عبدالمنان
(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
فون نمبر:
0306478043
جان لو
! جب انسان کو غصہ آتا ہے اور وہ اس وقت انتقام لینے سے عاجز ہونے کی وجہ سے غصہ پینے پر مجبور ہوتا
ہے تو اس کا یہ غصہ اس کے باطن کی طرف چلا جاتا اور قرار پکڑ لیتا ہے پھر کینہ کی
شکل اختیار کر لیتا ہے۔ کینہ کا معنی ہے : ” دل کا کسی کو بھاری سمجھنا اور ہمیشہ
کے لئے اس سے نفرت کرنا اور دشمنی رکھنا۔“
(1)نبی کے اصحاب سے محبت: حضرت فضیل بن عیاض
نے فرمایا کرتے تھے: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے معتبر عمل اصحاب نبی سے محبت ہے۔
اگر تو روز محشر روئے زمین کے برابر گناہ لے کر آیا تب بھی اللہ تعالیٰ تجھے معاف
کر دے گا لیکن اگر تو میدان محشر میں
صحابہ کرام سے ذرہ بھر بھی بغض لے کر آیا تو تجھے کسی نیکی کا کوئی فائدہ نہیں
ہوگا ۔(كتاب المتحابين فی الله لا بن قدامۃ المقدسی، ص: 28)
(2)اولیاء
سے بغض: حضرت ابوہریرہ
رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے ، اللہ پاک کے پیارے نبی ، مکی مدنی ، مُحَمَّدِ عربی
ﷺ نے فرمایا : اللہ پاک فرماتا ہے : جس نے میرے کسی ولی سے دُشمنی رکھی ، میں اسے
اِعْلانِ جنگ دیتا ہوں۔ بندہ جن ذرائع سے
میرا قُرْب حاصِل کرتا ہے ، اُن میں میرا سب سے پسندیدہ ذریعہ فرائض ( مثلاً نَماز
، روزہ ، حج ، زکوٰۃ وغیرہ ) ہیں اور میرا بندہ نوافِل کے ذریعے میرا قُرْب حاصِل
کرتا رہتا ہے ، کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ میں اس سے محبّت کرنے لگتا ہوں ، پھر جب
میں اس سے محبّت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں ، جس سے وہ سنتا ہے ، میں
اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں ، جس سے وہ دیکھتا ہے ، میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں ، جس
سے وہ پکڑتا ہے ، میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں ، جن سے وہ چلتا ہے ، اگر وہ مجھ سے
مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں ، اگر وہ میری پناہ لیتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا
ہوں۔ (بخاری ،ج4،ص248،حدیث:6502)
(3) بغض
رکھنے والوں سے بچو: اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، مُنَزَّهُ عَنِ الْعُيُوبِ
ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: ”اللہ عزوجل (ماه) شعبان کی پندرہویں رات ( اپنی قدرت کے
شایان شان) تجلی فرماتا ہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب
کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے
۔ ایک اور مقام پر ارشاد ” بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بعض دین کو مونڈ ڈالتا (یعنی
تباہ کر دیتا) ہے ۔ (كنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال الجزء : 3، ج 2 ص 27
حدیث: 5467)
(4)قبر
میں کالا بچھو : حضور نبی کریم رؤف رحیم ﷺ کے چچا حضرت سید نا عباس رضی
اللہ عنہ کی خدمت میں کچھ لوگ گھبرائے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے : ہم حج کی
سعادت پانے کے لیے نکلے تھے، ہمارے ساتھ ایک آدمی تھا، جب ہم ذاتُ الصِّفَاحُ کے
مقام پر پہنچے تو اس کا انتقال ہو گیا۔ ہم نے اس کے غسل و کفن کا انتظام کیا پھر
اس کے لیے قبر کھودی اور اسے دفن کرنے لگے تو دیکھا کہ اچانک اس کی قبر کالے
سانپوں سے بھر گئی ہے۔ ہم نے وہ جگہ چھوڑ کر دوسری قبر کھودی تو دیکھتے ہی دیکھتے
وہ بھی کالے سانپوں سے بھر گئی ، بالآخر ہم اسے وہیں چھوڑ کر آپ کی بارگاہ میں
حاضر ہو گئے ہیں ۔ یہ واقعہ سن کر حضرت سید نا عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد
فرمایا: ” یہ اس کا کینہ ہے جو وہ اپنے دل میں مسلمانوں کے متعلق رکھا کرتا تھا،
جاؤ ! اور اسے وہیں دفن کر دو۔(موسوعۃ ابن ابی الدنيا، كتاب القبور، ج6، ص 73،
رقم:127)
(5)
مغفرت سے محرومی: حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’لوگوں
کے اعمال ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیر اور جمعرات کے دن پیش کئے جاتے ہیں اور ہر
مسلمان بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے سوائے اس بندے کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ
رکھتا ہو۔ کہا جاتا ہے ’’اسے چھوڑ دو یا مہلت دو حتّٰی کہ یہ رجوع کر لیں۔ (مسلم،
کتاب البر والصلۃ والآداب، باب النہی عن الشحناء والتہاجر، ص1378، الحدیث:
34(2545))
Dawateislami