرور اپنی قلبی بیماری کی وجہ سے بخشے جانے والے خوش نصیبوں میں شامل ہونے سے محروم رہ جاتا ہے! جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: ہر پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں، پھر بغض و کینہ رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مؤمن کو بخش دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے : أَتُرُكُوا أَوِ ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِينَا ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اس بغض سے واپس پلٹ آئیں ۔ (صحيح مسلم ، كتاب البر والصلۃ ، باب النهي عن الشحناء ، ص 1388، الحديث 2565)

(3)دین کو مونڈ دیتا ہے: ایمان ایک انمول دولت ہے اور ایک مسلمان کے لئے ایمان کی سلامتی سے اہم کوئی شے نہیں ہو سکتی لیکن اگر وہ بغض و حسد میں مبتلا ہو جائے تو ایمان چھن جانے کا اندیشہ ہے، چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب ﷺ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ تم میں پچھلی امتوں کی بیماری حسد اور بغض سرایت کر گئی ، یہ مونڈ دینے والی ہے، میں نہیں کہتا کہ یہ بال مونڈتی ہے بلکہ یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔(سنن الترمذی ، كتاب صفۃ القيمۃ ، 4/ 227 ، الحديث : 2518)

(4) کینہ پروری دوزخ میں لے جائے گی: جہنم کے عذابات اس قدر خوفناک اور دہشتناک ہیں کہ ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ، وہاں دنیا کی آگ سے ستر گنا تیز آگ ہوگی جو کھالوں کو جلا کر کوئلہ بنادے گی ، ہڈیوں کا سرمہ بنادے گی اورلوہے کے بڑے بڑے ہتھوڑوں سے اسے پیٹا جائے گا۔ اسی قسم کے بے شمار رنج و الم اور تکلیفوں سے بھر پور جگہ ہوگی جہاں دیگر گناہگاروں کے ساتھ ساتھ چغل خور اور کینہ پرور بھی جائیں گے۔ چنانچہ سرکار عالی وقار، مدینے کے تاجدار ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ النَّمِيمَةَ وَالْحِقْدَ فِي النَّارِ لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ مُسْلِمٍ

بے شک چغل خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہیں، یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے ۔ (المعجم الاوسط ، باب العين ، من اسمہ عبد الرحمن 301/30، الحديث 4653)

(5 )جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا:حضرت سید نا فضیل بن عیاض علیہ رحمۃ اللہ الوہاب نے خلیفہ ہارون رشید کو ایک مرتبہ نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”اے حسین و جمیل چہرے والے ! یا درکھ! کل بروز قیامت اللہ عزوجل تجھ سے مخلوق کے بارے میں سوال کرے گا۔ اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا یہ خوبصورت چہرہ جہنم کی آگ سے بچ جائے تو کبھی بھی صبح یا شام اس حال میں نہ کرنا کہ تیرے دل میں کسی مسلمان کے متعلق کینہ یا عداوت ہو۔ بے شک رسول الله ﷺ نے ارشادفرمایا: مَنْ أَصْبَحَ لَهُمْ غَاشًّا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الجَنَّةِ جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ کینہ پرور ہے تو وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھ سکے گا۔ یہ سن کر خلیفہ ہارون رشید رونے لگے ۔ ( حلیۃ الأولياء، 8/108 الحديث 11536)

پیارے اسلامی بھائیو! مذکورہ احادیث مبارکہ میں بیان ہوا کے بغض وکینہ رکھنے والا دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل ورسوا ہوتا ہے۔

لہٰذا بغض وکینہ سے بچنے کے چند علاج عرض کرتا ہوں:

(1) ایمان والوں کے کینے سے بچنے کی دعا کیجئے۔

(2) کینے کے اسباب (غصہ، بدگمانی ، شراب نوشی ، جو اوغیرہ ) دور کیجئے۔

(3) سلام و مصافحہ کی عادت بنا لیجئے۔

(5) بے جا سوچنا چھوڑ دیجئے۔

(6) مسلمانوں سے اللہ کی رضا کے لئے محبت کیجئے۔

(7) دنیاوی چیزوں کی وجہ سے بغض وکینہ رکھنے کے نقصانات پر غور کیجیے۔

اللہ عزوجل عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین 


فون نمبر: 0306478043

جان لو ! جب انسان کو غصہ آتا ہے اور وہ اس وقت انتقام لینے سے عاجز ہونے کی وجہ سے غصہ پینے پر مجبور ہوتا ہے تو اس کا یہ غصہ اس کے باطن کی طرف چلا جاتا اور قرار پکڑ لیتا ہے پھر کینہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ کینہ کا معنی ہے : ” دل کا کسی کو بھاری سمجھنا اور ہمیشہ کے لئے اس سے نفرت کرنا اور دشمنی رکھنا۔“

(1)نبی کے اصحاب سے محبت: حضرت فضیل بن عیاض نے فرمایا کرتے تھے: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے معتبر عمل اصحاب نبی سے محبت ہے۔ اگر تو روز محشر روئے زمین کے برابر گناہ لے کر آیا تب بھی اللہ تعالیٰ تجھے معاف کر دے گا لیکن اگر تو میدان محشر میں صحابہ کرام سے ذرہ بھر بھی بغض لے کر آیا تو تجھے کسی نیکی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔(كتاب المتحابين فی الله لا بن قدامۃ المقدسی، ص: 28)

(2)اولیاء سے بغض: حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے ، اللہ پاک کے پیارے نبی ، مکی مدنی ، مُحَمَّدِ عربی ﷺ نے فرمایا : اللہ پاک فرماتا ہے : جس نے میرے کسی ولی سے دُشمنی رکھی ، میں اسے اِعْلانِ جنگ دیتا ہوں۔ بندہ جن ذرائع سے میرا قُرْب حاصِل کرتا ہے ، اُن میں میرا سب سے پسندیدہ ذریعہ فرائض ( مثلاً نَماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ وغیرہ ) ہیں اور میرا بندہ نوافِل کے ذریعے میرا قُرْب حاصِل کرتا رہتا ہے ، کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ میں اس سے محبّت کرنے لگتا ہوں ، پھر جب میں اس سے محبّت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں ، جس سے وہ سنتا ہے ، میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں ، جس سے وہ دیکھتا ہے ، میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں ، جس سے وہ پکڑتا ہے ، میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں ، جن سے وہ چلتا ہے ، اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں ، اگر وہ میری پناہ لیتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔ (بخاری ،ج4،ص248،حدیث:6502)

(3) بغض رکھنے والوں سے بچو: اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، مُنَزَّهُ عَنِ الْعُيُوبِ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: ”اللہ عزوجل (ماه) شعبان کی پندرہویں رات ( اپنی قدرت کے شایان شان) تجلی فرماتا ہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے ۔ ایک اور مقام پر ارشاد ” بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بعض دین کو مونڈ ڈالتا (یعنی تباہ کر دیتا) ہے ۔ (كنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال الجزء : 3، ج 2 ص 27 حدیث: 5467)

(4)قبر میں کالا بچھو : حضور نبی کریم رؤف رحیم ﷺ کے چچا حضرت سید نا عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں کچھ لوگ گھبرائے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے : ہم حج کی سعادت پانے کے لیے نکلے تھے، ہمارے ساتھ ایک آدمی تھا، جب ہم ذاتُ الصِّفَاحُ کے مقام پر پہنچے تو اس کا انتقال ہو گیا۔ ہم نے اس کے غسل و کفن کا انتظام کیا پھر اس کے لیے قبر کھودی اور اسے دفن کرنے لگے تو دیکھا کہ اچانک اس کی قبر کالے سانپوں سے بھر گئی ہے۔ ہم نے وہ جگہ چھوڑ کر دوسری قبر کھودی تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی کالے سانپوں سے بھر گئی ، بالآخر ہم اسے وہیں چھوڑ کر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے ہیں ۔ یہ واقعہ سن کر حضرت سید نا عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا: ” یہ اس کا کینہ ہے جو وہ اپنے دل میں مسلمانوں کے متعلق رکھا کرتا تھا، جاؤ ! اور اسے وہیں دفن کر دو۔(موسوعۃ ابن ابی الدنيا، كتاب القبور، ج6، ص 73، رقم:127)

(5) مغفرت سے محرومی: حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’لوگوں کے اعمال ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیر اور جمعرات کے دن پیش کئے جاتے ہیں اور ہر مسلمان بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے سوائے اس بندے کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہو۔ کہا جاتا ہے ’’اسے چھوڑ دو یا مہلت دو حتّٰی کہ یہ رجوع کر لیں۔ (مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب النہی عن الشحناء والتہاجر، ص1378، الحدیث: 34(2545))


فون نمبر:03274110025

بغض و کینہ کی تعریف: کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیر شرعی دشمنی و بغض رکھے ، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی ہے(احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد ، القول في معنی الحقد ۔۔الخ ،ج3، ص 223)

‏اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)

ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)

تفسیر :صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد تعلیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے : اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وہاں بیان فرمائے گئے کہ شراب خوری اور جوئے بازی کا ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں میں مبتلا ہو وہ ذکر اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے۔

(3)کینہ اور دوزخ: سرکار دو عالم ، نور مجسم ﷺ و بے شک چغل خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہیں؟ یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے ۔(المعجم الاوسط ، باب العين، من اسمہ عبد الرحمن، 3 / 2301 الحديث 4653)

(4) مؤمن کی خصوصیت : رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومن کینہ پرور نہیں ہوتا ۔ ( الزواجر عن اقتراف الكبائر، الكبيرة الثالثۃ الغضب بالباطل الخ ، 124/1)

(5)بخشش سے محروم : رسول نذیر، سراج منیر محبوب رب قدیر ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: ہر پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں ، پھر بغض و کینہ رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مومن کو بخش دیا جاتا اور کیا جاتا ہے ۔ ( بغض و کینہ ، ص 9 المدینۃ العلمیہ)


فون نمبر ، 03708316429

پیارے اسلامی بھائیو! ہمارا دین بہت ہی پیارا دین ہے جس طرح ظاہری گناہوں کے بارے میں پیارے دین میں بتایا گیا اسی طرح باطنی گناہوں کے بارے میں بھی دین میں بتایا گیا ظاہری گناہ چوری فسق و فجور جھوٹ غیبت وغیرہ اسی طرح باطنی گناہ بغض کینہ حسد تکبر وغیرہ وغیرہ ان کے بارے میں بھی شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو سمجھایا آج کا موضوع بغض و کینہ کے بارے میں ہے۔ آئیے بغض و کینہ کی تعریف پڑھتے ہیں:

کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے اس سے غیر شرعی دشمنی ہو بغض رکھے نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔

یہ کینہ اور بغض کی تعریف بیان کی گئی ہے اس کے ساتھ ساتھ آپ کو بغض و کینہ کا حکم بھی بیان کرتا جاؤں:

پیارے اسلام بھائیو! حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے احادیث مبارکہ میں بھی بغض و کینہ کے متعلق بتایا اور اس سے منع فرمایا۔ آئیے چند احادیث مبارکہ پڑھتے ہیں:

(1)آپس میں بغض نہ رکھو: عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’لَاتَحَاسَدُوْا وَلَاتَنَاجَشُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَايَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا، اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِـمِ، لَايَظْلِمُهٗ وَلَايَخْذُلُهٗ وَلَايَكْذِبُهٗ وَلَايَحْقِرُهٗ، اَلتَّقْوٰى هٰهُنَا ‘‘ وَيُشِيْرُ اِلٰى صَدْرِهٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ’’بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِ اَن يَّحْقِرَ اَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ حَرَامٌ دَمُهٗ وَمَالُهٗ وَعِرْضُهٗ‘‘(رَوَاهُ مُسْلِم)

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، قطع تعلقی نہ کرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رسواکرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔آپ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں ہے،کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔ (مسلم، كتاب البر والصلۃ والاٰداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقاره الخ، ص321، حدیث 6541:)

مشکل الفاظ کے معانی : ’’النَّجَشْ‘‘ کسی سامان کی فروخت کے لئے بازار میں بولی لگائی جا رہی ہو تو کوئی شخص دوسروں کو دھوکہ دینے کے لئے قیمت میں اضافہ کردےحالانکہ وہ خریدنا نہیں چاہتا تو یہ نجش ہے اور نجش حرام ہے۔ ’’تَدَابُر‘‘یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے سے بے رخی کرے اور اسے اس طرح چھوڑدے جیسے کوئی چیز پیٹھ کے پیچھے ہوتی ہے۔ ( کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:235)

(2)تمہارے دل میں کسی کے لئے کینہ و بغض نہ ہو: حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: تاجدار مدینہ، راحت قلب و سینہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: يَا بُنَى إِنْ قَدِرْتَ أنْ تُصْبِحَ وَ تُمْسِيَ لَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِلٌّ لِأَحَدٍ فَافْعَلُ اے میرے بیٹے ! اگر تم سے ہو سکے کہ تمہاری صبح و شام ایسی حالت میں ہو کہ تمہارے دل میں کسی کے لئے کینہ و بغض نہ ہو تو ایسا ہی کیا کرو ۔ (ترمذی، کتاب العلم، 309/4 ، الحدیث: 2687)

(3)کینہ والے کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے: وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالٰى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهٖ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاھِنٍ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔ ( مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1306 )

(4)لوگوں میں سے کون افضل ہے؟ وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى اللَّه عليه وسلم: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ: كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ، قَالُوا: صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ قَالَ: هُوَ النَّقِيُّ التَّقِيُّ لَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَلَا بَغْيَ، وَلَا غِلَّ وَلَا حَسَدَ

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ سے عرض کیا گیا کہ لوگوں میں سے کون افضل ہے؟ فرمایا ہر سلامت دل والا سچی زبان والا، لوگوں نے عرض کیا کہ سچی زبان والے کو تو ہم جانتے ہیں تو سلامت دل والا کیا ہے ؟ فرمایا وہ ایسا ستھرا ہے جس پر نہ گناہ ہو نہ بغاوت نہ کینہ اور نہ حسد ۔ ( مشکوٰۃ المصابیح جلد:7 ، حدیث نمبر:5221 )

کینہ کی ہلاکت خیزیاں:

میٹھے اسلامی بھائیو! کینہ وہ مہلک (یعنی بلاک کر دینے والی ) باطنی بیماری ہے جس میں مبتلا ہونے والا دنیا و آخرت کا خسارہ اٹھاتا ہے اور اس کے مضر( یعنی نقصان دہ) اثرات سے اس کے آس پاس رہنے والے افراد بھی نہیں بچ پاتے اور یوں یہ بیماری عام ہو کر معاشرے کا سکون برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔ خاندانی دشمنیاں شروع ہو جاتی ہیں ، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی جاتی ہیں، ذلیل ورسوا کرنے اور مالی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے، اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی کرنے کے بجائے اُسے تکلیف پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے ، اس کے خلاف سازشیں کی جاتی ہیں جس سے فتنہ و فساد جنم لیتا ہے۔ فی زمانہ اس کی مثالیں کھلی آنکھوں سے دیکھی جا سکتی ہیں۔

اللہ تعالٰی ہم سب کو اس مہلک بیماری سے بچائے۔ اللہ پاک ہم سب کو حضور ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امين بجاه النبی الأمين ﷺ


pH   03323598339

تمہید جس طرح انسان اپنے کاروبار کو بڑا کرنے کے لیے دن رات کوشش کرتا اور کاروباری خامیاں دور کرتا ہے ایسی ہی اپنی آخرت کو بہتر بنانے کیلئے بھی اس راہ میں پیش آنے والی خامیوں کو دور کرنا بہت ضروری ہے ان خامیوں میں جیسے حسد ،تکبر اور بغض و کینہ شامل ہیں ہمیں ان سے بچ کر اپنے آپ کو ایک کامیاب مسلمان بنانے کے لیے ہر دم کوشاں رہنا چاہیے ۔

یہ بھی دل کی پاکیزگی : انسان کو اپنی آخرت بہتر بنانے کیلئے اعمال کے ساتھ ساتھ دل کی پاکیزگی کے لیے بھی کوشش کرنی چاہیے جیسے حضور ﷺ کا فرمان ہے :

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ:كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ، قَالُوا: صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ قَالَ: هُوَ النَّقِيُّ التَّقِيُّ لَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَلَا بَغْيَ، وَلَا غِلَّ وَلَا حَسَدَ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

ترجمہ :روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ سے عرض کیا گیا کہ لوگوں میں سے کون افضل ہے؟ فرمایا ہر سلامت دل والا سچی زبان والا، لوگوں نے عرض کیا کہ سچی زبان والے کو تو ہم جانتے ہیں تو سلامت دل والا کیا ہے ؟ فرمایا وہ ایسا ستھرا ہے جس پر نہ گناہ ہو نہ بغاوت نہ کینہ اور نہ حسد (ابن ماجہ، بیہقی شعب الایمان)(حوالہ ،شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:7 ، حدیث نمبر:5221)

ہر چیز کا کوڑا کچرا مختلف ہوتا ہے۔دل کا کوڑا یہ چیزیں ہیں جن سے دل میلا ہوتا ہے،پھر جیسے ناپاک بدن مسجد میں آنے کے قابل نہیں ایسے ہی ناپاک دل مسجد قرب الٰہی کے قابل نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے: اِلَّا مَنْ اَتَی اللہَ بِقَلْبٍ سَلِیۡمٍ

کینہ رکھنے والا مغفرت سے محروم : ہر شخص کو اپنی بخشش کے اسباب اختیار کرنے چاہیے تو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کس سبب سے اس کی بخشش نہیں ہوسکتی تاکہ محنت و مشقت صحیح راہ میں اٹھائی جاسکے :

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالٰى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهٖ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاھِنٍ

ترجمہ : روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا :الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔(ابن ماجہ)(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1306)

کینہ اتنا برا: ایک مسلمان کی عظمت و شان کیا ہے کہ کسی کو بھی اس کے بارے برا خیال رکھنے تک کی اجازت نہیں, کاش یہ حدیث ہمارے ذہن میں راسخ ہو ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ بندوں کے اعمال ہر ہفتہ دو مرتبہ پیش کیے جاتے ہیں۔ پیر اور جمعرات کو ، پس ہر بندہ کی مغفرت ہوتی ہے سوا اس بندہ کے جو اپنے کسی مسلمان بھائی سے بغض و کینہ رکھتا ہے اس کے متعلق حکم دیا جاتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑے رہو (یعنی فرشتے ان کے گناہوں کو نہ مٹائیں) یہاں تک کہ وہ آپس کی عداوت سے باز آجائیں۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب "تحریم الہجر فوق ثلاث بغیر سبب شرعی،حدیث نمبر: 2565،صفحہ: 1396 )

دین کو مونڈتی: دین کو سلامت رکھنا بے حد ضروری ہے کہ اسی پر انسان کی کامیابی و کامرانی کا مدار ہے اور دین کو نقصان پہنچانے والی چیزوں سے ہر دم بچنا چاہیے اور ان نقصان دہ چیزوں کا علم بھی رکھے جیسے کہ حدیث پاک میں ہے : حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ اگلی امتوں کی بیماری تمہاری طرف بھی آگئی وہ بیماری حسد و بغض ہے جو مونڈنے والی ہے ۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ بال مونڈتی ہے بلکہ وہ دین کو مونڈتی ہے ۔ ( الترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب "فی الحسد والبغضاء،حدیث نمبر2510،صفحہ 222)

اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے اور بغض و کینہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


فون نمبر :03704351523

پیارے اسلامی بھائیو! آیئے بغض و کینہ کے متعلق چند احادیث مبارکہ ملاحظہ کیجیے:

(1)دل میں کینہ نہ رکھو:روایت ہے حضرت انس فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے میرے بچے اگر تم یہ کرسکو کہ صبح اور شام ایسے گزارو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کھوٹ (کینہ)نہ ہو تو کرو پھر فرمایا کہ اے میرے بچے یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:175 )

(2)ایک دوسرے سے بغض نہ کرو: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کرو نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ اور ایک روایت میں ہے اور نہ نفسانیت کرو ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5028)

(3)روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہیں جائز ہے گواہی خیانت کرنے والے کی اور نہ خیانت کرنے والی کی اور نہ سزا کوڑے مارے ہوئے کی اور نہ کینہ والے کی اپنے بھائی کے خلاف اور نہ ولاءونسب میں تہمت والے کی اور نہ کسی گھر والوں کے خرچہ پر گزارہ کرنے والے کی (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 ، حدیث نمبر:3781

(4)ہفتے کے دوران اعمال کا پیش ہونا: حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر ہفتے کے دوران یعنی پیر اور جمعرات والے دن لوگوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور بعض کینہ کرنے والے دو بھائیوں کے علاوہ تمام کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ بغض کینہ کرنے والے کو ان کے حال پر چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ بغض و کینہ سے واپس لوٹ آئیں۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 6547)

(5)بڑی خصلت: حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بغض یا حسد ایسی بری خصلت ہے کہ اس کی وجہ سے لوگوں کا دین اور اخلاق تباہ و برباد ہو جاتا ہے بلکہ یہ خصلت دین اور دنیا دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔(مشکوٰۃ المصابیح جلد 4 حدیث نمبر 4967)

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ جو کچھ ہم نے پڑھا اس پر عمل کرنے کی توفیق اور اسے اگے تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین 

وٹس ایپ نمبر : 03192699377

مکتبۃ المدینہ کی کتاب "باطنی بیماریوں کی معلومات" میں ارشاد ہے: کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ53)

یعنی کینہ وہ زہر ہے جو دل میں چھپ کر ایمان کو کمزور کرتا ہے، عبادات سے لذت چھین لیتا ہے اور تعلقات کو توڑ دیتا ہے۔اسلام نے دلوں کو صاف رکھنے اور باہمی محبت قائم کرنے کی تعلیم دی ہے، اسی لیے نبی کریم ﷺ نے متعدد احادیث میں بغض و کینہ سے منع فرمایا۔

مسلمانوں کے درمیان بغض و کینہ سے منع فرمایا گیا: قَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ: لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللہ إِخْوَانًا۔ (صحیح بخاری، حدیث: 6065) ترجمہ: آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو، بلکہ اللہ کے بندے ہو کر بھائی بھائی بن جاؤ۔

اس حدیثِ پاک میں نبی کریم ﷺ نے امت کو اجتماعی محبت اور بھائی چارے کی تعلیم دی ہے۔ بغض و کینہ دلوں کی صفائی چھین لیتا ہے اور شیطان اسی ذریعے سے مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلاتا ہے جو بندہ مومنوں کے لیے دل میں نفرت رکھتا ہے، وہ دراصل اپنے ایمان کو زنگ آلود کر لیتا ہے۔

کینہ رکھنے والا مغفرت سے محروم رہتا ہے:قَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ: يُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِ اللہ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ (صحیح مسلم، حدیث: 2565)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت کے دروازے ہر پیر اور جمعرات کو کھولے جاتے ہیں، اور ہر بندے کو بخش دیا جاتا ہے جو شرک سے پاک ہو،سوائے اُس شخص کے جس کے دل میں اپنے بھائی کے لیے کینہ ہو۔

یہ حدیث ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کینہ دار شخص کی مغفرت مؤخر کر دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اُس وقت تک اس کے گناہوں کو نہیں بخشتا جب تک وہ دل سے اپنے مسلمان بھائی کو معاف نہ کر دے یعنی کینہ انسان اور مغفرت کے درمیان دیوار بن جاتا ہے

تین دن سے زیادہ بغض و ناراضگی ناجائز ہے: قَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاث (صحیح بخاری، حدیث: 6077) ترجمہ:کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہے۔

اختلاف فطری ہے، مگر بغض و کینہ رکھنا ناجائز ہے۔ نبی کریم ﷺ نے تین دن سے زیادہ ناراضگی کی اجازت نہیں دی تاکہ دلوں میں نفرت نہ جڑ پکڑ سکے یہی دراصل دل کی صفائی اور ایمان کی نشانی ہے۔

حدیث کی روشنی میں بغض و کینہ کے نقصانات:

1: مغفرت رک جاتی ہے:جیسا کہ اوپر حدیث میں آیا، کینہ رکھنے والا شخص بخشش سے محروم رہتا ہے

2: نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں:نبی ﷺ نے فرمایا: بغض ایمان کو منہ کے بل گرا دیتا ہے جیسے سرکہ شہد کو بگاڑ دیتا ہے۔ (بیہقی، شعب الایمان)

یعنی کینہ ایمان کی مٹھاس کو زائل کر دیتا ہے۔

3: عبادت کی لذت ختم ہو جاتی ہے: دل جب بغض سے بھرا ہو تو ذکر و عبادت سے سکون حاصل نہیں ہوتا۔

4: معاشرتی فساد پیدا ہوتا ہے: کینہ رکھنے والے دل دوسروں کی بھلائی نہیں چاہتے یوں خاندان معاشرہ اور قوم انتشار کا شکار ہو جاتی ہے بغض و کینہ وہ زہر ہے جو دلوں کی روشنی کو بجھا دیتا ہے۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم دلوں کو صاف رکھیں، دوسروں کے لیے خیرخواہی کا جذبہ پیدا کریں اور اپنے ایمان کو محبت، درگزر اور اخوت سے مضبوط بنائیں۔

حدیث شریف: تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور ایمان نہیں لا سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ (صحیح مسلم: 54)

اللہ پاک ہمیں بغض و کینہ جیسی باطنی بیماری سے نجات عطا فرمائے۔ آمین 


0323-1494018

اسلام ایک ایسا دین ہے جو دلوں کو جوڑنے، محبت، بھائی چارے اور خیر خواہی کا درس دیتا ہے۔ اس کے برعکس، بغض و کینہ نفرت حسد، دشمنی دلوں کو پھاڑتا ہے، تعلقات کو ختم کرتا ہے، اور معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث میں بار بار اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔

بغض و کینہ کی تعریف: بغض یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے ، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے۔ (احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، القول فی معنی الحقد الخ ، جلد:3،صفحہ: 223 )

بغض وکینہ کا حکم: کسی بھی مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز و گناہ ہے۔ حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الغنی نابلسی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’حق بات بتانے یا عدل و اِنصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے۔ ‘‘(حدیقہ ندیہ ، السادس العاشر من الاخلاق الستین المذمومۃ،جلد:1،صفحہ: 629)

آئیے حدیث مبارکہ سے اس کی مذمت پڑھتے ہیں:

(1) شب تجلی و مغفرت: عن عائشة رضی اللہ عنہ ا قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَطَّلِعُ عَلَى عِبَادِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِلْمُسْتَغْفِرِينَ، وَيَرْحَمُ لِلْمُسْتَرْحِمِينَ، وَيُؤَخِّرُ أَهْلَ الْحِقْدِ كَمَا هُمْ

ترجمہ:امُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث شریف میں ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایان شان) تجلّی فرماتا ہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرما دیتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے، جبکہ بغض و کینہ رکھنے والوں کو اُن کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‘‘(شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فی لیلۃ الخ، جلد: 3، صفحہ: 383، حدیث نمبر: 3835)

(2) مغفرت عام سوائے کینہ پرور کے: وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالٰى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهٖ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاھِنٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

ترجمہ: روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا : الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ،جلد:1،کتاب الصلٰوۃ ،باب قیام شھر الرمضان ، تیسری فصل ،صفحہ نمبر: 118،حدیث نمبر:1231 )

(3) مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں: عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’لَاتَحَاسَدُوْا وَلَاتَنَاجَشُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَايَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا، اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِـمِ، لَايَظْلِمُهٗ وَلَايَخْذُلُهٗ وَلَايَكْذِبُهٗ وَلَايَحْقِرُهٗ، اَلتَّقْوٰى هٰهُنَا ‘‘ وَيُشِيْرُ اِلٰى صَدْرِهٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ’’بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِ اَن يَّحْقِرَ اَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ حَرَامٌ دَمُهٗ وَمَالُهٗ وَعِرْضُهٗ ‘‘

ترجمہ: حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، قطع تعلقی نہ کرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو بھائی بھائی ہو جاؤ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رسوا کرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔آپ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں ہے،کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔(مسلم، كتاب البر والصلۃ والاٰداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقاره الخ، صفحہ نمبر:1064، حدیث:6541)

ان احادیث طیبہ سے یہ سبق ملا کہ بغض و کینہ مومن کے دل کے شایانِ شان نہیں۔ یہ وہ زہر ہے جو ایمان کی مٹھاس کو کھا جاتا ہے۔

دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو بعض و کینہ جیسی باطنی بیماریوں سے محفوظ فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ